اردو یونیورسٹی کے سامنے پانی اور گٹر، طلبہ پریشان

کراچی (رپورٹ: سیدہ حمیرا فاطمہ) وفاقی اردویونیورسٹی گلشن کیمپس پارکنگ کی جگہ پر کچرااور گٹر کی وجہ سے طلبہ و طالبات کودشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آئے دن روڈ پر گٹر کا پانی بہتا رہتا ہے جس کی وجہ سے آنے جانے میں خاصی دشواری پیش آرہی ہے۔ نمائندہ کراچی اپ ڈیٹس سے بات کرتے ہوئے طالبہ نے بتایا کہ یہاں کچرے کے ڈھیر میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ یہاں سے گزرنے والی گاڑیاں انتہائی تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے گٹر کا پانی روڈکراس کرنے اور بس کے انتظار میں کھڑے طلبہ علموں پر اڑاتے ہوئے جاتی ہیں جس سے کپڑے خراب ہوجاتے ہے۔

Urdu university

کراچی اپ ڈیٹس سے بات کر تے ہوئے بی۔ایڈ کی ایک ٹیچرنے بتایا کہ یونیورسٹی   انتظامیہ نے اب تک کچرے کو ہٹانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کئے بلکہ انتظامیہ نے وہاں پر دو چار پتھر رکھ دیے جن سے چل کر روڈ کراس کیا جاسکے۔ انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ وہ اس کا مستقلی حل نکالتے اور فوری اقدامات کرتے ۔ اس سے یونیورسٹی کا نام بھی بدنام ہورہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بس کے انتظار میں کھڑا ہونا انتہائی اذیت کا باعث ہے کیونکہ گٹر ابلنے اور کچرے سے اٹھنے والی بدبو سے یہاں پر کھڑا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی گندگی کا سبب بن رہا ہے بلکہ بیماریوں کا سبب بھی بن رہا ہے۔

urdu university 3یونیورسٹی کے گیٹ پرموجود سیکورٹی اہلکارنے کراچی اپ ڈیٹس سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ”ہم نے صبح کے۔ایم۔سی کو بلایا تھا کہ یہاں سے کچرا اٹھیں لیکن ان کی گاڑی آئی اور کچرااٹھائے بغیر ہی چلی گی،انھوں نے مزید بتایا کہ ’’جس کو آپ اور دوسرے لوگ گٹر کا پانی سمجھ رہیں ہیں وہ پینے کا صاف پانی ہے،نیچے پانی کی پائپ لائن میں لیکیج ہے،ہمارے بار بار کہنے کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ پانی کی اس لیکیج  سےزمین کے اندر گڑھا بن رہا ہے اور زمین کمزور ہورہی اور یہ جو اتنے لاکھوں کروڑوں روپے لگا کر روڈ بنایا گیا یہ  سب برباد ہونے کا خدشہ ہے۔

urdu university 2

Top