Saturday, October 24, 2020
Home Trending جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سراج الحق، خورشید...

جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سراج الحق، خورشید شاہ ملاقات

khursheed-shah-siraj-ul-haqکراچی،         جماعت اسلامی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح طور پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک میں آئین توڑنے اور جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے مطالبات کے حل کے لئے آج اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کرکے مذاکراتی عمل کو فوری شروع کیا جائے گا تاکہ خود اسلوبی سے معاملات کو ڈائیلاگ پالیسی کے ذریعے حل کیا جاسکے۔ عمران خان اور طاہر القادری اپنے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن رہیں اور ریڈ زون کی حدود میں داخل ہونے سے گریز کریں۔

ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اتوار کو کراچی میں خورشید شاہ کی رہائش گاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال، تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں جاری دھرنوں، ان جماعتوں کے مطالبات اور اس معاملے کے حل کے لئے کی جانے والی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ موجودہ صورتحال خوش آئند تونہیں لیکن مایوسی بھی گناہ ہے، اسلام آباد کی صورتحال سے پوری قوم اور جمہوریت پسند عوام پریشان ہے اور ہر کوئی یہ سوال کررہا ہے کہ جمہوریت، آئین اور غریب عوام کا کیا بنے گا۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ہم سب کا فرض ہے کہ مل جل کر جمہوریت کو بچانے کی کوشش کریں کیونکہ موجودہ صورت حال کے باعث معیشت کا پہیہ جام ہوگیا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کریش ہوگئی ہے اور عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں۔ مارشل لاءکوئی اچھا تجربہ نہیں اور نہ ہی یہ مسائل کا حل ہے۔ ہم کسی بھی قیمت پر جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دینگے اور نہ ہی کسی کو آئین توڑنے دینگے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری کے کارکنان نے اسلام آباد میں دھرنا دیا ہوا ہے یہ سیاسی لوگ ہیں کوئی غیر ملکی افواج نہیں ہیں،جذبات کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ہو گا ، وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ مطالبات کے حل کے لئے مرکزی حکومت کو قربانی دینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات ہم سے یا اپوزیشن سے نہیں ہے بلکہ وفاقی حکومت سے ہے ،اگر انتخابی اصلاحات سے متعلق پہلے دن سے ہی کام کرلیا جاتا تو آج یہ دن نہیں دیکھنے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو لڑانا آسان کام ہے اور صلح کرانا مشکل ہے، 14 اگست کو منظر سے غائب افراد یہ تاثر دے رہے تھے کہ اسلام آباد میں خون خرابا ہو گا اور وہ لوگ کچھ لاشوں کا انتظار کر ر ہے تھے تاکہ وہ سیاسی مجاور بن سکیں تاہم ہم نے مل جل کر لاشوں کی سیاست کو روکا ،حکومت، تحریک انصاف اور عوامی تحریک سے بات کی جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے مارچ پرامن طریقے سے اسلام آباد پہنچے اور ابھی تک حالات پرامن ہیں اور وہ دھرنا دے کر بیٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اور طاہر القادری نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پرامن رہیں گے اور کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے کہ جس سے صورت حال بے قابو ہو اور حالات خراب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور عمران خان کی باتیں سنی ہیں اور اپنی طرف سے بحران کے حل کے لیے تجاویز دی ہیں، ہم کوشش کررہے ہیں کہ فریقین کا مو¿قف سن کر مسائل کے حل کے لئے درمیانی راستہ نکالا جائے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ بالکل مایوس ہیں لیکن مایوسی میں ہمارے لیے بہت سے خطرات ہیں کیونکہ ٹکراو¿ کے نتیجے میں جمہوریت کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور مارشل لاکا راستہ بن سکتا ہے اس لیے ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے رابطہ کیا ہے اور خوشی ہے کہ ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ اس بحران کا کوئی سیاسی حل نکلے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پیر کو اسلام آباد جائینگے جہاں تمام افراد سے ملاقاتیں کرینگے میں پرامید ہوں ،مجھے اندھیرے کے بجائے روشنی نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت ساری چیزیں ابھی بتانے کی نہیں ہیں۔ جہاز نے لینڈ کرلیا ہے۔ اب رن وے پر آگیا ہے۔ اس کے رکنے کا انتظار کریں۔ 50 فیصد کام ہوگیا ہے۔ باقی 50 فیصد کام کرکے انشاءاللہ معاملہ حل کرلیں گے۔

اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا کہ جمہوریت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی غیر آئینی اقدام کو قبول کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا ایجنڈا بنائیں گے جس پر سب متفق ہوں۔ اس کو عمران خان اور طاہر القادری بھی مانیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اہم سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ملک میں جمہوریت چاہتی ہیں۔ ہم آئین اور جمہوریت کی حفاظت کے لئے ہر کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچوں کا کھیل نہیں کہ روز روز آئین توڑ دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ معاملات بہتر ہو جائیں گے، عمران خان اچھے اور سمجھ دار سیاستدان ہیں، کوئی ایسی بات نہیں ہوگی جس سے عوام کو شرمندگی ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کام کرتی رہے تو سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ عمران خان نے ہمیں پ±رامن رہنے کا یقین دلایا تھا، جمہوریت اور جمہوری اداروں کے تحفظ کیلئے مل کر کوشش کرنا ہوں گی اور اس حوالے سے حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

نقلی وزیراعظم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ

کراچی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے اپنی ڈھائی سالہ ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ کا صحافیوں سے گفتگو...

رینجرز کی کارروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

کراچی، سندھ رینجرز کی کارروائی 2 اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالمجید اور...

ملازمت کی مستقلی، نرسوں کا دوسرے روز بھی مظاہرہ

کراچی، ملازمت کی مستقلی اور دیگر مطالبات کی منظوری کےلئے نرسوں کا پریس کے کلب کے باہر احتجاج کا دوسرا روز،...

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کو مل گئی

،کراچی، کرکٹ کے دیوانوں کے لئے خوشخبری، پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کے حوالے، لاہور میں اسموگ...