Saturday, October 24, 2020
Home کالم /فیچر ایک قوم، ایک قومی زبان۔۔۔ وہی سب کی پہچان (حفیظ خٹک)

ایک قوم، ایک قومی زبان۔۔۔ وہی سب کی پہچان (حفیظ خٹک)

7-6-2011_485_l.gifسچ تو ہے کہ ہماری قومی زبان اردو ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ یہی اردو ہمارے ملک کے آغاز سے اب تک سمجھنے، بولنے اور دیگر تمام ہی مکافات عمل کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ قیام پاکستان سے آج تلک اردو کی جو بھی صورت حال رہی اس سے انکار تو کیا گیا لیکن اس کی افادیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ قیام پاکستان کے بعد کی صورتحال ہاں یکسر مختلف تھی کہ قائد اعظم کے بارہا کہنے کے باوجود اس زبان کو قومی زبان کا درجہ نہیں دیا جاسکااور نہ ہی اس مقام پر پہنچایا جاسکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ سازشوں سے وقت کے حالات و واقعات و دیگر عناصر بھرے پڑے تھے لہذا ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات قابل ذکر ہونے کے ساتھ قابل غور بھی رہی کہ حالات کے سہنے، سمجھنے کے باوجود دیگر سیاسی رہنمائوں کے ساتھ مل کر اردو زبان کو پس پشت اور انگریزی زبان کو سردست رکھ دیا گیا۔
اس کے بعد جس انداز میں دیگر مسائل میں حکمران، سیاستدان اور کسی حد تک عوام ملک کے مسائل کو حل کرنے میں لگے رہے، اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرتے رہے اور انہی جیسے ان گنت دیگر عوامل سے بھی گذرتے رہے تو ان سب کی موجودگی کے باعث قوم، بحیثیت مجموعی قومی زبان کو کسی حد تک بھول گئی اور انگریزی زبان میں قومی سطح سمیت عالمی سطح پر معاملات کو اجاگر کرنے اور انہیں حل کرنے کی کاوشیں جاری رہیں۔ جس سے یہ بھی ہوا کہ انگریزی کو ملک میں خاص اہمیت دی جانے لگی اور تعلیمی میدانوں سمیت دیگر راہدریوں میں اس زبان کو اک سطح پر معین کیا جانے لگا۔ اردو زبان جو اہمیت اور خاصیت رکھتی تھی اسے ایک طرف ہی رکھا گیا۔ صوبوں میں بولی جانے والی دیگر زبانوں سمیت اور دیگر علاقائی زبانوں کی اہمیت بھی انگریزی زبان کے مقابلے میں پس پشت رکھی جاتی رہیں۔ ان کے اثرات اس وقت اس انداز میں سامنے آتے رہے کہ بولی تو اردوزبان جاتی رہی لیکن لکھائی انگریزی زبان جاتی رہی ۔ اس بولی جانے والی زبان کے ساتھ ملک میں بولی جانے والی دیگر زبانوں کے کسی حد تک ساتھ کو شامل کیا جاتا رہا لیکن ان تمام تر کے باوجود اہمیت انگریزی کو ہی دی جاتی رہی۔
Supreme_Court_of_Pakistan,Islamabad_by_Usman_Ghaniبارہا اردو کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اسے ملک میں اہم مقام دلانے کے ساتھ قومی سطح پر قوم کی واحد پہچان بنانے کیلئے چھوٹی بڑی تحریکوں سمیت مختلف مجلسیں، قراردادیں اور دیگر اقدامات ہوتے رہے ، جس سے وقتی طورپر بڑا فائدہ محسوس کیا جاتا رہا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ان حاصل ہونے والے فائدوں کو وصول نہیں کیا جاسکا اور نہ حاصل کیا جانے دیا گیا۔
ایک اور حقیقت بھی اس وطن عزیز کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے کہ انگریزی زبان کو سکھانے کیلئے اک انقلاب کی صورت میں کام کئے جاتے رہے، ٹیوشن سینٹرز، ٹریننگ سینٹر، اور انہی جیسے ان گنت دیگر ادارے ایسے قائم ہوئے جن میں انگریزی بولی اور سکھائی جاتی تھی لیکن اس تمام تر انقلاب کے باوجود، تمام تر کاوشوں کے باوجود جب اس ملک میں اخبارات کا اک سلسلہ شروع ہوا تو اردو کے اخبارات ، انگریزی کے اخبارات سے کہیں زیادہ تھے۔ عوامی سطح پر ترویج ، تشہیر کے ساتھ کامیابی بھی اردو اخبارات کے حصے میں آئی۔ یہ سلسلہ جب ٹی وی چینلز تک آیا تو بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔ ٹی وی چینل کھولتے گئے، کھلتے چلے گئے ہاں یہ بھی ہوا کہ ان میں چند ایک انگریزی کے ٹی وی چینلز بھی سامنے آئے لیکن پھر یہ بھی ہوا کہ ان انگریزی کے چینلزکے ناظرین کی تعداد کم سے کم تر ہوتی گئی اور پھر ایک وہ وقت بھی آیا کہ وہ انگریزی کے چینل بلاآخر بند کرنے پڑے۔ دوسری جانب اردو کے اخبارات اور ٹی وی چینل کی اہمیت اور افادیت نہ بڑھی اور بڑھتی ہی رہی اور اس وقت حال میں بھی یہی صورتحال ہے۔ نشرواشاعت کے ساتھ قومی سطح پر آج بھی اردو کو جو اہمیت حاصل ہے وہ ملکی کی سابقہ تاریخ سے بڑھ کر ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اردو پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی ایک مقام پر پہنچ جائے گی۔ ہاں یہ بہت ضروری ہوگا کہ اس وقت کے حکمران اردو کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے اپنے حصے کا کردار اداکریں۔ ایسا کردار ان کیلئے ازحد ضروری ہے۔
urduاپنے تئیں اپنے حصے کا کردار ملک میں موجود عدالتی نظام کی جانب سے کسی حد تک کر دیا گیا، جب ان کی جانب سے یہ اعلان کسی مقدمے کو سننے کے بعد اس کے متعلق فیصلہ صادر کرتے ہوئے یہ کہا گیا کہ اردو کو قومی زبان کی حیثیت سے اہمیت دی جاتے ہوئے اسے ملک کے ہی تمام دیگر نظاموں میں بھی لاگو کرتے ہوئے عملی اقدامات کئے جائیں۔ عدالت کا فیصلہ آچکا اور اسے سننے کے بعد اس جانب عمل بھی کرنا شروع کردیا گیا اب یہ دیکھنا، سمجھنا اور عملیات کا ہوتے دیکھنا ایک الگ ہی نہیں اک طویل دورانئے کا قصہ ہوگا۔ پچاس سے زائد برس گذر جانے کے باوجود اردو کو وہ اہمیت نہ دی جاسکی لیکن اب اس فیصلے کے بعد اہمیت کے ساتھ ساتھ اسے ایک اعلی مقام تک پہنچانا ایک بالکل ہی الگ نوعیت کا حصہ ہوگا۔
امید رکھی جاسکتی ہے کہ اردو کے حوالے سے مذکورہ عدالتی فیصلے کے متعلق اقدامات کا جلد آغاز ہوگااور اردو کو ملک میں ہی نہیں بین القوامی سطح پر بھی اجاگر کرنے اور اس کی اہمیت اور افادیت بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائینگے۔
حفیظ خٹک
Biographical Info

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

نقلی وزیراعظم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ

کراچی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے اپنی ڈھائی سالہ ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ کا صحافیوں سے گفتگو...

رینجرز کی کارروائی،2 اسٹریٹ کرمنلز گرفتار

کراچی، سندھ رینجرز کی کارروائی 2 اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزمان گرفتار، ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت عبدالمجید اور...

ملازمت کی مستقلی، نرسوں کا دوسرے روز بھی مظاہرہ

کراچی، ملازمت کی مستقلی اور دیگر مطالبات کی منظوری کےلئے نرسوں کا پریس کے کلب کے باہر احتجاج کا دوسرا روز،...

پی ایس ایل کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کو مل گئی

،کراچی، کرکٹ کے دیوانوں کے لئے خوشخبری، پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کی میزبانی کراچی کے حوالے، لاہور میں اسموگ...