Saturday, October 31, 2020
Home کالم /فیچر جشن آزادی (عقیل خان)

جشن آزادی (عقیل خان)

14 اگست آزادی کا دن ( Independenc day ) jassan e azadiانتہائی جو ش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان 1947 ءمیں برطانیہ اور ہندوو¿ں سے آزاد ہو کر معرض وجود میں آیا۔ 14 اگست کا قومی تہوار پاکستان میں سرکار ی سطح پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔تمام پاکستانی اس روز اپنا قومی پرچم فضاءمیں بلند کرتے ہوئے اپنے قومی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پورے ملک میں ہر طرف سبز ہلالی جھنڈیاں اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں۔شام میں جشن چراغاںمنایا جاتا ہے۔

14 اگست 1947ءکو جب آزادی کی دولت نصیب ہوئی اس وقت کا جذبہ آج کہیں نظر نہیں آتا. اس وقت ہم ذات پات، علاقے اور لسانی گروہوں کی بجائے ایک ملت تھے جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر اکٹھے تھے ۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر برصغیر کے مسلمان ایک ہوئے جس کے باعث ہمیں الگ وطن ملا. لیکن آج وہ جذبہ میسرنہیں ہے۔ ہم نے اللہ کی رسی کو چھوڑ دیا اور صوبائیت، لسانیت اور قومیت کے علم بردار بن گئے ہیں۔ کل ہم نے اللہ سے وعدہ کیا کہ ہمیں ایک الگ خطہ زمین مل جائے تو ہم اس میں اسلام کے مطابق قانون سازی کریں گے اور اسلامی قوانین کا نفاذ کریں گے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
”ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلا م کے اصولوں کو آزما سکیں“۔

jassan e azadi1مگر آج ہم اپنے اللہ ، رسول ، کتاب کے ساتھ ساتھ اپنے قائد کے فرمان کو فراموش کرچکے ہیں۔ آج ہم اسلامی اصولوں کی بجائے یہودی کے بنائے ہوئے اصولوں کے تابع ہیں۔ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں نے صرف اللہ کے نام کی خاطر اپناگھر بار، جائیدادیں چھوڑیں، ہزاروں لوگ شہید ہوئے، ماو¿ں اور بہنوں کی عصمتیں لٹیںصرف اس لئے کہ ایک ایسا خطہ زمین حاصل کیا جائے جہاں اپنے دین اسلام کے مطابق زندگی گزارسکیں ۔جب لوگ ہجرت کرکے پاکستان پہنچے تو یہاں پر موجودمسلمان بھائیوں نے ان کوآگے بڑھ کرنہ صرف گلے لگایابلکہ ان کے زخموں پر مرہم بھی رکھا۔

پاکستانی قوم کو یومِ آزادی مبارک ہو۔لیکن یوم آزادی منانے سے پہلے ہم سوچ لیں کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ کیا بحیثیت ملک ہم آزاد ہیں کہ اپنی خارجہ پالیسی خود بنا سکیں؟ کیا ہماری پارلیمنٹ اتنی آزاد ہے کہ وہ قیامِ پاکستان اوراسلام کے مطابق قانون سازی کرسکے؟کیا ہماری افواج اتنی آزاد اور خود مختار ہیں کہ وہ اپنی سرحدوںکی حدود میں گھس کر شہریوں کو قتل کرنے والے ڈرون طیاروں کو تباہ کرسکے؟قائد کے اس وطن کی خاطر میں تو یہ اشعار ہی پیش کرسکتا ہوں ۔
بے باکی و حق گوئی سے گھبراتا ہے مومن        مکاری و روباہی پہ اتراتا ہے مومن
جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کا ڈر ہو        وہ رزق بڑے شوق سے کھاجاتا ہے مومن

jassan e azadi2اللہ تعالیٰ قرآن پاک میںارشاد فرماتے ہیں کہ ” اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو“ لیکن بدقسمتی سے ہم نے چھوڑی تو صرف اللہ کی رسی اور دنیا کی تمام رسیاں اور علم کو تھام لیاہے۔ آج ہم تفرقے میں نہیں بہت سے ”تفرقوں “ میں بٹے ہوئے ہیں۔آج ہم ایک مسلمان ہونے کے بجائے وہابی ، دیوبندی ،بریلوی، شیعہ اورسنی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیںاور یہی نہیں ان مسالک میں بھی اپنے اپنے مفادات کی خاطر تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے ۔ پھر انہیں فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہےں۔ کیا اسلام ایک دوسرے کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے؟ مگر ہم اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے اپنے پاکستان (جو تمام دنیا کے لیے اسلام کا قلعہ سمجھا جاتا ہے اور واقعتاً ہے بھی )میں اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی بجائے کافروں کا طرزعمل اپنا رہے ہیں۔ قائد کے اس دیس میںطے شدہ منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی جارہی ہے، ٹارگٹ کلنگ ہورہی ہے، ایک دوسرے کی املاک کو نقصان پہنچا یا جارہا ہے۔بقول شاعر
جھگڑے ہیں یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے        اگتے ہیں تہِ سایہ گل خار غضب کے
یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی                اس کے تنِ خستہ پہ تو اب دانت ہیں سب کے

14اگست کے دن پاکستان بھر میں مختلف مقامات پر تقریبات ہوتی ہیں۔اس دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے کیا جاتا ہے ۔ صدر پاکستان اور وزیراعظم قومی پرچم بلند کرتے ہوئے اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ ہم اس پرچم کی طرح اس وطن عزیز کو بھی عروج و ترقی کی بلندیوں تک پہنچائیں گے۔مگر یہ عہد صرف زبانی کلامی ہوتا ہے اس عہد پر عمل نہیں ہوتا۔ آج پاکستان کوقائم ہوئے 66برس ہوگئے ہیںمگر آج کل جو دور گزررہا ہے وہ میں بیان نہیں کرسکتا اور بد قسمتی سے اپنوں کی مہربانیوں اور غیروں کی ریشہ دوانیوں سے ہر آنے والا دن نئی آفات اور پریشانیاں لے کر داخل ہوتا ہے ۔ ہر طرف قتل وغارت ہورہی ہے جیسے قیام پاکستان کے وقت ہوئی تھی۔

ان تقاریب کے علاوہ نہ صرف صدارتی اور پارلیمانی عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے بلکہ پورے ملک میں سرکاری اور نیم سرکاری عمارات پر بھی سبز ہلالی پرچم پوری آب و تا ب سے لہرایا جاتاہے۔ جشن آزادی کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔یوم آزادی کے موقع پر ریڈیواور ٹیلی ویژن پر خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں ۔ ملی نغمے پیش کیے جاتے ہیں۔اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والے نظر نہیں آتے اور ناچ گانے والوں کو ہیروبنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

jassan e azadi3عوام اپنے حکمرانوں ، سیاستدانوں، بیوروکریٹوں، علماءاکرام، تاجروں، صنعتکاروں اور اساتذہ سے ”قائداعظم کا پاکستان” مانگتی ہے۔ جہاں فیصلے ملک کے مفاد میں ہوتے ہوں۔ جہاں میرٹ کو ہر دوسرے عمل پر ترجیح حاصل ہو۔ جہاں قانون کی پابندی امیر غریب کے لئے یکساں ہو۔ جہاں اسلام کے مطابق زندگی گزاری جائے اور اسلامی قوانین اپنائے جائیں۔

دعا ہے کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے کہ وہ پاکستان کو اسطرح کا پاکستان بنا دے جس کا خواب ہمارے قائد نے دیکھا تھا۔ جہاں پر صرف اور صرف اسلام کی حکمرانی ہواور ہر طرف خوشحالی و ترقی ہو۔آخر میں پاکستان کی سسکتی اور تڑپتی قوم کو آزادی کی مبارک ہو۔دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دے ۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ میں کورونا سے5 افراد جاں بحق، 237 متاثر

راچی: صوبہ سندھ میں عالمی وبا کورونا وائرس سے 5 افراد جاں بحق جب کہ مزید 237 افراد متاثر ہوئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ...

ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول

کراچی: ٹریفک پولیس پر حملے کی دھمکیاں ملنے کے بعد تمام افسران و اہلکاروں کو بلٹ پروف جیکٹس پہننے کی ہدایات جاری...

گاڑیوں کی ٹکر سے نیوی افسر سمیت3 اہلکار جاں بحق،پولیس اہلکار زخمی

کراچی: گلشن اقبال ابوالحسن اصفہانی روڈ پر تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا، ریسکیو حکام کے مطابق...

کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبیﷺ کا بڑا پروگرام

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر کراچی سینٹرل جیل میں عید میلاد النبی ﷺ کا بڑا پروگرام منعقد...