Thursday, October 22, 2020
Home اسلام رمضان کے بعد کا روزہ (حافظ عاکف سعید)

رمضان کے بعد کا روزہ (حافظ عاکف سعید)

 ramzanنیکیوں کا موسم بہار رخصت ہو چکا ہے۔ مبارکباد کے مستحق ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس ماہ مبارک سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ جنہوںنے شرائط و آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے اس ماہ کے روزے رکھے اور اس کی راتوں میں قرآن مجید کے پڑھنے اور سننے سنانے کا اہتمام کیا۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کی کوششوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ رمضان ہمارے لئے اضافی نیکیاں کمانے کا مہینہ تھا۔ اس کی بہت سی برکات تھیں جن سے مسلمانوں نے اپنے اپنے انداز سے فائدہ اُٹھایا۔ آئیے‘ رمضان کا سبق اپنے ذہن میں تازہ کر لیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ روزے کی عبادت کا حاصل تقویٰ ہے۔ قرآن حکیم میں جہاں روزہ کی فرضیت کا ذکر آیا ہے، وہیں آخر میں اُس کی حکمت {لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}کے الفاظ سے واضح فرما دی گئی ہے۔ یعنی روزہ کے ذریعے اللہ تمہارے اندر تقویٰ اورخدا خوفی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تقویٰ کیا ہے؟ یہ لفظ جتنا عام اور بکثرت استعمال ہوتا ہے، اتنا ہی اُس کے مفہوم کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ تقویٰ کا تعلق ایک خاص طرح کے لباس اور وضع قطع سے ہے جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ تقویٰ کا اصل تعلق انسان کے باطن اور قلب سے ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ((اَلتَّقْویٰ ھٰھُنَا)) ’’تقویٰ یہاں (دل میں) ہوتا ہے‘‘۔ اسی کو خدا خوفی کہتے ہیں۔ تقویٰ کا جوہر بچنا ہے۔ یہ بچنا کس چیز سے ہے؟ اس کا جواب بہت واضح ہے۔ جن چیزوں سے اللہ نے روک دیا ہے، اُن سے بچنا۔ جن چیزوں کے بارے میں فرما دیا کہ یہ ممنوع ہیں، یہ حرام ہیں، اُن سے رُک جانا۔ جو کام اللہ کو پسند نہیں اُن سے اجتناب کرنا۔ جب ہم نے اللہ کو اپنا آقا اور رب مان لیا تواب ہمارا کام یہ ہے کہ آقا کی اطاعت کریں، اُس کے آگے سر جھکا دیں ،جس چیز سے وہ روک دے اُس سے رُک جائیں۔ ورنہ یہ بڑی عجیب بات ہو گی کہ ہم اپنے کسی نوکر اور خادم کے بارے میں تو یہ تصور رکھیں کہ وہ ہماری ہدایات پر پورا پورا عمل کرے اور ہم نے جس چیز سے اُسے روک دیا ہے اُس سے رُک جائے‘ بصورت دیگر ہم اُسے سخت ترین سزا دینے کے مجاز ہیں، مگرہم خود اپنے مالک حقیقی کے غلام ہونے کے باوجود اُس کی منع کردہ چیزوں سے نہ رُکیں اور اُس کے احکامات کو دھڑلے سے توڑتے رہیں ۔یہ روش تقویٰ کے سراسر منافی ہے۔

تقویٰ کا اصل مفہوم گناہ،نافرمانی اور ممنوعات سے اجتناب کرنا ہے۔ پھر اُس میں اُن     ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائی بھی شامل ہے جو اللہ نے ہم پر عائد کی ہیں۔ اگر آپ اِن ذمہ داریوں اور فرائض کو ادا نہیں کرتے تو یہ بھی گناہ ہے، اور تقویٰ کے منافی ہے۔ مثلاًاللہ نے نماز فرض کی ہے، لیکن آپ نماز نہیں پڑھتے تویہ گناہ کبیرہ ہے۔ اِسی طرح دیگردینی ذمہ داریاں جیسے دعوت دین، شہادت علی الناس اگر آپ ادا نہیں کرتے تو گویا تقویٰ کا تقاضا پورا نہیں کرتے۔ اللہ کو رب مان کر اُس کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو ادا نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے رب کو فی الواقع رب نہیں مانا بلکہ رب کا مقام اپنی عقل یا نفس کو دے دیا ہے۔ بہر کیف تقویٰ کا بنیادی مفہوم گناہ، معصیت، نا فرمانی، اور اللہ کے حکم کو توڑنے سے بچنا ہے۔ لیکن وسیع تر مفہوم میں کسی بھی معاملے میں اللہ کی نا فرمانی سے بچنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی اطاعت بجا لانا ہے۔ چنانچہ تقویٰ کے حوالے سے ہمیں اولین مرحلے میں گناہ اور حرام کام سے رُکنا ہے اور اس کا لٹمس ٹیسٹ سورۃ البقرہ کے 23 ویں رکوع کے آخر میں مال کے معاملے میں بد عنوانی سے بچنا آیا ہے۔ فرمایا:
(ترجمہ)  ’’اور ایک دوسرے کا مال نا حق نہ کھائو اور نہ اس کو (رشوۃً) حاکموں کے پاس پہنچائو۔ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ نا جائز طور پر نہ کھا جائو اور(اسے) تم جانتے بھی ہو۔‘‘

اِس رکوع میں روزے کے احکام و مسائل کا بیان آیا ہے، اور اس کے آخر میں مالیاتی معاملات کے ضمن ہدایات دی جا رہی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ ان ہدایات کا تعلق روزے سے نہیں ہے، لیکن والد محترم ڈاکٹر اسرار احمدرحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کا روزے سے گہرا تعلق ہے۔ وہ اس طرح کہ ابتدائے رکوع میں روزے کی غرض و غایت تقویٰ بتائی گئی ہے، اور آخری آیت میں تقویٰ کے ایک اہم ٹیسٹ مالی بد عنوانی سے بچنے کا تذکرہ ہے۔ یعنی اگرواقعی تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہو گیا ہے تو اُس کو جانچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنا جائزہ لو کہ تم مالی معاملات میں بدعنوانی سے بچتے ہو یا نہیں۔ سودی لین دین، رشوت اور دوسروں کا مال نا حق کھانے سے اجتنا ب کرتے ہو یا ان گناہوںمیں ملوث ہوتے ہو۔ تمہارے مالی معاملات سے معلوم ہو گا کہ تمہارے اندر خدا خوفی اور تقویٰ ہے یا نہیں ہے۔ ایک شخص تہجد گزار ہے، اوراس نے لمبی داڑھی رکھی ہوئی ہے، لیکن اگر وہ  بد دیانتی، رشوت خوری اور سودی لین دین میں ملوث ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تقویٰ سے محروم ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آدمی میں تقویٰ ہو اور وہ رشوت دے کر نا جائزمقصد حاصل کرے اور دوسرے کا حق مارے ۔

ramzan1مالی معاملات میںبد عنوانی اور حرام خوری کی ہمارے دین میں اس قدر شناعت آئی ہے کہ ایسے لوگوں کی دعائوں کی قبولیت کی نفی کی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ h بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاکیزہ چیزوں کو پسند کرتا ہے اس نے اہل ایمان کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے: اے رسولو، پاکیزہ چیز میں سے کھائو اور نیک عمل کرو، تم جو عمل کرتے ہوبے شک میں اس کا علم رکھتا ہوں۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: اے ایمان والو، ہم نے تمہیں جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اس میں سے کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو اور تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو طویل سفر کرے اور اس کے بال بکھرے ہوئے اور غبار آلود ہوں، پھر وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف کر کے دعا کرے اے میرے پروردگار، اے میرے پروردگار! جبکہ اس کا کھانا حرام ہو، اس کا لباس حرام اور اس کا پینا حرام ہو، اس کو حرام کے ذریعے غذا پہنچائی گئی ہو تو اس کی دعا کیسے قبول ہو گی۔‘‘(سنن دارمی)بھائیو، ہمارے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب حرام میں ملوث ہونے والے شخص کی دُعا قبول نہیں ہوتی تو پھر کون سا عمل اللہ کے ہاں قبول ہو گا۔

روزے اور اُس کے حاصل تقویٰ کے حوالے سے مولانا ابو الحسن علی ندوی نے بڑی پیاری بات اپنے کتابچے ’’دو روزے‘‘ میں لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ روزہ دو طرح کا ہے۔ ایک روزہ تو رمضان کا ہے جو آدمی صبح سے شام تک رکھتا ہے۔یہ روزہ رمضان کے ساتھ ہی مکمل ہو جاتا ہے، لیکن ایک دوسرا روزہ بھی ہے۔ یہ رمضان کا روزہ نہیں، پوری زندگی کا روزہ ہے۔ رمضان کے روزے کا افطار روزہ دار شام کے وقت کرتا ہے لیکن پوری زندگی کا روزہ موت پر ہی ختم ہوتا ہے۔ یہ روزہ زندگی کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ اوریہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ انسان پوری زندگی اُن چیزوں سے رُکا رہے جن سے اللہ نے منع کیاہے۔ ماہ رمضان میں آپ صبح سے شام تک کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے بچتے ہیں اور یوں ایک طیب اور جائز کام سے بھی اللہ کی رضا کی خاطر رکتے ہیں۔ رمضان کے روزہ کی یہ ٹریننگ سال کے بقیہ گیارہ مہینے گناہوں اور اللہ کی نا فرمانی سے بچنے کے لئے ہے۔ رمضان کے روزہ کی پابندیاں تو محدود وقت کے لئے ہیں لیکن جو چیزیں شریعت نے حرام کر دی ہیں، وہ مسقلاً حرام ہیں۔ مثلاً موسیقی ہر صورت میں حرام ہے۔ بے پردگی ہر صورت گناہ ہے۔ فحاشی و عریانی ہر صورت میں اللہ کے غضب کو بھڑکانے والی شے ہے، چاہے یہ شادی بیاہ کے موقع پر ہو یاجشن اورتہواروں کے مواقع پر۔ یوں تقویٰ کے حوالے سے رمضان کے روزہ کا پوری زندگی کے ساتھ رشتہ جڑ جاتا ہے۔بہرکیف اگر ہم گناہوں اور منکرات سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ نے ہم پر جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں اگراُن کو ادا نہیں کر رہے تو یہ بھی تقویٰ کے منافی ہے۔ اس لئے کہ یہ بھی اللہ کی نا فرمانی ہے۔ مثلاً اللہ نے ہم پر نمازفرض کی ہے۔ ہمیں امر باالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے۔ اُس نے جہاد ہم فرض کیا ہے۔ یعنی راہ حق میں اپنی توانائیاں،اپنی صلاحیتیں، اپنے اوقات اور اپنا جان و مال لگانا۔ جہاد ہی کی بلند ترین منزل قتال ہے، مگریہ   ہر وقت فرض نہیں ہوتا۔البتہ جہاد بمعنی جدوجہد ہر وقت فرض ہے۔ قرآن کہتا ہے: ’’اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کا حق ہے۔‘‘(الحج۔۷۸)

اگر ہم جہاد نہیں کرتے تو یہ بھی تقویٰ کے خلاف ہے۔ جہاد ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ سورۃ الحجرات میں فرمایا گیا کہ مومن تو صرف وہ لوگ ہیں جو ایمان لائیں اللہ اور اُس کے رسولؐ پر اور پھر شک میں نہ پڑیں اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کریں۔(آیت :15 ) یعنی سچے اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ اللہ کی راہ میں، اُس کے دین کی اشاعت اور نفاذ کے لئے اپنی توانائیاں خرچ کریں، اپنے وسائل خرچ کریں، اس راستے میں سختیاں اور مشکلات برداشت کریں۔ مکی زندگی میں یہی جہاد ہو رہا تھا۔آج مسلمانوں میں عام تصور یہ ہے کہ ہمارے پاس جو وقت ہے یہ دنیا کمانے اور دنیا کو بہتر بنانے کے لئے ہے، مگر ایک بندہ ٔمومن کا تصور یہ نہیں ہوتا۔ اگرچہ تلاش معاش کے لئے بھاگ دوڑ اورتگ ودو وہ بھی کرتا ہے، مگر اُس کی اصل توانائیاں جہاد فی سبیل اللہ اور شہادت حق کے فریضے کی ادائی میں لگتی ہیں، امربالمعروف و نہی عن المنکر میں خرچ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں یہ کام بہر صورت کرنا ہے۔ پہلے تو یہ کام ہمیںزبان سے کرنا ہے، اور جب طاقت حاصل ہو جائے تو پھر قوت سے برائی اور غلط نظام کا راستہ روکنا ہے۔ یہ ہمارا فرض منصبی ہے۔ افسوس کہ ہم اِس سے غافل ہیں۔ہمیں اس کا شعورہی نہیں۔

چھوٹے چھوٹے مسئلوں تو میں ہم بڑے حساس ہوتے ہیں۔ مثلاً نماز میں ہاتھ کہاں باندھناہیں۔رفع یدین کرنا ہے یا نہیں؟ تراویح کی کتنی رکعات ہیں ؟لیکن اپنی اصل ذمہ داری اوربحیثیت امت اپنے مشن کی جانب ہماری کوئی توجہ نہیں۔ مسلمانان پاکستان ہی کے حال پر غور کرلیجئے کہ پوری قوم بغاوت کے راستے پر چل رہی ہے، مگر ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں۔ پوری قوم نے سودی معیشت اختیار کر کے اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ چھیڑ رکھی ہے، لیکن ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے مشن اور  ذمہ داریوں کا شعور حاصل کریں ۔لوگوں تک دین کا پیغام پہنچائیں، غلبۂ دین حق کے لئے اپنی صلاحیتیں لگائیں۔ راہ حق میں جدوجہد کا آغاز دعوت سے ہو گا، اگرچہ پھر وہ مرحلہ بھی آئے گا جب یہ جدوجہد تصادم تک بھی پہنچے گی، لیکن پہلے ہی مرحلے میں تلوار ہاتھ میں لے لینا، یاآج کے دور میں بغیر تیاری کے عوامی تحریک برپا کردینا صحیح نہ ہو گا۔ نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے مکی دورمیں جو دعوت کا دور ہے ہمیں قرآن کے ذریعے جہاد نظر آتا ہے۔ آپؐ کو حکم تھا کہ {وَ جَا ھِدْ ھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًاo}(الفرقان :52 ) یعنی ’’اُن سے اِس قرآن کے ذریعے بڑا جہاد کریں۔‘‘ تو ہمیں بھی غلبۂ دین کی جدوجہد کے پہلے مرحلے میں دعوت دینی ہے، اور قرآن کے ذریعے جہاد کرنا ہے۔قرآن کے ذریعے لوگوں پر واضح ہو گا کہ اُن کی دینی ذمہ داریاں کیا ہیںاور مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے۔

ramzan2افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اس بات پرتو خوش ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے کہ ہمیں قرآن میں ’’خیرامت ‘‘کہا گیا ہے، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ   کتاب اللہ میں جہاں ہمیں یہ لقب دیا گیا ہے وہیں ہماری ذمہ داری امر بالمعروف و نہی عن المنکربھی بتائی گئی ہے۔آج مسلمان اِس سے بے گانہ ہیں،بلکہ انہیں اس کا شعور ہی نہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ منبر و محراب سے بھی مسلمانوں کو اُن کی ذمہ داریاں یاد نہیں کرائی جاتیں۔ ہم اس بات کے تو امید وار بنتے ہیں کہ حضورﷺ ہماری شفاعت فرمائیںگے لیکن وہ عظیم مشن جو آپؐ نے ہمارے حوالے کیا ہے، اُس سے مجرمانہ غفلت کوہم نے شعار بنا رکھا ہے‘اور اللہ کے دین اوررسول اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کو پائوں تلے روند رہے ہیں۔ یہ عجیب بات ہو گی کہ ہم اپنا سارا وقت، صلاحیتیں، دنیا کمانے میں لگائیں اور دجالی فتنے کے سیلاب میں بہہ کر دنیا داری ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیں اور اس خیال سے کہ ہماری شفاعت ہو جائے گی، نیک بننے اوربحیثیت امت اپنے مشن کو ادا کرنے کی چنداں ضرورت محسوس نہ کریں۔

یہودی یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے چہیتے اور لاڈلے ہیں۔لہٰذا جنت ہمارے ہی لئے ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگرفی الواقع ان کو اس بات کا یقین ہے تو پھر انہیں چاہیے کہ موت کی تمنا کریں، لیکن یہ ایسا  ہر گز نہ کریں گے۔ یہ لٹمس ٹیسٹ ہمارے لئے بھی ہے۔ہمیں دنیا کی بجائے آخرت کی فوز و فلاح کو مقصد بنانا ہوگا۔ اگر ہمارے دل میں اللہ سے ملاقات کا شوق ہے، اور ہم دینی ذمہ داریوں کو ادا کر رہے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے فی الواقع آخرت کو مطلوب بنایا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے،تو پھر اپنے آپ کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ آئیے آج ہی سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی سے حرام، کو باہر نکال دیں گے۔ معیشت ،معاشرت اور معاملات میں منکرات سے بچیں گے، ہم سے دینی ذمہ داریوں کی ادائی میں جو کوتاہی ہو رہی ہے اس کا ازالہ کر کے ان کی ادائی کی کوشش شروع کر دیں گے۔ہمارے جسم و جان اور مال و اوقات کا ایک حصہ دین کے لئے لگے گا۔بحیثیت امت ہمیں شہادت علی الناس کا جو مشن سونپا گیا ہے اُس کو آگے بڑھانے اور دین کو غالب کرنے کی جدوجہد میں عملاً شریک ہوں گے۔ چونکہ یہ مشن رسول اکرمﷺ کا تھا‘ لہٰذا اس کی ادائی اللہ کے ساتھ ساتھ اُس کے رسولﷺ سے بھی وفا داری کا تقاضا ہے۔ ماہ رمضان کے روزے کا نتیجہ یہ نکلنا چاہیے۔ اللہ کرے کہ ہم اس رُخ پر سوچنے پر تیار ہو جائیں۔

اس موقع پر میں ایک اور غلط فہمی بھی دور کر دینا چاہتا ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے وہ متقین ہیں۔ جنت اہل تقویٰ کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ بات جو عام طور پر لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ ایک کلمہ گو شخص جس کا گناہوں کا پلڑا جھک گیا، اپنے گناہوں کی بقدر سزا پا کر بالآخر جنت میں داخل ہو جائے گا اگرچہ ہمارے عقیدے کا حصہ ہے،لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن کس چیز کو کامیابی قرار دیتا ہے۔آگ میں کچھ دیر کے لئے بھی ڈالا جاناسخت خسارے کی بات ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ {مَنْ زُخْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ}(آل عمران:185) ’’جو شخص (جہنم کی) آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا حقیقت میں وہ کامیاب ہے۔ ‘‘یعنی کامیاب شخص وہ ہے جو ایک لحظے کے لئے بھی آگ میں نہ ڈالا جائے، ایسے شخص کو اُس کانامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ جوشخص ایک لمحے کے لئے بھی جہنم میں ڈال دیا گیا، اُس کاتو سب کچھ برباد ہو گیا۔ جہنم کی آگ کا عذاب اس قدر سخت ہے کہ اِسے کوئی برادشت نہیں کر سکتا۔ حدیث کے مطابق ایک شخص کو تھوڑی دیر کے لئے جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا تو وہ دنیا کا سارا آرام و آسائش بھول جائے گا۔پھر یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ گناہ گاروں کو نہ جانے کتنا عرصہ آگ میں جلناپڑے۔ ہم میں سے بہت سے مسلمان اِسی پر قناعت کئے بیٹھے ہیں کہ چلو بالآخر تو جنت میں پہنچ ہی جائیں گے۔حالانکہ ہماری سوچ یہ ہونی چاہیے کہ جیسے بھی ہو کہ ہم جہنم میں جانے سے بچ جائیں، ہمیں آگ میں ڈالاہی نہ جائے۔ قرآن میں کفار کے بارے میں کہا گیا کہ {فَمَااَصْبَرَ ھُمْ عَلَی النَّار } (البقرہ:175 ) یعنی کفار جنہیں جہنم کی بار بار وعیدیں سنائی جا رہی ہیں،کسی طور ایمان لانے کو تیار نہیں۔ یہ کتنے جگرے والے ہیں کہ جہنم سے بچنے کی انہیںکوئی فکر نہیں ہے۔

بہر کیف ہمیں نار جہنم سے بچنے کی فکر کرنی اور اُس راستے پر چلنا ہے جو ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں لے جائے۔ یہ راستہ ایمان اور تقویٰ والا راستہ ہے۔ یعنی ہمارے دل میں پختہ یقین ہو، اور ہم ایمان کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کریں۔ ماہ رمضان کے بعد ہمیں اس رُخ پر سوچنا چاہیے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

غیر قانونی بھرتیاں, سندھ کے کئی افسران نیب کے شکنجے میں

کراچی: قومی احتساب بیورو نے سندھ کے اداروں میں غیر قانونی طور پر بھرتی کیے گئے17 گریڈ کے درجنوں افسران کے گرد...

مسکن چورنگی دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج

مسکن چورنگی دھماکے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ گئی

عیسیٰ نگری میں پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج

عیسیٰ نگری میں پانی کی عدم فراہمی پر احتجاجاہل علاقہ نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک ٹریفک کے لیے بندی کر دی

مختلف علاقوں میں اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کی کارروائیاں,5 ملزمان گرفتار

کراچی:مختلف علاقوں میں اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کی کارروائیاں,5 ملزمان گرفتار،اے سی ایل سی کے مطابق ناظم آباد، بلدیہ سائٹ اور کورنگی...