Wednesday, October 21, 2020
Home Trending سرکاری کالجز میں داخلے، طلبہ و والدین اذیت کا شکار

سرکاری کالجز میں داخلے، طلبہ و والدین اذیت کا شکار

Admission interکراچی، سرکاری کالجز میں انٹر سالِ اول میں داخلہ لینے کے خواہش مند طلبہ ا ور ان کے والدین شدید اذیت کا شکارہیں جس کا سبب داخلہ کے نیا اور پیچدہ نظام ہے جبکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے دی گئی ویب سائٹ کو کھولنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ان خیالات کا اظہار سندھ پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسو سی ایشن کراچی ریجن کے صدر پروفیسر فیروزالدین صدیقی ، جنرل سیکریٹری پروفیسر عامرالحق اورپروفیسر عبدالعزیز میمن نے اپنے ایک بیان میں کیا۔سپلا کے رہنماﺅں نے مزید کہا کہ کسی بھی صوبے میں ایسا نظام نہیں ہے کہ جہاں اسکول یا کالج میں داخلہ کے لیے براہِ راست صوبائی محکمہ تعلیم شامل ہو نہ جانے کیوں ہمارے صوبے میں ہی تعلیم کے ساتھ نئے نئے تجربات کیے جارہے ہیں اور محکمہ تعلیم سندھ صرف مالی فائدے کو حصول کے لیے آن لائن کے نام پر کراچی کے طلباو طلبات اور ان کے والدین کو پریشان کیا جا رہا ہے۔

سپلا کے رہنماﺅں نے سیکریٹری تعلیم کے اس رویہ کہ جس میں انہوں نے اساتذہ کے لیے مافیا اور چور کا لفظ استعمال کیا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چودہ سال سے CAPکے تحت ہونے والے داخلہ کے موقعہ پر سپلا کے کسی رکن یا استاد نے مداخلت نہیں کی اور نہ ہی بل واسطہ یا بلا واسطہ لین دین میں ملوث رہے ہیں۔سپلا کے رہنماﺅں نے مزید کہا کہ اگر اساتذہ کی تذلیل کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو سپلا کسی انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائے گی۔ جبکہ محکمہ تعلیم کے کچھ افسران جو کہ پہلے بھی مبینہ رشوت ستانی کا بازار گرم کیے ہوئے تھے ایک بار پھر سرگرم ہو چکے ہیں اب ان کی نظریں غریب بچوں سے حاصل ہونے والی رقم پر ہے۔ لہٰذا وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ تعلیم سندھ و دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبا کر رہے ہیں کہ وہ کراچی کے طلبہ کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلہ کے حصول کو سہل بنانے کے لیے سابقہ طریقاکار کے مطابق نظام پر عمل کروایا جائے کیوں کہ یہ اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے بھی عین مطابق ہے۔

دریں اثنا ء سندھ ٹیچرز فورم نے اپنے بیان میں انٹر سال اول کے داخلوں کے لئے آن لائن طریقہ کار کو عام طلبہ اوروالدین کے لیے انتہائی پریشان کن اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جو طلبہ انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن جمع کروانا چاہتے ہیں وہ آن لائن جمع کرائیں مگر جو طلبہ انٹرنیٹ، پرنٹر اور کمپیوٹر کی سہولت نہیں رکھتے انہیں سابقہ طریقہ کار کے تحت داخلہ فارم جمع کروانے کی سہولت دی جائے۔ محکمہ تعلیم کے اس قسم کے ایڈونچر سے کراچی کے ہزاروں طلبا کا تعلیمی مستقبل داﺅ پر لگ گیا ہے۔ پاکستان کے کسی بھی صوبے یا دنیا میں سیکریٹری، داخلوں کا کام انجام نہیں دیتا لہٰذا یہ کام جن لوگوں کے کرنے کا ہے انہیں کرنے دیا جائے اور کراچی کے ہزاروں طلبہ کے مستقبل سے نہ کھیلا جائے۔ انہوں نے سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیجوہو کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس میں لگائے جانے والے الزامات کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے الزامات کو بے بنیاد اور اساتذہ کی توہین قرار دیتے ہوئے سیکریٹری تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا بیان فوری طور پرواپس لیں ورنہ اساتذہ اپنی تضحیک اور توہین کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت گزشتہ 14 سالوں سے طلبا وطالبات کو نہایت شفاف انداز میں اہلیت کے مطابق داخلے دیئے جارہے تھے اس دوران میرٹ کی خلاف ورزی یا کرپشن کا ایک بھی کیس سامنے نہیں ایا اور داخلوں کے عمل کی نگرانی کراچی کے سینئرترین، دیانتدار پرنسپل اور اساتذہ کرام سرانجام دیتے رہے ہیں جن کی نیک نامی شکوک وشہبات سے بالاتر ہے۔ گزشتہ سال داخلوں کے عمل میں سات کروڑ روپے کے غبن کے الزام پرتبصرہ کرتے ہوئے ایس ٹی ایف نے کہاکہ گزشتہ سال سب سے زیادہ فارم بذریعہ بینک فروخت کئے گئے جن کی تعداد ایک لاکھ تھی اور فی فارم قیمت 60 روپے مقرر تھی، بینک کے علاوہ کسی کالج یا ڈائریکٹوریٹ سے فارم فروخت ہونے کی کوئی اطلاع کبھی نہیں موصول ہوئی چنانچہ ناممکن ہے کہ 60 لاکھ کے فارم میں سات کروڑ کی کرپشن کی جائے۔

3 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

مسکن چورنگی دھماکے سے متاثرہ عمارت کو گرانے کا فیصلہ

کراچی، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے مسکن چورنگی پر دھماکے سے متاثرہ عمارت کو مخدوش قرار دے دیا، ایس بی سی اے...

کراچی، گورنر سندھ عمران اسماعیل پی آئی اے کی پرواز308 کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے، ان کے ہمراہ رکن قومی اسمبلی...

کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دھماکے سے 5 افراد جاں بحق

گلشن اقبال میں واقع ایک رہائشی عمارت میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جب کہ 27 زخمی ہوگئے۔

اے این ایف کا چھاپہ، میوہ شاہ قبرستان سے 17 کلو چرس برآمد

کراچی، اینٹی نارکوٹکس فورس کی شیرشاہ کے علاقے میوہ شاہ قبرستان میں کارروائی، 17 کلو چرس برآمد، ایک ملزم گرفتار، اے این...