Tuesday, October 27, 2020
Home Trending کراچی میں فوجی آپریشن کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء...

کراچی میں فوجی آپریشن کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء کا مطالبہ

 KHI29-13جعفریہ الائنس پاکستان کے زیر اہتمام کراچی اور اندرون سندھ میں ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد بعنوان Save Pakistan from Militancyکیا گیا جس کی صدارت جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی نے کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر، متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکز ی رہنما علامہ امین شہیدی، جمعیت علما پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نورانی ، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فردوس شمیم،اسلم راجپوت،پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما نہال ہاشمی، اظہر ہمدانی،امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے رہنما غیور عابدی، جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما محمد حسین محنتی، مظفر ہاشمی، پاکستان عوامی مسلم لیگ کے مرکزی رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری یونس بونیری، سابق صوبائی وزیر ضیا عباس دیگرسیاسی رہنماﺅں سمیت سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان نے شرکت کی۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں دہشتگردوں کو جہاں مذہبی سرپرستی حاصل ہے وہاں انہیں سیاسی و لسانی سرپرستی بھی حاصل ہے، لہذا اگر حکومت دہشتگرد عناصر کے خاتمہ کیلئے ملک دشمن اور اسلام دشمن دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث دہشتگردوں کی سیاسی و مذہبی وابستگیاں ظاہر کی جائیں ، دہشتگردوں کے سیاسی و مذہبی سرپرستوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے اس کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہاپسندی و دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کو سزا دینے کیلئے فی الفور خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں اور ان دہشتگردوں کے خلاف تیز ترین ٹرائل کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کو فی الفور سزائیں دی جائیں۔ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما تاج حیدر نے کہا کہ حکومت عوام کے تحفظ کے لئے ہر قسم کا تعاو ن کرنے کے لئے تیار ہے اور آج کی اس آل پارٹیز کانفرنس سفارشات کے تحت حکومت دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ہر ممکنہ اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گی۔علامہ عباس کمیلی نے کہا کہ پنجابی طالبان کے بعد ریاستی حساس اداروں کی جانب سے سندھ میں سندھی طالبان کے وجود کے انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ شاہ عبد الطیف بھٹائی کی سر زمین کو دہشت گردوں سے سنگین خطرات لاحق ہیں لہذا سندھ حکومت تمام تر مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سندھی طالبان سمیت تمام ملک دشمن اور سندھ دھرتی کے دشمنوں کے خلاف فی الفور کارروائی عمل میں لائے۔

علامہ عباس کمیلی نے مزید کہا کہ حکومت بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی کے لئے حکومتی سطح پر ایک علما بورڈ تشکیل دے جو عملی طور پر بین المسالک ہم آہنگی قائم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکے۔شہر اور پورے صوبے میں موجود مدارس کی سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے ۔شہر کراچی میں موجود داعش کی موجودگی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے تاہم حکومت اس معاملے میں سرد مہری سے کام نہ لے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں پانچ لاکھ سے زائد طالبان دہشتگردوں کی موجودگی شہر کراچی اور سندھ کے عوام کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہے لہذاشہر کراچی اور سندھ کے عوام کو امن و امان فراہم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومتن آرٹیکل 245نافذ کرکے کراچی سمیت سندھ بھر میں کالعدم دہشت گرد گروہوں اور ملک دشمن عناصر کے خلاف آپریشن ضرب عضب طرز پر بے رحمانہ فوجی آپریشن کیا جائے جو کہ آخری دہشتگرد کے خاتمہ تک جاری رہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں اور اسی طرح ملک بھر میں کہیں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں پائی جاتی بلکہ چند عناصر کی ایما پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دی جا رہی ہیں، انہوں نے کراچی سمیت ملک بھر سے اسلحہ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جانا چاہئیے جبکہ ان مقامات کیخلاف بھی کاروائی کی جائے جہاں سے اسلحہ کراچی تک پہنچایا جاتا ہے، انہوں نے سیاسی ومذہبی جماعتوں سے مطالبہ کیاکہ ملک بھر سے De weaponiozationکا مطالبہ کیا جائے۔

اے پی سی کے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علما پاکستان کے سربراہ علامہ اویس نورانی نے کہا کہ اگر حکومت دہشتگردی اور فرقہ واریت پھیلانے کی سازش کے خاتمہ میں سنجیدہ ہے تو فی الفور فرقہ وارانہ اور متشددانہ لٹریچر پر پابندی عائد کرتے ہوئے ذمہ داروں کو قانون کے شکنجہ میں لایا جائے، اسکی روک تھام کے لئے قانون سازی کی جائے تا کہ مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی سرزنش کی جائے ۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کاکہنا تھا کہ ہم واضح طور پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان بھر میں اور بالخصوص کراچی اور سندھ میں کہیں بھی فرقہ وارنہ نفرت نہیں پائی جاتی بلکہ چند عناصر غیر ملکی آقاں کی ایما پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بین الاقوامی سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں مصروف عمل ہیں ، تاہم ان تمام بین الالقوامی سازشوں کی سرکوبی کے لئے حکومت سمیت تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔رہنماں کاکہنا تھا کہ سنہ 71میں لسانی بنیادوں پر ملک کو تقسیم کیا گیا اور آج اسی طرح پاکستان کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا فی الفور تدارک کیا جانا ملکی سلامتی کے لئے اشد ضرورت ہے۔انہوں نے نے کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور کچھ نا عاقبت اندیش غیر ملکی آقاں کی ایما پر ملک کو نقصانپہنچانے کے در پہ ہیں، لہذا ان ملک دشمن دہشت گردوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے ۔ شہر کراچی میں جاری پولیس اور رینجرز کا مشترکہ آپریشن پوری طرح سے کامیاب نہیں ہو سکا کیونکہ ایک سال کے عرصے میں 137ڈاکٹروں سمیت ملک کے سرمایہ داروں، انجیئنروں، علما، وکلا، بیوروکریٹس، تاجروں اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تین ہزار سے زائد معصوم افراد کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا لیکن ان معصوم شریوں کے قتل میں ملوث دہشت گردوں کو نہ تو گرفتار کیا جا سکا اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی سزا دی جا سکی لہذا ان دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن نا گزیر ہو چکا ہے۔دہشت گردوں کے شبہ میں گرفتار کئے جانے والے بے گناہ افراد کو چوبیس گھنٹے کے اندر تفتیش مکمل کر کے رہا کیا جائے ۔ داعش کی موجودگی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے تاہم حکومت اس معاملے میں سرد مہری سے کام نہ لے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال ، خطرناک ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

کراچی، گلشن اقبال پولیس کی بڑی کارروائی، درجنوں وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔ پولیس کے مطابق ملزک صدیق پولیس کو اسٹریٹ، قتل...

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، اور ان کا حل

تحریر: مریم صدیقی وہ تھکی ہاری شام کے 4 بجے آفس سے نکلی، 4:30 بجے گھر میں...

ولیکا آتشزدگی، واٹر بورڈ نے ایمرجنسی نافذ کردی

کراچی ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سائٹ ٹاؤن ولیکا اسپتال کے قریب فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد سخی ھسن ہائیڈرنٹس پر...

کراچی سمیت سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ

کراچی ،سندھ میں پھرفصلوں پرٹڈی دل کےحملےکاخدشہ محمکہ زراعت سندھ نےٹڈی دل کےحملےکانیاالرٹ جاری کردیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام کا...