Monday, October 26, 2020
Home اسلام عید الفطر سب کے لیے (صادق رضا مصباحی)

عید الفطر سب کے لیے (صادق رضا مصباحی)

تیوہار کسی بھی مذہب کے ہوں خوشی ومسرت کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان سے لوگوں کے مذہبی جذبات اور روایتی جنون وابستہ ہوتا ہے۔ اپنے اپنے مذاہب کو ماننے والے لوگ الگ الگ زاوےے سے اور مختلف نقطہائے نظر سے اپنے مذہبی تیوہاروں کا جشن مناتے ہیں۔ ان تیوہاروں کے سرسری جائزے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض وقتی اور عارضی مسرتیں ہوتی ہیں اور پھرےہ ساری خوشیاں وقت کی دھول میں دب کر رہ جاتی ہیں ۔ان کے یہاں ان تےوہاروںکے پےچھے کوئی حکمت اور کوئی مقصد نظر نہےںآتا بس آبا واجداد کی ایک روایت چل آرہی ہے اسی پر چلنا فخر سمجھتے ہیں ۔لیکن اسلام اس تناظر میں کئی معنوں میں مختلف ہے اس کے تیوہاروں میں بے شمار حکمتیں ومصالح پوشیدہ ہوتے ہیںجوپورے سماج پرمثبت طورپراثراندازہوتے ہےں۔ عید الفطر میں ذرا آپ غور کریں تو حکمتوں کا ختم نہ ہونے والا ایک طوےل سلسلہ نظر آتا ہے اور یہ پورا سلسلہ معاشرے کے امن وامان، سماج کی خوش حالی، فرد اور معاشرے کی ترقی، اظہارِ یک جہتی، ہمدرد ی وغم گساری، سکون واطمینان کی بحالی اور ملت وملک کی ترقیوں پر جاکر منتج ہوتا ہے۔ عید الفطر صر ف وقتی طورپرخوشی منالےنے ،سوئےں کھالےنے اورآپس مےں اےک دوسرے کومبارک باددےنے کا نام نہےںہے بلکہ اس کامقصداس سے کہےں زےادہ بلندہے ۔ےہ ایک مکمل نظام ہے، ایک فلسفہ ہے اور ایک عظےم نشانِ صلاح وفلاح ہے۔ یہ کوئی دوسرے مذاہب کے تیوہاروں کی طرح نہےںکہ بس خوشیاں منالیں ،رسمی طور پر گلے مل لےے، مٹھائیاں کھالیں ،رقص وسرودکی محفلےں آراستہ کرلے ںیا تحفتاً ایک دوسرے کو دے دیں کہ یہ رواج عرصے سے خاندان میں چلا آرہا ہے۔

eid ul fitar
عید الفطر حقیقی مسرتوں کا دن ہے اور مسرت اسی وقت حقیقی معنی میں مسرت ہوتی ہے جب گھر کے سارے افراد، سارے اہل خاندان، اہل محلہ اور اہل بستی مسرت وشادمانی کے آبشار میں نہا رہے ہوں۔ ایسا نہ ہوکہ خاندان میں ایک آدمی یا ایک فیملی تو خوشیوں سے سرشار ہے اس کے بچے تومسرتوںکی خوشبو مےں بسے ہوں مگر دوسری فیملی کسی وجہ سے ان خوشےوںسے محروم رہے۔اس کی مادی آسائشےںا سے اس بات کی اجازت نہ دےںکہ وہ عےدکے دن جی بھرکرخوش ہولے اوراپنادردوملال کچھ کم کرسکے۔عےدالفطرکااورمسرتوںکاےہ تقاضانہےںہے کہ آپ کا بچہ توعید کے دن نئے نئے کپڑے پہنے اپنے دوستوںکے جھرمٹ مےں خوشیوں کے نعرے لگاتا پھرے مگر آپ کے پڑوسی کا بچہ یہ سب دیکھ کر آب دیدہ ہوجائے، اس کو کوئی عیدی دینے والا نہ ہو، اس کے سر پرکوئی دستِ شفقت رکھنے والا نہ ہواوراس کوپےارسے کوئی چمکارنے والانہ ہو۔ اگر ایسا ہے تو یقین جانےے کہ آپ نے عید الفطر کے حقیقی پیغام کو سمجھا ہے اور نہ آپ کے اندر ہمدردی وغم گساری کا جذبہ ہے۔آپ اپنے اردگردماحول کاجائزہ لےجےے تواس افسوس ناک صورت حال کی چبھن آپ ضرورمحسوس کرےں کہ اکثرمسلمانوںنے شعوری ےاغےرشعوری طورپر عید الفطر کوصرف مالداروں کا تیوہار بنادےاہے حالانکہ اگرآپ اسلام کے پورے سسٹم پرنظرکرےں اورعےدالفطرکے پس منظراوراس کے بےن السطورمےں چھپے ہوئے پےغامات کوبنظرغائرجائزہ لےںتوےہ نتےجہ اخذکرنے مےںقطعاً دےرنہےں لگے گی کہ ےہ امےروں،مالداروں اورشاہزادوں سے کہےں زےادہ غرےبوں اورمفلسوں کاتےوہارہے ۔اس پر صرف امیروں اور رئیس زادوں کو حق جتانے کا حق نہیں ہے بلکہ غریب زادے بھی اس میں برابر کے شریک ہیں ۔کسی کوےہ حق نہےں پہنچتاکہ وہ ان غرےبوں اورمفلسوں کے حق مےں سےندھ لگائے مگرافسوس ہم اپنے طرزِ عمل سے اس بات کااشارہ دےتے ہےںکہ اس پرغرےبوں کااتناحق نہےں ہے جتناامےروں اورامےرزادوں کاہے ۔

ہم دیکھتے ہیں اس دن خوشیوں اور اسبابِ مسرت میں دونوں قسم کے لوگوںکے درمیان تو ازن نظر نہیں آتا اگراےک طرف پےسے والے کے گھرمےں مسرتےں نغمے گارہی ہوتی ہےںاورخوشےوںکی بلبلےں چہک رہی ہوتی ہےںتودوسری طرف دوہی قدم کے فاصلے پرکسی مفلس کی دہلےز پرغربت منھ چھپائے کھڑی ہوتی ہے اوراپنی بے کسی پرآنسوبہارہی ہوتی ہے۔ یہ تو اللہ عزوجل کا بے پایاں احسان ہے کہ اس نے ایک تو عید الفطر جیسا تیوہار ہمیں عطا فرمایا اور دوسرے یہ کہ خوشیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لےے امیروں کو صدقہ¿ فطر نکالنے کا حکم دیا۔ اگر صدقہ¿ فطر ادا کرنے کا حکم نہ ہوتا تو ممکن تھا کہ غریبوںاورافلاس کے ماروں کے ےہاں خوشیوںکے دےپ نہ جلتے اوران کووہ سرشاری میسر نہ آتی جوتےوہاروں اورخوشےوں کے موقع پرانسانی طبائع کاخاصہ ہواکرتی ہے گویا اللہ نے اگرامےروںکواےک خوشی سے نوازاہے توغرےبوںکودوہری خوشی سے سرفرازفرماےاہے ۔امےروںکوتوصرف عےدالفطرکی مسرت مگرغرےبوںکوایک تو عید الفطر کی خوشی اور دوسری صدقہ¿ فطر کی خوشی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اتنی شدت کے ساتھ دیا ہے کہ فرمایا گیا جس نے صدقہ¿ فطر ادا نہیں کیاتو اس کے روزے زمین وآسمان کے درمیان معلق رہتے ہیں۔

eidulfitar
اب صاحب نصاب مسلمان نہ چاہتے ہوئے بھی صدقہ¿ فطر ضرور ادا کرتا ہے کہ وہ اپنے روزوں کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اس سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہاں غریبوں کی خوشیوں کا بھی سامان ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شرےعت کاحکم یہ بھی ہے کہ صدقہ¿ فطر عید کی نماز سے پہلے پہلے ادا کردو۔اس کے پےچھے غالباًحکمت ےہ رکھی گئی ہے کہ مستحقین تک یہ رقم جلد سے جلد پہنچ سکے اووہ عےدکی نمازسے پہلے ہی اپنی اوراپنے بچوںکی خوشےوںکے سارے سامان جمع کرسکےں۔ےہاں پرذراسوچےے اگرصدقہ¿ فطرنمازکے بعدمےںاداکرنے کاحکم ہوتاتوظاہرہے کہ ہرشخص بعدہی مےں اداکرتانتےجتاًمستحقےن کوبعدہی مےںملتاتوان کے چہروںپرملال کے آثارضرورابھرآتے لہٰذااللہ عزوجل نے اتنابھی گوارانہےں فرماےاکہ ان کی خوشےوںمےں کسی طرح کی کوئی تاخےرہوجس کی وجہ سے ان کے دل مےں اضطرابی کےفےات پےداہوںبلکہ ان کوطلوع صبح سے ہی خوشےوں مےں شرےک فرمادےا۔ آپ اس سلسلے سے سلسلہ ملاتے جائیے اورخداکی قدرت اوراس کے فضل وکرم پرسجدہ¿ شکرکرتے جائےے۔ ان سارے پےغامات سے ےہ واضح ہوتا ہے کہ عید الفطر کے دن جتنے بھی احکام اور مذہبی روایات انجام دی جاتی ہیں وہ کسی نہ کسی بڑے مقصد کے حصول کے لےے ہی ہوتی ہیں حکم بظاہر تو چھوٹا معلوم ہوتاہے لیکن اس کے نتائج انتہائی بڑے اوردوررس ہوتے ہیں۔

eidulfitar or gareeb
ہمارے روےوں اور عید الفطر کے دن کی ہماری سرگرمیوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ہم نے عید الفطر کے حقیقی پیغام کو سمجھا ہی نہیں ہے بلکہ محض دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی طرح اس کو بھی لہو ولعب کا نمونہ بنا لیا ہے یا محض ایک کھلونے کی طرح سمجھ لےاہے کہ جس سے دن بھرکھےلاجاتا ہے اوراس کھےل مےں خوشی ومسرت کے قہقہے چاروں طرف گونجتے سنائی دےتے ہےں۔اگر ایسا ہے تو ہم مےں اور دیگر مذاہب کے معتقدین میں فرق کیا ہے؟ہم مسلمان ہےںتوہم مےں اوران مےں کچھ فرق توہوناہی چاہےے؟ےادرکھےے ہمارے اسلامی تیوہار صرف کھیل کود اور ہلڑ بازی کا نام نہےں ہیں بلکہ ےہ پورے کے پورے سماج کی صلاح وفلاح کے لےے ہوتے ہیںاوراس سے فرداورمعاشرے کی اصلاح مقصودہوتی ہے ۔ کےا ہم ان مقاصد اورحقائق سے آشنا ہوںگے؟

قصہ مختصر ہمیں عےدالفطر کی روحانی مسرتیں اسی وقت حاصل ہوں گی جب ہمارے اندر یہ احساس جاگزیں ہوجائے گاکہ اس مبارک ومسعوددن کے موقع پرکون سے کام اللہ عزوجل کو پسندہیں اور کون سے ناپسند ہیں۔ یہ مسلمانوں کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اللہ کے مطالبات کےاہےںمگر مسلمان جان کر بھی انجان بننے کی کو شش کرتے ہیں اور سماج میں پھیلے ہوئے اخلاق بحران میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمےں عید کی روحانی مسرتوں سے سرفراز فرمائے اور اس کی برکتوں، سعادتوں، رحمتوں، فضیلتوں سے خوب خوب فیضیاب فرمائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...