Tuesday, October 20, 2020
Home کالم /فیچر قیام پاکستان اور اس کے تقاضے (شازیہ فاطمہ)

قیام پاکستان اور اس کے تقاضے (شازیہ فاطمہ)

index0آزادی ایک لفظ نہیں ، ایک عظیم نعمت ہے۔زندگی کا اصل احساس ہے۔ جو قومیں اس نعمت عظمیٰ کی قدر نہیں کرتیں ان کا نام صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ 14اگست کادن ہمیں اس امر کا احساس دلاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے نصف صدی تک حصول پاکستان کے لیے کن کن جانی و مالی قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا جن کی بدولت ہم آج آزاد وطن میں پرسکون زندگی بسر کررہے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد مقاصدِ قیام سے متعلق آج ہمیں دو مختلف گرو ہ افراد کے الگ الگ خیالات و نظریات نظر آتے ہیں ۔مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ملک’’ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کی بنیاد پر وجود میں آیا۔ قائد اعظم سمیت تمام رہنمایان قوم نے ایک علیحدہ خطہ زمین اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہم پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی فرائض انجام دے سکیں اور اللہ رب العزت کے پسندیدہ دین اسلام کو نافذ العمل کرسکیں۔جبکہ سیکولر حلقوں کا کہنا ہے کہ ہمارے رہنما ایک ایسی آزاد فلاحی و رفاہی ریاست کے لیے ٹکڑہ زمین کے خواہشمند تھے جہاں ہر مذہب کے افراد کو مذہبی آزادی حاصل ہو ۔کوئی کسی کی عبادت گاہ میں دخل انداز نہ ہو۔انصاف کا بول بالا ہو، معاشی ، اقتصادی اور سماجی طور پر ترقی ہوسکے اور اقوام عالم میں ہمارا شمار جمہوری طور پر مستحکم ممالک میں ہو۔

متذکرہ دونوں نظریات کے افراد اپنی اپنی فکر و سوچ کے مطابق بہرحال اس کی بقاء، ترقی و استحکام پر متفق ہیں۔یہ تاریخی حقیقت ہے کہ آج سے 62 سال قبل دنیا کے نقشے پر ایک نیا ملک ابھرا جو ہندوستان ہی کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز بنا۔برطانوی استعمار کے دور میں بر صغیر کے مسلمانوں نے متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی ضمانتیں حاصل کرنے کی کوششیں کیں جو ناکام رہیں۔ 23مارچ  1940؁ء کو جداگانہ وطن کے باضابطہ مطالبہ سے لے کر 14 اگست 1947؁ء کو پاکستان کے قیام تک جو بے مثال جدوجہد کی گئی وہ جان و مال کی قربانیوں ، ہجرتوں، ایثار، باہمی اخوت کے مظاہروں، دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور بعض اپنوں کی موقع پرستیوں کی طویل داستانوں سے بھری پڑی ہے۔پھر تقسیم ہند کے فارمولے میں بددیانتی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تنازعہ کشمیر اور یہاں بھارتی فوجیں اتارینے کے واقعہ ، پولیس ایکشن کے نام پر جنوبی پاکستان کہلانے والی ریاست حیدرآباد پر نئی دہلی کے فوجی قبضے ،جونا گڑھ، مانگرول کو ہڑپ کرنے کی کاروائیوں ، پاکستان کے حصے کے فنڈز یکطرفہ طور پر دبائے جانے، مشرقی پاکستان کی پٹ سن خریدنے سے انکار کرکے پاکستانی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش، ہندوستان میں مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے نوزائیدہ ریاست پر لٹے پٹے مہاجرین کا بوجھ ڈالنے سمیت کون سی ایسی آزمائش نہ تھی جس کا سامنا اس ملک کو اپنے قیام کے وقت سے ہی نہیں کرنا پڑا۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت اور قائد ملت لیاقت علی خان کی شہادت کے نتیجے میں اس ملک کو اپنے قیام کے ابتدائی برسوں ہی میں قیادت کے بحران اور جوڑ توڑ کی سیاست کا سامنا کرنا پڑا ۔جس کے باعث نشان منزل بار بار اوجھل ہوتارہا۔یہاں تک کہ 1971؁ء میں غیر ملکی سازشوں ، بھارتی جارحیت اور قیادت کی نااہلی کا نتیجہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں ظاہر ہوا۔مختصر یہ کہ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد کے وقت سے چیلنجوں کا سامنا کرنے والی اس قوم کو حصول آزادی کے بعد بھی مسلسل آزمائشوں کا سامنا ہے۔مگر یہ قوم تمام نہیں تو بیشتر سنگین نوعیت کے بحرانوں سے سر خرو ہو کر نکلی ہے۔صفر کے مقام سے سفر شروع کرنے والے اس ملک نے فنون اور ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں اتنی ترقی کی کہ دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک بن گیا۔اس وقت بھی وطن عزیز کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے ۔خارجی اعتبار سے بعض طاقتوں کے لیے اس حقیقت کا ہضم کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک جوہری قوت ہے بلکہ اس کے پاس کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ایک موثر نظام بھی موجود ہے۔بعض بیرونی عناصر ایٹمی اثاثوں کے غیر ذمہ دار ہاتھوں میں جانے کا پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔جبکہ شمالی علاقہ جات کی صورتحال کے باعث فوجی آپریشن بھی جاری ہے، جو طویل ہوتا جارہا ہے۔

index1نائن الیون کے واقعات نے اگرچہ پوری دنیا کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے مگر مسلم ممالک بالخصوص پاکستان پر اس کے غیر معمولی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔افغانستان اور عراق میں جو کچھ ہوا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں معیشت و استحکام کے سوالات پیدا ہوئے۔مشرق وسطیٰ کے پٹرول کے بعد وسطی ایشیا کے قدرتی وسائل کی کشش، روس اور چین کے گرد گھیراڈالنے کے منصوبوں اور سوویت یونین سے آزاد ہونے والی ریاستوں میں عمل دخل بڑھانے کے امریکی اقدامات، ماسکو کی اس تشویش کا سبب بنے ہیں جن کا ظاہری نتیجہ ایک اور ملک جارجیا کی آزادی ختم ہونے کے خطرے میں ڈھل چکا ہے۔بلوچستان کے بعض حصوں اور شمالی علاقوں کی گڑ بڑ کو بھی اس منظر نامے سے بالکل الگ رکھ کر دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔تاہم یہاں عدم استحکام پیدا کرنے میں ماضی بعید سے جاری بھارت کے طویل کردار اور اسرائیل کی دلچسپی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اپنی بقاء و سلامتی کے تمام پہلوئوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس نوع کے خفیف ترین امکانات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ جو عنصر افغانستا ن میں اپنی فوجی کاروائی میں تعاون پر آمادہ کرنے کے لیے اس کے مشرقی پڑوسی ملک کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکی دے سکتا ہے وہ اس انکار کو کس طرح آسانی سے برداشت کرسکتا ہے جس کا سامنا اسے ایران پر حملے کے لیے سرزمین استعمال کرنے کے حوالے سے کرنا پڑا۔

ان پہلوئوں پر موجودہ حکمران اتحاد سمیت تمام حلقوں کی گہری نظر رہنی چاہیے اور قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔داخلی طور پر قوم کو اس وقت جس صورتحال کا سامنا ہے اس کا تعلق اس سوا ل سے ہے کہ وہ جس سیاسی نظام کے تحت آگے بڑھنا چاہتی ہے اس کے تحفظ و تسلسل کے لیے کیا تدابیر و انتظامات موجود ہیںیا کیے جانے چاہئیں۔اس امر میں کسی شبے کی گنجائش نہیں کہ پاکستانی عوام پارلیمانی جمہوریت کے نظام سے اپنی وابستگی کا بار بار ثبوت فراہم کرتی رہی ہے۔مگر اس نظام کو بار بار پٹری سے اتار دیا جاتا ہے جس سے اس کا حلیہ ہی بگڑ گیا ہے۔کچھ عرصہ قبل تک جو نیم صدارتی اور نیم پارلیمانی سسٹم ملک میں چلتا رہا ہے، اب 1973؁ء کے آئین کی اصل روح کے مطابق ڈھالنے کا متقاضی معلوم ہوتا ہے ۔اس ضمن میں پارلیمنٹ کو بالادست ادارہ بنانے کے اعلانات تو کئی مرتبہ سامنے آئے لیکن مجموعی طور پر ابھی اس میں مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔جمہوریت کو اصل روح کے ساتھ نافذ العمل کرنے کے لیے انتخابی طریقہ کار میں بھی تبدیلی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ہمارے یہاں عوام الناس کی بڑی تعداد ووٹ کے استعمال میں سنجیدگی سے حصہ نہیں لیتی یوں ایک قلیل اقلیت کا نمائندہ اکثریت کا ترجمان بن جاتا ہے۔اس سلسلے میں متناسب نمائندگی کا نظام زیادہ کار آمد ہے۔

indexقائد اعظم محمد علی جناح نے جس فلاحی اسلامی ریاست کے خدوخال اپنی تقاریر کے ذریعے واضح کیے تھے ان کی طرف تاحال کوئی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آتی ۔اس کے برعکس ملکی وسائل پر قابض اشرافیہ نے ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ اقتدار چند خاندانوں تک محدود رہ گیا ہے۔رائج الوقت نظام غریب آدمی کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کے باوجود منتخب ایوانوں میں پہنچنے کے مواقع نہیں دیتا۔صرف ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے 98فیصد عوام کو شراکت اقتدار میں لانے کا نظریہ دے کر عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ ان کی جماعت کے منتخب افراد کی بڑی اکثریت کا تعلق غریب و متوسط طبقہ سے ہے۔ملک کی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان کی تقلید کرنی چاہیے۔پچھلے عشروں میںسیاستدانوں ، سول و ملٹری بیوروکریسی اور جاگیرداروں کے درمیان ایسا گٹھ جوڑ وجود میں آچکا ہے جس نے قومی وسائل غریبوں تک پہنچنے کے راستے مسدود کردیے ہیں۔تعلیم عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوچکی ہے ،مہنگائی ، بیروزگاری اور افراط زر کے باعث خود کشیوں کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔قومی وسائل کی تقسیم مرکز اور صوبوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔جبکہ صوبے ایک دوسرے سے شاکی نظر آرہے ہیں۔دستور کے تحت جن موضوعات کو 1973؁ء کے دس سال بعد صوبوں کے اختیارات کا حصہ بننا تھا کوہ اب تک وفاق کے دائرہ کار میں ہیں۔

67 برس کے دوران ہم اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصیات کی پرستش کرتے رہے اور ان کو ہی اپنی کامیابی یا ناکامی کا محور سمجھتے رہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ صرف اداروں کو طاقتور بنایا جائے۔آبی ذخائر کی تعمیر سے طویل عرصے تک غفلت کو بھی ایک قومی المیہ کہا جاسکتا ہے جس کے باعث آبپاشی کے لیے پانی اور کارخانوں کے لیے بجلی دستیاب نہیں ہے۔یہ تمام مسائل موجودہ حکمرانوں کی دانش اور اہلیت کا امتحان ہیں۔ماضی کی حکومتوں کو مورد الزام ٹہرانے کے بجائے نیک نیتی سے تمام شعبوں میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔اصولاًتو اب تک ماہرین کی کمیٹیوں کی رپورٹوں کو سامنے آجانا اور ان پر عملدرآمد کا آغاز ہوجانا چاہیے تھا۔اگر کسی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا تو اب مختصر اور طویل مدتی منصوبوں کی طرف بڑھنے میںتاخیر سے کام نہیں لینا چاہیے۔شورشیں برپا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کا راستہ فوجی، سیاسی اور معاشی سطح پر روکنے کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے اسباب ختم کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں پاکستان کی شمولیت کے فوائد و نقصانات کا پارلیمنٹ میں جائزہ لے کر قوم کو حکومتی حکمت عملی پر اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد پر باہمی احترام و مساوات کو بنا کر ہی ملک کے وقار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔یہ ہمارے لیے انتہائی سعادت کی بات ہوگی کہ جس ارفع و اعلیٰ مقصد کے لیے یہ عظیم ملک حاصل کیا گیا تھا اسے پورے اخلاص نیت اور حسن عملی کے ساتھ پورا کریں۔

ہم نے 67 برس قبل اللہ رب العزت سے اپنی تمام صلاحیتیں اس ملک کے لیے وقف کرنے ،اس کی بقاء و سلامتی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے اور اسے قوموں کی برادری میں ارفع مقام دلانے کا جو عہد کیا تھا آج اس کی تجدید کرنے اور پورے عزم کے ساتھ تکمیل کرنے کی طرف بڑھنے کا دن ہے۔آئیے رب جلیل کے حضور عرض گذار ہوں کہ باری تعالیٰ اس ملک کی حفاظت فرما اور ہم سب کو جمہوریت کی پاسداری کے ذریعے اسے صحیح معنوں میں ایک مثالی اسلامی، جمہوری، فلاحی مملکت بنانے کی توفیق عطا فرما۔آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

سندھ کی مختف مارکیٹوں سے 955 کورونا کیسز رپورٹ

محکمہ صحت سندھ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مارکیٹوں، دفاتر، ہوٹلوں اور ڈینگی و پولیو کے رضاکاروں سمیت 2087 افراد...

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،

سندھ حکومت کا کیپٹن صفدر کے واقعے پر وزارتی کمیٹی بنانے کا اعلان،مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ 3...

یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،مرادعلی شاہ

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ کہ یہ کراچی کی تاریخ کاسب سےبڑاجلسہ تھا،جلسے کے بارے...

غصے میں عقل جاتی رہتی ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کا حکمران چیتا، غصے میں آگیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے مخالفوں...