Tuesday, October 27, 2020
Home اسلام ماہِ رجب (حافظ اکرام اللہ واحدی)

ماہِ رجب (حافظ اکرام اللہ واحدی)

rajabاسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ تعلیمات اسلامی انسان کو عرصہ حیات گزارنے کے لیے پوری رہنمائی کرتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی برحق محمدﷺ کے ذریعے اس امت کے لیے ہر اچھا اور برا واضح کروا دیا ہے۔ پھر انسان کو عقل سلیم دے کر اس اچھے اور برے میں فرق کرتے ہوئے زندگی گزارنے کا اختیار دے دیا اس کے بعد اس کی پوچھ گچھ کا سلسلہ بھی رکھا۔

امت مسلمہ آج مختلف مسائل کا شکار ہو چکی ہے جس کا ذکر ہمیں احادیث میں بھی ملتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی اس امت کو اس سے متنبہ بھی کیا گیا لیکن باوجود ان سب کے امت نے اپنے آپ کو اندھے کنویں کی طرف لے جانے میں کوئی کسر نا چھوڑی۔ اسی اندھے پن میں ماہ رجب کے حوالے سے مختلف چیزیں گھڑ لیں جن کا اسلام اور اسلام کی تعلیم سے یکسر کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان بدعات و رسومات کو بہت لکھا اور بیان کیا گیا لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اس اندھے پن کو چھوڑ کر روشنی میں آتے ہیں پھر جو کوشش بھی کرے اور اللہ سے توفیق بھی مانگے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ماہ رجب آ چکاہے اس کے آنے سے ہی ہم پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر صحیح راستہ دکھائیں جو اس مہینہ کے آنے سے ہی مختلف من گھڑت رسم و رواج کا شکار ہو جاتے ہیں اور قصے کہانیاں بنا بنا کر اور سن سن کر اپنے ایمان کے ساتھ اپنا مال اور وقت بھی برباد کرتے ہیں۔

اس مہینے کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں میں کیا جن کو اشہر الحرم کہا ہے۔ وہ چار مہینے ہیں جن میں ہر اس کام سے منع کیا گیا جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں جاتا ہو۔ یہ روک تو ہر مہینے، ہر ہفتہ، ہر دن، ہر رات، ہر گھنٹہ، ہر منٹ اور ہر سیکنڈ کی ہی ہے لیکن ان سب میں سے بھی ان چار کو خاص کردیا گیا۔ کہ انسان اپنی بھول سے محتاط رہے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی ان چار مہینوں کا بڑا احترام تھا اس زمانہ اور بعثت نبوی کے دور میں فرق صرف یہ رہا کہ اس وقت کے لوگ اپنی مرضی سے ان میں ردو بدل کر لیتے تھے لیکن بعثت کے بعد آپﷺ نے خاص کر دیا اور کسی ردو بدل اور من مرضی کی کوئی گنجائش باقی نا چھوڑی۔لیکن موجودہ دور میں اسلام کے ماننے والوں نے ان میں ایسی ایسی چیزیں ایجاد کر لی ہیں کہ جو کفار قریش نے بھی نا کیں تھیں۔ جبکہ اسلام نے اپنی تعلیم مکمل کی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا
آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے بحیثیت دین، اسلام کو پسند کیا ہے۔ (سورۃ المائدۃ 3)

اب اس ارشاد باری تعالیٰ کے بعد دین میں کسی تبدیلی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی اور اس کو پورا و اکمل کر دیا گیا اور جو اس میں کوئی تبدیلی کرے گا وہ مجرم ٹھہرے گااور اس کا یہ کام رد ہو جانے کے ساتھ اس کو اخروی زندگی میں برے ٹھکانے کی طرف لے جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد نبویﷺ ہے:
مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ(صحيح البخاري (3/ 69)
جس نے ایسا کوئی عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں پس وہ مردود ہے۔ (یعنی قبول نہیں)

كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلُّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ(سنن النسائي (3/ 188)
ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی آگ میں لے جائے گی۔

ان ارشادات نبویﷺ کے بعد ایسا کرنے والے کو اپنے بارے میں ڈرنا چاہیے کہ اپنے آپ کو پرکھنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور اس کا کوئی کام ایسا تو نہیں جو اس کو ان وعیدوں کا مستحق ٹھہرا رہا ہے۔ جب یہ سوچ ہو گی اور اس قسم کی کوشش ہو گی تو کچھ مشکل نہیں کہ ہم اپنے درمیان سے ایسی خرافات و بدعات اور من گھڑت قصے کہانیوں سے نکل آئیں اور اپنی دنیا و آخرت کی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔

موجودہ دور میں اس مہینہ میں ہونے والے کام کے بارے میں چند گزارشات سپرد قلم ہیں اور ان کے ساتھ ہی اسلامی تعلیم کے ترازو میں ڈال کر تولا جائے گا کہ ان کی کیا حیثیت ہے اور کیا ان پر عمل کرنا ہمیں آپﷺ نے سکھایا۔ کیونکہ تعلیمات محمدی ہی ہمارے لیے نجات کا باعث ہیں جن پر اللہ کی مہر ثبت ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

رجب کا لغوی معنی:
رَجِبْتُ الشيءَ، عَظَّمْتُه
میں نے کوئی چیز چھوڑ دی، تعظیم کرنا۔
رجب ترجیب سے ہے ترجیب کا معنی ہے تعظیم

رجب کا اصطلاحی معنی:
ورَجَبٌ: شَهْرٌ سَمَّوْهُ بِذَلِكَ لِتَعْظِيمِهِمْ إِيَّاه فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَنِ القتالِ فِيهِ، وَلَا يَسْتَحِلُّون القتالَ فِيهِ (لسان العرب (1/ 411)
یعنی رجب کو رجب اس لیے کہتے ہیں کہ عرب جاہلیت میں اس کی تعظیم کرتے تھے قتل وجدال کوچھوڑدیتے تھے اور اس مہینہ میں قتال کو حلال نہیں سمجھتے تھے۔

رجب کے مختلف نام:
رجب کا لغوی معنی عزت وتکریم ہے۔کیونکہ زمانۂ جاہلیت میں اس مہینے کا بہت زیادہ احترام کیا جاتا تھا اس لیے اس ماہ کو رجب کے نام سے موسوم کردیا گیا۔کتب تواریخ میں اس ماہ کے تقریباًچودہ نام ذکر ہوئے ہیں۔

۱۔ رجب: کیونکہ عہدِ جاہلیت میں اس کی تعظیم کی جاتی تھی اس لئے اس کا نام رجب رکھ دیا گیا۔

۲۔ الأ صم: چونکہ اس ماہ میں اسلحہ کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، اس لئے اس کو اصم کہا جاتا ہے۔

۳۔أصب: کفارِ مکہ کا عقیدہ تھا کہ اس ماہ میں بے تحاشا رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے اس لئے اس کو أصب کہا جانے لگا۔

۴۔رجیم:عہد جاہلیت میں یہ عقیدہ رکھا جاتا تھا کہ اس ماہ میں شیاطین کو رحمتِ الٰہی سے دور کیا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ اس ماہ کو۵۔ الکرم، ۶۔ المقیم، ۷۔ مقشقش،۸۔ مبری،۹۔ فرد، ۱۰۔ معلی، ۱۱۔ منصل السنۃ، ۱۲۔ منفس، ۱۳۔ مطہر۔ ۱۴۔ شہر العتیرہ بھی کہا جاتا ہے۔

رجب کی بدعات:
آج کل لوگوں نے اس مہینہ میں بے شمار کام دین کے نام پر کرنا شروع کر دیے ہیں اور نام نہاد اسلام کے ٹھیکیداروں نے اپنے کھانے پینے کا ذریعہ انہی کاموں کو بنایا ہوا ہے اور اپنے ساتھ عوام کو بھی غلط راستہ پر لے جا رہے ہیں اپنا تو صرف آخرت کا نقصان کرتے ہیں لیکن عوام کا دنیا و آخرت دونوں کا ہی نقصان کرتے ہیں۔ اب عوام کو بھی ان خرافات کی حقیقت کو جان کر ان جعلی و بہروپیوں سے جان چھوڑوا کر اپنی دینا و آخرت کو بچانا چاہیے۔ ان بدعات کے ضمن میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ماہ رجب کی فضیلت اور روزے ، اسی طرح رجب کے کسی معین دن کے روزے میں اوراسی طرح اس مہینہ میں کسی مخصوص رات کوقیام کے بارے میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی ہے جو قابل حجت ہو اور فرماتے ہیں کہ اسی بات پر مجھ سے قبل امام ابواسماعیل الہروی رحمہ اللہ نے جزم ویقین کیا ہے لیکن یہ بات مشہور وثابت ہے کہ اہل علم ضعیف احادیث کو فضائل میں قبول کرتے ہیں جب تک کہ موضوع نہ ہو اور ساتھ ساتھ یہ شرط بھی مناسب ہے کہ عامل اس کے ضُعف کا اعتقاد کرے۔
(تبيين العجب فيما ورد في فضل رجب ، لابن حجر ، ص6 )

ماہ رجب کی نماز الرغائب:
اس نماز کو ماہ رجب کے مخصوص ایام میں خاص طریقے سے بالتزام ادا کیا جاتا ہے۔ اس نماز میںپڑھنے جانے والے اذکار، تعداد اور حالات مخصوص ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

یہ نماز رجب کی پہلی جمعرات کو مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھی جاتی ہے اس میں بارہ رکعتیںہوتی ہیں ہر رکعت میں ایک دفعہ سورۃ الفاتحہ، پھر سورۃ القدر اور سورۃ الاخلاص بالترتیب تین تین دفعہ پڑھی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ بارہ رکعات دو دو رکعت کر کے ادا کی جاتی ہیں۔ نماز سے فارغ ہو کر ساٹھ دفعہ یہ درود پڑھا جاتاہے :

اللھم صل علی محمد النبی الامی وعلی آلہ۔۔۔

پھر سجدہ کی حالت میں ساٹھ دفعہ سبوح قدوس رب الملائکۃ والروح کہا جاتاہے، سجدہ کے بعد یہ دعا ساٹھ دفعہ پڑھی جاتی ہے :رب اغفرلی وارحم وتجاوز عما تعلم انک انت العزیز الاعظم۔ پھر دوسرے سجدہ میں بھی اسی طرح کیا جاتاہے۔

اس نماز کی فضیلت میں بھی کوئی کمی نہیں کی رکھی گئی بلکہ خوب گھڑ گھڑ کر اس کے فضائل و مناقب بیان کیے گئے جبکہ اسلام میں فرض نماز سے زیادہ افضل و اہم کوئی دوسری نماز نہیں۔ لہٰذا یہ نماز اور اس کے فضائل کا تعلق اسلام سے نہیں ہے۔ ورنہ اصحاب رسولﷺ اس کو ادا کرنے میں کیسے پیچھے رہ سکتے تھے؟

اس نماز کے علاوہ دوسری بھی کئی نمازیں گھڑی گئ ہیں جو کہ یہ ہیں۔
ستائسویں رات کا قیام کرنااور شب معراج کی نماز پڑھنا۔ (شب معراج کی تاریخ کے بارے میں مؤرخین کا اختلاف ہے کسی نے بھی ایک تاریخ پر اتفاق نہیں کیا ۔ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’الرحیق المختوم میں مؤرخین کے چھ اقوال ذکر کئے ہیں۔ اس لیے واقعہ معراج کو ستائسویں رجب کو ہی معین کرنا کسی صورت بھی جائز نہیں ہے اور اگر مختلف اقوال میں سے یہ قول مان بھی لیا جائے تو اس رات کسی قسم کی کوئی نماز یا کوئی دوسرا عمل آپﷺ سے یا آپﷺ کے اصحاب سے ثابت نہیں ہے۔ لہذا ایسا کرنا بدعت و گمراہی ہے۔)
یکم رجب کو ہزاری نماز پڑھنا۔
پندرہویں رجب کو صیام داؤد کی نماز پڑھنا۔
ماہ رجب کے پہلے جمعہ کی رات بارہویں نماز پڑھنا۔

رجب کے روزے :
اس ماہ کی دوسری بڑی اور مشہور ترین بدعت روزے رکھنا ہے پھر پورا ماہ روزے نہیں رکھنے بلکہ اس کے لیے بھی کچھ خاص دن ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس ماہ کے مخصوص روزے کسی صحیح نص سے یا اشارہ سے ثابت نہیں ہیں۔ ان کو یہ بدعت نکالتے ہوئے خیال نا آیا کہ اس امت پر رمضان کا روزہ فرض کرتے ہوئے بھی رعایت کی گئی تاکہ آسانی ہو اور یہ حضرات ایسے عجیب عجیب شرائط کے ساتھ عوام کو بوجھ تلے دفن کر رہے ہیں جبکہ خود کے لیے بھی یہ کام مشکل ہوتا ہے۔ یہ خاص طبقہ اس مہینے کی پہلی دوسری اور تیسری تاریخ یا ساتویں تاریخ یا پورے مہینے کے روزوں کو سنت کا رنگ دینے کیلئے سخت ضعیف اور موضوع روایات کا سہارا لیتا ہے ان موضوع اور من گھڑت روایات کے جواب میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں: ماہ رجب کے روزوں کی حقیقت پر کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور نہ ہی صحابہ اور سلف صالحین میں سے کسی نے خصوصی طور پر ان روزوں کا اہتمام کیا۔ اس کے برعکس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس مہینہ میں روزے رکھنے والوں کو تعزیراً (درے) مارتے تھے اور فرماتے : اس (ماہ رجب) کو ماہ رمضان کے مثل نہ بنائو۔ (ارواء الغلیل : ۴/۱۱۳)

اسی طرح علامہ ابن قیم الجوزی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
لم یصم الثلاثۃ الأشہر سرداً رجب شعبان ورمضان کما یفعلہ بعض الناس ولا صام فی رجب قط (زاد المعاد فی ھدی خیر العباد ۲/۶۴) (البدع الحولية (ص: 232)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی رجب شعبان اور رمضان میں تسلسل کے ساتھ روزے نہیں رکھے یہ فعل تو کچھ لوگوں نے اپنا لیا ہے۔ ماہ رجب اس میں توآپ ﷺنےبھی خصوصی روزہ نہیں رکھا۔

رجب کے کونڈے بھرنا:
مسلمانوں کے اندر اسلامی تعلیم کو بگاڑنے کے لیے کفار نے ہر طرح کی کوشش کی ہے اور اس کوشش سے منافقین پیدا کیے ہیں جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے اور خود کار طریقوں سے مسلمانوں کو اسلامی تعلیم کا کہہ کر گمراہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر جگہ ہی موجود تھے لیکن برصغیر پاک وہند میں کچھ زیادہ ہی آئے اور انہی میں سے ایک منشی جمیل احمد تھا جس نے اپنی کتاب ’’داستان عجیب میں اس بدعت کا تذکرہ’’نیاز نامہ امام جعفر صادق ‘‘ کے نام سے کیا۔ اور اس بدعت کو وجود دینے کے لیے ایسا عجیب و غریب قصہ بنایا کہ عقل سلیم اس کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔ اس قصہ میں ایک لکڑہارے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ مدینہ کا رہائشی تھا اور بہت زیادہ تنگدستی کی زندگی بسر کر رہا تھا اس کے بیوی بچے اکثر فاقوں میں رہتے تھے۔ وہ لکڑہارا بارہ سال تک دردر کے دھکے کھاتا رہا لیکن تنگدستی اور فاقوں نے اس کا پیچھا نا چھوڑا۔ ایک دن لکڑہارا وزیر کے محل کے قریب سے گزر رہا تھا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ اتنے میں ایک آدمی اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ وہاں سے گزرا اور اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ آج کیا تاریخ ہے تو ساتھیوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس تاریخ ہے تو ان صاحب نے فرمایا: کہ جو کوئی کسی حاجت یا مشکل میں ہواور اس کی حاجت پوری نا ہوتی ہو اور مشکل آسان نہ ہو تو وہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے دن میرا دامن پکڑ سکتا ہے۔ ان صاحب کا نام امام جعفر صادق لکھا گیا ہے۔

یہ ایک من گھڑت اور بے بنیاد قصہ ہے جس کا حقیقت کے قریب سے گزر نہیں ہے۔ اس میں کئی ایسی چیزیں ہیں جو اس کے جھوٹے ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً مدینہ میں محل کا ہونا، بادشاہ کے وزیر کا ہونا، جبکہ امام جعفر کے زمانے میں مدینہ دارلخلافہ کبھی رہا ہی نہیں ان کے زمانہ میں بنو امیہ کی حکومت تھی اور ان کا دارالخلافہ بغداد تھا۔ پھر اگر لکڑہارا کی بیوی وزیر کی نوکری کرتی تھی تو لکڑہارا کے گھر فاقے کیسے پڑتے تھے؟ پھر اگر امام جعفر حاجت روا اور مشکل کشا مانا جائے تو یہ اللہ کے ساتھ شرک اکبر ہے جس کی معافی بھی نہیں۔ (والعیاذ باللہ) اس جھوٹ کو گھڑتے ہوئے ان چیزوں کا بھی خیال نا رکھا گیا کہ عقل کی کسوٹی پر بھی اترتا ہے کہ نہیں! بس عوام کو لوٹنے کے لیے شکم پرست ملاؤں نے اس قصہ کو سنا سنا کر گمراہی کے دروازے کھول دیے اور اب تک اس کو دن بدن بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

حقیقت کونڈے:
اس سارے قصہ کا امام جعفر سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے یہ جس زمانہ میں گھڑا گیا اس زمانہ سے بہت پہلے امام صاحب گزر چکے تھے۔ یہ دن امام صاحب کی نہ تاریخ ولادت ہے اور نہ تاریخ وفات، بلکہ اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو ہمیں اس تاریخ میں جلیل القدر صحابی، کاتب وحی، بحری فوج کے موجد، عرب کے منجھے ہوئے سیاستدان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ملتی ہے۔ اور اس تاریخ کو بعض دشمنان صحابہ ان سے اپنا بغض و کینہ نکالتے ہیں اور عظیم سپہ سالار کی وفات پر اظہار خوشی کرتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ اس خوشی میں اہل سنت اور سادہ لوح عوام کو بھی اس من گھڑت قصہ کے ذریعے شامل کر لیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس ماہ کی من گھڑت بدعات یہ ہیں اور امید کی جا سکتی ہے کہ اگر اسی طرح آنکھیں بند رکھ کر بدعات کرتے چلے گئے تو ان میں مزید اضافہ ہو گا اور طریقے بھی نئے نئے ایجاد ہوتے رہیں گے کیونکہ بدعت کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا وہ نت نئ بنتی رہتی ہے۔ اور جیسے جیسے لوگوں میں گھومتی ہے اس میں کچھ نا کچھ بدلتا رہتا ہے۔
ماہ رجب میں کثرت سے عمرہ کرنا۔
معاجن رجب یعنی ماہ رجب کی 22 تاریخ کو امام جعفر صادق کی نیاز کے طور پر کھیر پکانا۔
مردوں کی روحوں کی طرف سے صدقات و خیرات کرنا۔
بالخصوص اس ماہ قبروں کی زیارت کرنا۔
مخصوص دعائیں پڑھنا۔
خاص فضائل کے ساتھ زکوٰہ و صدقات کرنا۔
پہلی رات خاص فضیلت سے غسل کرنا۔

مختصر یہ کہ موجودہ دور میں بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لیے دین کے نام پر کئی طرح کی چیزیں ایجاد کی ہوئی ہیں اور ان پر بڑی ڈھٹائی کے ساتھ لڑنے مرنے کو تیار رہتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ اسلام کے دشمن تو کریں ہی کریں لیکن اسلام کے ماننے والے اس کی حفاظت کرنے والے اور اس پر عمل کرتے ہوئے جنت میں جانے کا دعویٰ رکھنے والے ایسے مذموم کام کرتے ہیں ۔ اور پھر لوگوں کو بھی طرح طرح کے حیلہ و بہانہ سے ان کی طرف راغب کرتے ہیں۔ درحقیقت ایسے لوگ خود اپنے آپ کو ہی دھوکہ دیتے ہیں اور اپنی آخرت کی زندگی کو تباہ و برباد کر لیتے ہیں اور پھرجب وہ زندگی شروع ہو گی تو سوائے ندامت و افسوس کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔ (والعیاذ باللہ)

قارئین کرام! رجب کی بدعات اور دوسری جتنی بھی خرافات ہیں ان سے ہمیں خود بھی بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دلانی چاہیے یہ ہم سب پر لازم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے یہ سوال بھی کرنا ہے کہ خود تو بدعات و خرافات سے بچتےرہے لیکن اپنے آس پاس، دوست، رشتہ دار اور جاننے والوں کو ایسی خرافات کرتے دیکھ کر روکتے کیوں نہ تھے؟ پھر ہمارے پاس بھی کوئی جواب نا ہو گا اور ہم نہ کیے جرم کی سزا لے رہے ہوں گے۔ اس لیے ابھی وقت ہے اور ایسی تمام چیزیں جن کی تعلیم اللہ اور اس کے رسولﷺ نے نہیں دی ان کے خلاف جہاد کرنا ہوگا اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی بچانا ہوگا۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی اہل اسلام کو سنت سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام بدعات وخرافات و رسومات سے محفوظ رکھے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

چھالیہ اگر گٹکا نہیں ہے تو کیوں ضبط کی جارہی ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے چھالیہ ضبط کرنے اور مقدمات درج کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت پر...

کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری، تحقیقاتی کمیٹی کا روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ

کراچی :سندھ حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی نے کیپٹن(ر)صفدرکی گرفتاری کے واقعے کی تحقیقات کیلئے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس کا فیصلہ کرلیا...

کراچی ترقیاتی کمیٹی کا نالوں پر قائم آبادیوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ

کراچی: وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر سعید غنی، کور کمانڈر...

سرجانی ٹاؤن, 5سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سے اغواء

کراچی:سرجانی ٹاؤن سیکٹر4 ڈی سے 5 سالہ بچی عروہ فہیم گھر کے قریب سےاغواء ,پولیس کے مطابق گزشتہ روز پیر تقریبا رات...