Saturday, October 24, 2020
Home Uncategorized ملک کا تعلیمی نظام قومی سلامتی اورنظریاتی تشخص کے مطابق ہونا چاہئے،مفتی...

ملک کا تعلیمی نظام قومی سلامتی اورنظریاتی تشخص کے مطابق ہونا چاہئے،مفتی تقی عثمانی

22muftitaqiusmanilarge320x180کراچی ، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات اور دیگر معاملات پر توتوجہ دی جاتی ہے لیکن تعلیم جیسے اہم شعبے کو نظرانداز کیا جاتا ہے ۔حقیقت میں پاکستان کو ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جو پاکستان کی قومی سلامتی ،ملی وحدت اور نظریاتی تشخص کے مطابق ہو ۔جامعة الرشید نے ایک اعلیٰ مثال قائم کردی ہے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے معروف دینی ادارے جامعة الرشید کی سالانہ تقریب تقسیم اسناد و انعامات سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔تقریب سے وزیر مملکت برائے تعلیم انجینئر محمد بلیغ الرحمن ،مولانا صاحبزادہ فضل رحیم ،مولانا عزیز الرحمن ہزاروی ،مفتی عدنان کاکا خیل ،پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی ،پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری ،تاجر رہنما افتخارہ وہرہ ،اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا امداد اللہ ،پروفیسر ڈاکٹرسعید الرحمن ،تاجر رہنما زبیر موتی والا ،آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل ،وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے مذہبی امور ڈاکٹرعبدالقیوم سومرو ،گیلپ آف پاکستان کے سربراہ اعجاز شفیع گیلانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔جبکہ تقریب میں جامعة الرشید کے رئیس مفتی عبدالرحمن ،پروفیسر ڈاکٹر خان بہاد مروت ،اقرا کے مولانا مفتی مزمل حسین کاکڑیا ،پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ ،رئیس دارالافتاءجامعة الرشید مفتی محمد اور دیگر نے شرکت کی ۔تقریب میں مختلف شعبوں میں فاضل 418طلبہ میں انعامات اور اسناد تقسیم اور دستار بندی کی گئی ،جن میں درس نظامی ،شعبہ کلیة شریعہ ،ایم بی اے ،بی بی اے ،بی کام ،بی اے ،تخصص فی الافتاء،تخصص فی الفقہ والحدیث ،تخصص فی القرات و تحفیظ القرآن ،کلیة الدعوة ،تجدید کورس ،درسات دینیہ ،عربی لینگویج کورس ،صحافت، انگلش لینگویج کورس ،عربک اینڈ انگلش ٹیچنگ ٹریننگ کورس اور دیگر شعبوں کے فضلاءشامل تھے ۔مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو غیر معمولی صلاحیتیں عطا کرتا ہے جس کی بناءپر وہ خاموشی سے اپنی خدمات سرانجام دیتے ہیں اور ان کی خدمات ملت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں ۔مفتی عبدالرحیم بھی ان ہی میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جامعة الرشید ایک عظیم ادارہ ہے جس نے تعلیم کے شعبے میں اہم خدمات سرانجام دی ہیں ۔نظام تعلیم کسی بھی قوم کی زندگی ،بقاء،ترقی اور ارتقاءکے لیے بنیاد ہے ۔دنیا کے تمام وسائل جمع کریں لیکن تعلیم نہ ہو تو یہ وسائل کسی کام کے نہیں ۔آج کے نوجوان کل کا مستقبل ہیں ۔اگر انہیں صحیح طور پر تیار نہیں کیا گیا تو اپنے مستقبل پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے ۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں تین مختلف نظام تعلیم ہیں اور تینوں کے درمیان بہت ہی خلیج واقع ہے ۔دینی مدارس ،سرکاری تعلیمی ادارے اور نجی تعلیمی اداروں کے مزاج میں نمایاں فرق ہے ۔اس وقت پاکستان میں 25ہزار سے زائد دینی مدارس میں 35لاکھ طلباءزیر تعلیم ہیں جو کل آبادی کا معمولی حصہ ہےں اور باقی سارا حصہ سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں ہے ۔کسی بھی سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں افراد پیدا کرنے کا بنیادی مقصد دنیا کی دولت ،شہرت ،منصب اور دیگر سہولیات ہیں اور اس سے آگے کا سوچا ہی نہیں جاتا ہے ۔مگر مدارس میں آخرت کو اولیت حاصل ہے اور دنیا کے بارے میں بعد میں سوچا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگ مدارس اور ان سے منسلک لوگوں پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن جو زبان سیاسی رہنما ایک دوسرے کے حوالے سے استعمال کرتے ہیں ایسی زبان شدید اختلاف رکھنے کے باوجود مختلف مکاتب فکر کے علماءایک دوسرے کے لیے استعمال نہیں کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور دانشور طبقہ تعلیم پر سوچے اور نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے کوشش کرے ۔اس وقت پاکستان کو مختلف نظام تعلیم کی بجائے متحد نظام تعلیم کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ میرے والد مفتی محمد شفیع عثمانی سے سردار عبدالرب نشتر نے نظام تعلیم کے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ تھا کہ قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں میں تین قسم کے نظام تعلیم تھے ۔ایک کی نمائندگی دارالعلوم دیوبند ،دوسرے کی دارالعلوم ندوة العماءاور تیسرا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شامل تھی لیکن ان میں بہت سارے معاملات یکساں تھے ۔مفتی شفیع عثمانی نے بتایا کہ ہمیں صرف دارالعلوم دیوبند کی طرح خالص مذہبی تعلیم ،ندوة العلوم کی طرح صرف دانشور اور ادیب اور نہ ہی علی گڑھ کی طرح عصری علوم کی ضرورت ہے بلکہ ہمیں متحد نظام تعلیم کی ضرورت ہے جو ہمارے تمام نظریاتی ،اخلاقی ،ملی ضروریات کا احاطہ کرے ۔استعمار نے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے مختلف نظام تعلیم رائج کیے ۔اس سے قبل مسلمانوں میں پہلی جماعت سے میٹرک تک تمام علوم پڑھائے جاتے تھے اس کے بعد پھر فنی تعلیم پر توجہ دی جاتی تھی ۔آج یہ صورت حال ہے کہ عصری تعلیم پڑھنے والوں میں سے ایک بڑی تعداد کو سورہ اخلاص تک درست پڑھنی نہیں آتی ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعد بھی غلامی کے نظام تعلیم سے نہ نکل سکے ۔مدارس کے خلاف پروپیگنڈا غلط ہے یہاں پر تمام تعلیم دی جاتی ہے ۔جامعة الرشید اس حوالے سے ایک مثال ہے اور یہ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے ۔اس موقع پر جنرل سیکرٹری پاکستان اکیڈمی آف سائنسز اسلام آباد ڈاکٹر پروفیسر ضابطہ خان شنواری ،مولانا صاحبزادہ فضل الرحمن ،تاجر رہنما افتخار احمد وہرہ ،زبیر موتی والا سمیت مختلف دانشوروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جامعة الرشید کو یونیورسٹی کا درجہ دے ۔اس موقع پر انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

ایف آئی اے کی کراچی میں کارروائی، را نیٹ ورک کا اہم رکن گرفتار

ایف آئی اے نے گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے را تیٹ ورک کا اہم رکن گرفتار کرلیا، ترجمان ایف آئی اے...

کرپشن کا الزام، میونسپل کمشنر اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ معطل

کراچی:غیر قانونی طریقے سے من پسند کمپنیوں کو اشتہارات کے ٹھیکے دینے اور سرکاری فیس وصولی میں خرد برد کے معاملے پر...

رینجرزکی شہرکےمختلف علاقوں میں کارروائیاں، 18ملزم گرفتار

کراچی: سندھ رینجرز نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف وارداتوں میں ملوث 18 ملزمان کو گرفتار کر لیا،...

نقلی وزیراعظم نے اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ

کراچی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نااہل وزیراعظم نے اپنی ڈھائی سالہ ناکامی کا اعتراف کرلیا، مراد علی شاہ کا صحافیوں سے گفتگو...