Monday, November 30, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

کراچی کی چند خوبصورت مقامات کی ڈرون فوٹیج

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا اور آباد شہر ہے۔ سابقہ دارالحکومت ہونے کی وجہ سے ، یہ ایک ممکنہ تجارتی...

جامعہ کراچی کی پوائنٹس سروس

وفاقی سطح پر قائم تعلیمی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر...

پلاسٹک آلودگی ( کرن اسلم)

اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو آپ کو کسی نہ کسی صورت میں پلاسٹک کی اشیا ضرور ملیں گی۔ مثال کے طور...

بہادرآباد، ڈکیتی کی بڑی واردات،شہری40 لاکھ روپے سے محروم

بہادرآباد میں ڈکیتی کی بڑی واردات، شہری 40 لاکھ روپے سے محروم، ذرائع کے مطابق بہادرآباد شاہ...

ٹی وی چینلز قوم کے اعصاب پر سوار (رپورٹ: فاروق اعظم)

index آزادی و انقلاب مارچ نے جہاں اسلام آباد میں شہری زندگی اجیرن کرکے رکھ دی ہے، وہیں پر پوری قوم بھی اس کے اثرات سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔ 14 اگست سے جاری عمران خان و طاہرالقادری کے دھرنوں نے ملک میں سیاسی و معاشی بحران کے ساتھ ساتھ عوام کو نفسیاتی طور پر بھی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ ملکی تاریخ میں سیاسی رسہ کشی کی بدترین مثال شاید ہی اس سے پہلے کبھی دیکھنے کو ملی ہو۔ اگرچہ 1970ءکے انتخابات کے بعد بھی پاکستان شدید ترین سیاسی بحران سے دوچار ہوا تھا، لیکن اس وقت نجی ٹی وی چینلز کے نہ ہونے کے سبب عوام اس قدر ذہنی دباﺅ کا شکار نہیں تھے۔

imagesموجودہ سیاسی بحران کو نجی ٹی وی چینلز نے مزید پیچیدہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے بعض چینلز اور پروگراموں پر یہ الزامات عائد کیے جاچکے ہیں کہ یہ بیرونی فنڈنگ پر عوام کی گمراہی کا سبب بن رہے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف و عوامی تحریک کے حالیہ دھرنوں نے تمام ٹی وی چینلز کو ایک ہی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ ٹی وی چینلز کے نیوز بلیٹن سے لے کر ان کے آمدنی کے ذرائع یعنی اشتہارات بھی عمران خان اور طاہرالقادری کے خطابات و دھرنوں کی نذر ہوگئے ہیں۔ ملک کے سنجیدہ حلقوں میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ٹی وی چینلز اشتہارات کے بل بوتے پر ہی رواں دواں رہتے ہیں، لیکن کیا وجہ ہے کہ وفاقی دار الحکومت میں عمران خان و طاہرالقادری کے دھرنوں کی خصوصی کوریج کے لیے چینلز نے اشتہار بازی بھی تقریباََ ترک کردی ہے۔

index1اس حوالے سے ماہر ابلاغیات و شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے چیئرمین پرفیسر ڈاکٹر طاہر مسعود نے کراچی اپڈیٹس سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ نجی ٹی وی چینلز حالیہ سیاسی بحران میں مجرمانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ آزادی و انقلاب مارچ کے چند ہزار شرکاءکی رائے کو اٹھارہ کروڑ عوام پر مسلط کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی سیکورٹی مسائل سے دوچار ہے۔ ان دنوں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب بھی چل رہا ہے، لیکن ٹی وی چینلز نے غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنا کر قوم کو شدید ذہنی دباﺅ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اس سے قبل کرائم نیوز کا سہارا لے کر سنسنی پھیلائی جاتی تھی جبکہ اب دن رات مسلسل سیاسی دھرنوں کو کور کیا جا رہا ہے۔ کراچی اپڈیٹس کے اس سوال پر کہ ٹی وی چینلز اپنے اخراجات کا بڑا حصہ اشتہارات سے ہی پورا کرتے ہیں، لیکن ان دنوں نیوز بلیٹن کے ساتھ ساتھ اشتہارات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے؟ ڈاکٹر طاہر مسعود کا کہنا تھا اس سے واضح ہو رہا ہے کہ جو چینلز ان دھرنوں کو خصوصی کوریج دے رہے ہیں، ان کی بھرپور فنڈنگ کی گئی ہے، ورنہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ نجی چینلز اشتہارات کے بغیر اپنے اخراجات پورے کریں۔

کراچی اپڈیٹس کے میڈیا بنک مانیٹرنگ روم کے انچارج عبدالمنان کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کسی سیاسی جلسے یا دھرنے کی اس قدر خصوصی انتظامات کے ساتھ کوریج دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان دنوں نجی ٹی وی چینلز عمران خان اور طاہرالقادری کے مکمل خطابات اور دھرنوں کی لمحہ بہ لمحہ مکمل لائیو رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ اب ٹی وی اسکرین پر ملک کے دیگر قومی ایشوز کی بجائے آزادی و انقلاب مارچ کے مناظر ہی دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ نجی ٹی وی چینلز کا دعویٰ ہے کہ وہ 12، 13 ڈی ایس این جیز سے دھرنے کور کر رہے ہیں، جبکہ ڈرون کیمرے اس کے علاوہ ہیں۔

موجودہ سیاسی بحران میں الیکٹرانک میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ کردار کے حوالے سے عوامی حلقوں میں بھی سخت تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ ٹی وی چینلز اپنے مجرمانہ رویہ کے باعث قوم کے اعصاب پر سوار ہوگئے ہیں۔ اگر سرمایہ دارانہ یا تجار طبقے کی بجائے سنجیدہ صحافتی حلقے کو ہی ٹی وی چینل کا لائسنس جاری کیا جاتا تو آج صحافت کا یہ بھیانک چہرہ دیکھنے کو نہ ملتا۔

1 COMMENT

  1. فاروق صاحب آپ نے درست فرمایا۔ اگر میڈیا کو کاروبار کی بجائے صحافتی اصولوں پر چلایا جاتا تو آج ملکی بحران اس قدر شدید نہ ہوتا۔

Comments are closed.

Open chat