Monday, October 26, 2020
Home کالم /فیچر کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ (امینہ مراد)

کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟ (امینہ مراد)

indexآج پاکستان کا 68واں یوم آزادی اور 67واں جشن آزادی روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔ پورا ملک اور پوری قوم ہر سال کی طرح آزادی کی یادتازہ کررہی ہے اور مختلف طریقوں سے اظہار مسرت و شادمانی میں مصروف ہے ۔ ہر طرف پاکستانی پرچموں کی ریل پیل ہے ، عوام خواص اور چھوٹے بڑے اپنے گھروں ، گاڑیوں اور گلیوں ، بازاروں میں پاکستان کے جھنڈے لہرا کر جشن آزادی منارہے ہیں ۔ آج سرکاری وغیر سرکاری سطح پر جلسے اور تقریبات بھی منعقدہ ہوں گی ، ان میں جدوجہد آزادی کے احوال کا بیان اور آزادی کی اہمیت پر تقریریں بھی ہوں گی، نغمے اور ترانے گائے جائیں گے ، حکمرانوں کی طرف سے مروجہ انداز اور لگے بندھے معمول کے مطابق قوم کے نام خوب صورت الفاظ پر مشتمل پیغامات بھی نشرہوں گے، پاکستان کی ترقی و مضبوطی اور اس کے ناقابل تسخیر ہونے کی نویدیں بھی سنائی جائیں گی اور اسے مزید مضبوط بنانے کیلئے عوام کو محنت وایثار اور فربانی کی تلقین بھی کی جائے گی لیکن خدشہ یہی ہے کہ ماضی کی طرح یہ سب کچھ محض رسمی ہی ہوگا، اس کے بعد عوام و خواص میں سے کوئی بھی عملی طور پر اپنے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گا، آزادی کی حفاظت اور ملکی استحکام کے تقاضون پر توجہ دینے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوگی۔ عوام تک آزادی کے ثمرات پہنچانے کا کوئی اہتمام نہیں ہوگا اور نئی نسل کو تحریک پاکستان کے حقیقی مقاصد سے آگاہی کی کوئی فکر نہیں کی جائے گی۔

یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنی آزادی کے 67سال گزرنے کے بعد بھی اکادکاکامیابی کے علاوہ آزاد قوموں والا کوئی کارنامہ انجام نہیں دے پائے ، بلکہ حقیقی معنوں میں پنے آپ کو آزاد ہی نہیں کر پائے ۔ اس تلخ حقیقت سے کوئی مفر نہیں ہے کہ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں ہے جس کے حصول کی خاطر ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دی تھیں ۔ بدقسمت سے ہم ملک کی جغرافیائی حدود کو قائم رکھ سکے نہ نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی کرسکے ۔ جغرافیائی لحاظ سے ہم آدھا ملک پہلے ہی کھو چکے ہیں اور باقی ماندہ آدھے حصے کی زمینی ، بحری و فضائی حدود کا تقدس بھی اغیار کے ڈرون حملوں کی زد میں ہے ۔ نظریاتی لحاظ سے ہمارا یہ حال ہوچکا ہے کہ آج ہم خود اپنے بچوں کو یہ سبق پڑھانے لگے کہ برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اسلام کی خاطر نہیں بلکہ معاشی مفاد یعنی پیٹ کی خاطر خون کے دریاعبور کیے تھے۔ درحقیقت ہم آزادی کے مفہوم کو ہی فراموش کر بیٹھے ہیں۔ آزادی کا مطلب اپنے پائوں پر کھڑا ہونا، معاشی و وفاعی استحکام حاصل کرکے اپنی آزادی کو دوسروں کی مداخلت سے محفوظ اور ملک کو ناقابل تسخیر بنانا اپنے نظام کو رائج کرنا ، اپنی تہذیب و تشخیص کا رنگ جمانا، اپنی روایات و اقدار کو زندہ کرنا، اپنی قوم اور ملک کے مفاد میں پالیسیاں بنانا اور اپنے عوام کیلئے تمام ضروریات زندگی کی فراہمی کا اہتمام کرنا ہوتا ہے ، اگر اس زاویے سے دیکھا جائے توسوائے عسکری میدان میں کچھ پیش رفت کے ہر طرف ہماری ناکامیاں آشکار ہیں ۔

imagesعوام کے دکھوں میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہورہا ہے ، غریب نان شبینہ اور اپنے بچوں کی دواو علاج کے لئے اسی طرح دھکے کھارہا ہے ، مہنگائی اور بے روزگاری روز افزوں ہے ، عوام اندر اور باہر دونوں طرف سے عدم تحفظ کا شکار ہیں، امن و انصاف نا پید ہے، باہر سے غیر ملکی دشمن پاکستانیوں کی عزت نفس کو مجروح کررہا ہے تو اندر سے کئی بحران منہ کھولے کھڑے ہیں ۔آج پورے ملک کو چند سیاستدانوں نے اپنے مفادات کی خاطر شدید بحرانوں میں مبتلا کررکھا ہے،جمہوریت کا راگ الاپنے والے آج خود جمہوریت کو D-Railکرنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوام کو بھی سڑکوں پر لاکر پورے ملک کو خود ہی مسائل کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں ،جبکہ ایک غریب ، شریف اور خود دار پاکستانی اس وقت حقیقتاً نہ جائے ماندن نہ پائے ر فتن ‘‘والی کیفیت سے دو چار ہے ۔ اس صورت کے تدارک کیلئے کسی ٹھوس تدبیر و حکمت عملی کا کہیں کوئی وجود نہیں۔ عوام کو مہنگائی ، لوڈشیڈنگ ، سرکاری محکموں کی کرپشن ، دھاند لیوں اور رشوت خوری سے نجات دلانے والا کوئی نہیں ، قومی آزادی و خود مختاری میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کا سرکاری سطح پر کہیں کوئی عزم دکھائی نہیں دیتا ۔ ہمارے سابقہ حکمرانوں نے پاکستان کے اساسی نظریے کے خلاف کئی یوٹرن لے لیے ، غیر ملکی سرپرستوں کو خوش کرنے کیلئے دیرینہ قومی پالیسیاں بدل ڈالیں۔

index0پاکستان میں امریکا کو اڈے دینے سے لیکر ڈرون حملوں کی غیر اعلانیہ اجازت دینے تک اور امریکی ایجنسیوں کو ملک میں کاروائیاں کرنے کی کھلی چھوٹ ، جہاد کشمیر کو دراندازی تسلیم کرنے کا بار بار عندیہ دینے تک کئی ایسی تبدیلیاں کر ڈالیں۔ جو صریح طور پر نظریہ پاکستان اور ملکی آزادی و خود مختاری سے متصادم ہیں جبکہ اس کے برعکس ملک میں عیاشی و فحاشی اور بے حیائی و بے راہ روی کا کلچر اپنے عروج پر ہے ، بھارتی اور مغربی تہذیب کیلئے سارے دروازے چوپٹ کھلے ہیں ۔ان تلخ حقائق کے ہوتے ہوئے نظریہ پاکستان پر یقین اور تحریک پاکستان کے مقاصد کا شعور رکھنے والا کون ساد ردمند پاکستانی خوش ہوسکتا ہے اور یہ یقین کرسکتا ہے کہ ہم آزاد ہیں۔ یہ وہ آزادی ہے جس کے لئے پاکستان کے حصول کی جنگ لڑی گئی تھی ، نہ یہ پالیسیاں آزادی کو محفوظ بنانے والی ہیں اور نہ یہ ان وعدوں کے مطابق ہیں جو تحریک پاکستان کے قائدین نے برصغیر کے مسلمانوں سے کیے تھے اور جن کے پیش نظر انہوں نے اس ملک کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دی تھیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...