گھریلو ملازمین پر تشدد، سدباب کون کریگا

attack on womanتحریر: زوبیہ صدیقی (جامعہ کراچی)
حال ہی میں ایک بار پھر گھریلو ملازمہ پر تشدد کی صورتحال منظر عام پر آئی ہے۔ جو انتہائی سنگین واقعہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں آج بھی دنیا جہالت کے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ کراچی جیسا بڑا شہر ہو مگر اس میں بسنے والے آج بھی دیہاتیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔

گھریلو ملازمین پر تشدد ایک سنگین واقعہ ہے اور نہ صرف واقعہ ہے ایک سنگین ناقابل برداشت جرم ہے۔ گاوئں دیہاتوں سے آنے والے یہ لوگ جو بڑے بڑے محلوں میں بسنے والے لوگوں کے گھروں میں روزی کما رہے ہیں۔ اپنے روزگار کے لئے محنت کر رہے ہیں۔ کیونکہ بڑے بڑے دفتروں میں نوکری کے لئے پی ایچ ڈی ہونا ضروری ہے۔ چاہے ہنر نہ ہوتو یہاں چھوٹے دل والے لوگوں میں جب دیہاتی اپنے روزگار کے لئے آتے ہیں ان لوگوں کے بڑے محلوں کی صفائی ان کا خیال ان کی چیزوں گھروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں تو ہم پڑھے لکھے لوگ کیوں جہالت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ غریب مجبور انسان کی بے بسی کا فائدہ کیوں اٹھاتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک تشدد کا دلخراش واقعہ سامنے آ رہا ہے جس سے اس ملک شہر اور لوگوں کا معیار خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے بچوں پر اس کے انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہں۔ عورتوں اور بچوں پر ہونے والے ان واقعات میں انسانیت کا بڑا عنصر نمایاں ہے۔

گھریلو ملازموں پر تشدد نہ صرف مذہب کے خلاف ہے بلکہ انسانیت کے خلاف بھی جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ اسلام کے پہلو سے بھی ہمیں اپنے غلام، نوکروں کے ساتھ شفقت اور نرمی سے رہنا سکھایا ہے۔ یہ مسئلہ اتنا بڑا نہیں مگر آ نے والی نئی نسل کے زمانے میں اس کے مسائل بہت برے ہوں گے چونکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے تو حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس مسئلے پر جلد از جلد روشنی ڈالیں اور اسلام اور انسانیت کے پہلو سے آگاہی فراہم کریں۔ ایسی درسگاہیں بنائیں یا قوانین اختیار کریں جس سے ہر انسان کو جینے کا حق دیا جائے اور امیر غریب کا فرق برابر کیا جائے تاکہ کوئی بھی وڈیرا سائیں نہ بنے اور خود کو سب سے اونچا سمجھ کے کسی گناہ یا جرم میں شامل نہ ہو۔ گھروں میں کام کرنے والوں کو ان کا حق دیا جائے اور ان پر تشد د کے خلاف فوری ایکشن لے کر انسانیت کو ذندہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top