Thursday, December 3, 2020
- Advertisment -

مقبول ترین

اسٹیل مل کی نجکاری سب سے بڑی ڈکیتی ہے، سعید غنی

وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم کسی کو اسٹیل ملز کی زمین اور اس کے اثاثے ہتھیانے نہیں...

کھانوں پر پابندی، شادی ہالز ایسوسی ایشن کا مظاہرہ

شادی ہالز میں کھانوں پر پابندی کےخلاف آل پاکستان شادی ہالز ایسوسی ایشن کا پریس کلب کے باہر مظاہرہ، اس موقع پر رہنمائوں کا...

ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن

کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر کراچی ضلع وسطی کے مزید علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، لاک ڈاؤن والے علاقوں میں...

اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز

 پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، اسٹاک ایکسچینج میں 377 پوائنٹس کا اضافہ، 100 انڈیکس کی 337 پوائنٹس کے اضافے سے 42...

30مارچ 2003 تا 2015(حفیظ خٹک)

Aafia-Siddiquiامی جان ، پہلے آپ میری بات غور سے سنیں ، کل رات کو میرے خواب میں حضورﷺ تشریف لائے تھے، اس وقت میرے ٹوٹے ہوئے دانتوں میں بہت تکلیف تھی، آپ میرے قریب آئے اور میرے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا ، مجھے دیکھ کر مسکرائے اور فرمانے لگے کہ تمہیں یاد ہے کہ غزوہ احد میں کفار کے حملے میں ، میرے دانت بھی ٹوٹ گئے تھے ، آج تمہارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے ، کافروں نے تمہارے دانت بھی توڑ دیئے ہیں،تم میری بیٹی ہو، تمہاری سب تکلیفیں جلد دور ہوجائیں گی۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے میرے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھا اور پھر مجھے معلوم نہیں ہوا ۔ امی جب میں صبح اٹھی تو میرے توٹے ہوئے دانتوں میں کوئی تکلیف نہیں تھی۔
یہ ایک خواب تھا جو کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے برسوں قبل دیکھا اور اس کا ذکر اپنی والدہ عصمت صدیقی سے فون پر کیا۔ چند روز قبل جب ڈاکٹر عافیہ کے گھر جانا ہوا ،تو ان کی والدہ عصمت صدیقی سے ملاقات ہوئی، بیمار جسم کے ساتھ اپنے گھر کے صحن میں واکر کے سہارے چہل قدمی کرنے کی کوشش کر رہی تھیں،
لفظ چہل قدمی کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ وہ دراصل اپنی بیٹی عافیہ کا انتظار کر رہی تھیں زیادہ مناسب ہوگا۔ بالکل ایسے جس طرح کسی اسکول سے بچہ لیٹ ہوجائے اور اس کی والدہ گھر میں بے چینی کے عالم میں ٹہلتی ہوں، رات دیر سے گھر آنے پر والدہ اپنے بچوں کیلئے بے چین ہو۔ اس سمے مجھے بھی ایسا ہی محسوس ہوا کہ عصمت صدیقی صاحبہ اپنی بیٹی عافیہ کے انتظار میں اپنے بیمار جسم کے ساتھ انتظار کر رہی ہوں۔ ان سے سلام اور ان کی مزاج پرسی کی ۔ اسی دوران ڈاکٹرعافیہ کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے اک ٹھنڈی آہ بھر کر آسمان کی جانب دیکھا ! اس کے بعد اپنے گھر کا جائزہ لیا ، پھر تیرتی نمی والی آنکھوں کے ساتھ ہماری جانب دیکھتے ہوئے گویا ہوئیں ۔ بیٹا !مجھے اب اللہ ہی سے امید ہے ۔ وہی عافیہ کومجھ سے ملوائے گا۔ سارے لیڈروں کو دیکھ لیا ۔ سب کو آزمالیا۔ بس اب اللہ ہی آخری آسراہے ۔ وہ ہی اس کو باعزت رہائی دلواکر مجھ سے اور اپنے بچوں سے ملوائے گا۔(ان شا اللہ )
اس کے بعد انہوں نے عافیہ کے مختلف قصے سنانے شروع کر دیئے، ایک ، دو تین ، نہ جانے کتنے ہی قصے تھے جو وہ سنائے جارہی تھیں، ہر قصے پر وہ کبھی جذباتی، کبھی روہانسی، کبھی نمدیدہ ہوتیں۔ کبھی وہ مسکرادیتیں۔ اس دوران ہم نے ان سے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں ۔ لیکن انہوں نے سنی ان سنی کردی اور عافیہ کی باتیں، عافیہ کے قصے سنانے میں مگن رہیں۔
سنتے سنتے ہمیں تھکن کا سا احساس ہونے لگا لیکن وہ اس وقت عزم کا پہاڑ بنی کھڑی رہیں۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ وہ بیمار ہی نہیں۔ سچ کہتے ہیں انسان کا دل مطمئن ہو ،جذبے بلند ہوں تو ۔ وہ مایوسی کو قریب نہیں بھٹکنے دیتا۔ اسے سب اچھا اچھا سا لگتا ہے ۔ اک گمنا م سی خوشی کا سا احساس ہوتا ہے۔ وہ احساسات، جذبات اس وقت عصمت صدیقی کے چہرے پر نمایاں دیکھے جاسکتے تھے ، اگر اس وقت انہیں کوئی ایسا فرد دیکھتا جو یہ جانتا کہ اس عورت کی بیٹی بارہ برسوں سے اس سے دور ہے ، اس کا ایک بیٹا لاپتہ ہے ، اسے 86 برس ناکردہ گناہوں کی سزا ملی ہے ۔ جس میں سے کئی برس گذر بھی چکے ہیں،تووہ شخص اس بات کا یقین نہ کرتا ، کیونکہ وہ اس انداز میں اپنی بیٹی کا ذکر کئے جارہی تھی جیسے بیٹی قریب ہی کسی اسکول میں ہو، ہم نے انہیں بارہا کہا کہ آپ تھک جائیں گی آپ بیٹھ جائیں، آرام کرلیں لیکن وہ تھیں کہ بس عافیہ عافیہ عافیہ…………….
اپنی تحریرکا آغاز عصمت صدیقی صاحبہ کے بتائے ہوئے اس خواب سے کیا ، جو عافیہ نے برسوں قبل دیکھا تھا اور اس کا ذکرانہوں نے اپنی والدہ عصمت صدیقی سے کیا تھا، ان کی باتیں جاری تھیں اور میری نظروں کے سامنے اس وقت عافیہ کے کراچی سے اغوا ، پھر افغانستان اور پھر امریکہ میں ان کے حوالے سے آنے والی اطلاعات تھیں، ان کی رہائی کیلئے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جدوجہد آزادی کی طویل داستان تھیں، احمد ، مریم تھے۔ احمد جنہوں نے کچھ عرصہ قبل قرآن کو حفظ کیا، اس کے ساتھ دنیاوی تعلیم میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، مریم جو اب بالکل اپنی ماں کی کاپی لگتی ہیں، اس کے ساتھ وہ معصوم سلیمان جو نہ جانے کہاں ہے، زندہ بھی یا نہیں۔ یہ سب ایک ایک کر کسی فلم کی ماننے میرے ذہن کے پردے پر نمایاں ہو رہے تھے ، ان کے ساتھ پھر وہ ہستیاں بھی جو عافیہ کو اس حال تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں، پرویز مشرف ، قصوری ، یا قریشی و حقانی ، ان کے بعد حکومت کرنے والے زرداری ، گیلانی یاموجودہ حکمراں میاں نواز شریف ، جن کی اپنی لاڈلی بیٹی کا نام بھی مریم ہے، انہوں نے تو بارہا عافیہ کی والدہ اور ان کے بچوں سے وعدہ کیا ، کہ وہی عافیہ کو امریکہ سے لائیں گے ۔ لیکن افسوس ان کی یہ ساری باتیں بھی سابقہ وزیر داخلہ عبد الرحمن ملک کی طرح بیانات ہی ثابت ہورہی ہیں۔ اک نا ختم ہونے والی فلم تھی ۔55 سے زائد ممالک اور ان میں بسنے والے ایک ارب سے زائد مسلمان ۔ ایک قید بے گناہی کاٹنے والی عافیہ کو کفار کی قید سے چھڑانہیں سکتے ، کیوں ؟ کوئی جواب نہیں، اس سوال پر سبھی کی زبانوں پر تالے پڑجاتے ہیں ، ان کی گھگیاں بند ھ جاتی ہیں۔ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں، ہاں شاید اسی وجہ سے اس وقت عافیہ کی والدہ نے آسماں کی جانب دیکھ کر کہا تھا کہ اب للہ ہی سے امید ہے ، سب کو دیکھ لیا ۔
میرا یہ سوال ہر ذی شعور انسان سے ہے۔ خواہ وہ کسی بھی رنگ و نسل و مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ آج اگر اس عافیہ کی جگہ ان کی اپنی بہن یا بیٹی ہوتی تو وہ کیا کرتے ؟
سوچیں اور خوب سوچیں ۔ جوجواب ضمیر کی جانب سے ملے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے آپ کو وہ جواب دے دینا اور اگر نہ ہو تو روز آخرت میں اس وقت کیلئے تیار رہنا ۔ جب عافیہ ایک جانب ہوگی وہ کہے گی کہ اس نے میری رہائی کیلئے کچھ نہیں کیا ، وہاں منصف آج کے جج نہیں ہوں گے۔ وہاںتمام فیصلے اللہ تعالیٰ اختیار میں ہوں گے ۔اوریہ بات یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرتا ۔ hafeezkhatak95@gmail.com

حفیظ خٹک
Biographical Info
Open chat