چغلی ایک خطرناک گناہ (حبیب اللہ)

enfant-chuchote-oreilleاخلاقی برائیوں میں سے چغلی بھی ایک برائی ہے۔ جس کا تعلق عموماً انسان کی زبان سے ہوتا ہے۔ یہ اگرچہ چھوٹا سا عمل ہے جس میں صرف زبان کو ہلکی سی حرکت دینا پڑتی ہے مگر اس کی وجہ سے ناصرف رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں بلکہ محبتوں کے بندھن نفرتوں میں بدل جاتے ہیں۔انسان صرف زبان کو حرکت دے کر ایک کی برائی دوسرے تک اس نیت سے پہنچاتا ہے کہ ان کے آپس میں فساد برپا ہوجائے اور اس کے رازوں سے پردہ اٹھ جائے۔اسلاف میںسے یحیٰ بن اکثم فرماتے ہیں ”النمام شر من الساحر ویعمل النمام فی ساعة مالایعمل الساحر فی السنة“ :”کہ چغل خور جادوگر سے بھی بدتر ہے کیونکہ وہ چندساعات میں وہ کام کردکھاتا ہے جسے کرنے کے لیے جادوگر کو سالوں لگ جائیں۔“
اسی طرح کسی نے کیا خوب کہا کہ :”چغل خورشیطان سے بھی برا ہے ،کیونکہ شیطان وسوسے اور خیالات سے اپنے کام چلاتا ہے جبکہ چغل خور لوگوں سے سامنے ہی اپنی غلیظ حرکت سرانجام دیتا ہے۔“اس کی صورت یوں ہوسکتی ہے کہ کوئی کہے کہ فلاں آپ کے بارے میں ایسا ایسا کہہ رہا تھا حالانکہ جس سے یہ بات کی جارہی ہے وہ اسے ناپسند کرتا ہے اور پسند نہیں کرتا ۔اب یہ بات اس نے کہی ہو یا نہ بھی کہی ہو مگر اس نے تو کہہ کر ایک بھائی کے دل میں دوسرے کے لیے نفرت کے بیج بو دیئے۔ اگرچہ اس کی طرف سے ایسی بات کہی بھی گئی ہو مگر بات پہنچانے والے کو معلوم ہے کہ اگر میں نے اُس کی بات اِس تک پہنچا دی تو معاملات بگڑنے کا اندیشہ ہے تو مصلحت کی بنا پر خاموشی کی بھی اسلام نے تلقین کی ہے۔ کیونکہ بعض اوقات خاموشی کی وجہ سے معاملات سدھر جاتے ہیں مگر بولنے کی وجہ سے بگڑ جاتے ہیں۔چغل خور انسان دوچہروں والا ہوتا ہے۔ وہ جس کے پاس ہو اس کا ہوکر بات کرتا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کہیں میرے اس عمل سے معاملات نہ بگڑ جائیں۔ جس کے پاس جاتا ہے ااپنے آپ کو اس کا خیرخواہ ظاہر کرکے اپنے دوسرے بھائی کی برائیاں بیان کرنے لگ جاتا ہے۔ یعنی ہر ایک کے سامنے اس کا علیحدہ چہرہ ہوتا ہے۔
اس لیے تو نبی ﷺ سے ایسے شخص کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے فرمایا کہ: ”ان شرالناس ذوالوجھین ،الذی یاتی ھو¿لاءبوجہ وھو¿لاءبوجہ“ (صحیح البخاری:7179 )”یقینا لوگوں میں بدترین انسان دوچہروں والا ہے، اِس کے پاس کسی اور چہرے سے آئے اوراُس کے پاس کسی اور چہرے سے جائے۔“اسی طرح ایک اور حدیث کے مطابق اس کے انجام کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ ”من کان ذا وجھین فی الدنیا ، کان لہ یوم القیامة لسانان من نار“(سنن الدارمی:2806 ) کہ:”جو انسان دنیامیں دو چہرو ں والا ہوگا روز قیامت اسے آگ کی دوزبانیں دی جائیں گے۔“اسی طرح صحیح بخاری ہی کی روایت کے مطابق دنیا کے ساتھ ساتھ روز قیامت بھی ایسا انسان سب لوگوں میں بدترین ہوگا۔
اس لیے ایک سچا مسلمان ہمیشہ ایک ہی چہرے والا ہوتا ہے اور وہ زبان حال سے وہی بیان کرتا ہے جو نہاں خانہ دل میں مضمر ہوتا ہے۔وہ اپنی زبان سے بھی وہی کلمات ادا کرتا ہے جس پراللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہو اور مسلمان کو تکلیف نہ پہنچتی ہو۔اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان کو اچھے طریقے سے استعمال کرے اور مصلحت دیکھ کر بات کرے۔ بات اگرچہ صحیح ہو مگر اس کے کرنے سے فساد کاخطرہ ہو اور خاموش رہنے میں مصلحت ہو تو اس وقت خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔کیونکہ بعض اوقات حق بات کو فوراً بول دینے سے بھی فساد مچ جاتا ہے۔ اس لیے حدیث مبارکہ میں بھی اسی طرف اشارہ ملتا ہے کہ ” من کان یو¿من باللہ والیوم الآخر فلیقل خیراً ا¿و لیصمت“(صحیح البخاری:6475 ) ”جوشخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش ہی رہے۔“اس لیے ہمیشہ زبان کے استعمال میں مصلحت کا خیال رکھا جائے۔
چغل خور کا انجام کار بہت خطرناک ہے کیونکہ بے شمار احادیث میں اس کے برے انجام کی خبر دی گئی ہے ۔ چنداحادیث آپ کے سامنے بیان کی جارہی ہیں،جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے کہ ”لایدخل الجنة نمام“(متفق علیہ) ”کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔“ اسی طرح ایک اور حدیث میں مذکور ہے کہ ”الا اخبرکم بشرارکم؟ المشاو¿ن بالنمیمة ، المفسدون بین الاحبة،“(مسند احمد:27599) آپ ﷺ نے فرمایا: کہ”کیا میں تمہیں بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتلاﺅں؟ جو چغلی کے ساتھ چلتے پھرتے اور اپنے بھائیوں کے درمیان فساد برپا کرتے پھرتے ہیں۔“یہ لوگ قبر میں بھی عذاب میں مبتلا کیئے جائیں گے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ ایک بار نبی علیہ السلام دو قبروں کے پاس سے گزرے تو بذریعہ وحی آپ کو ان قبروں کے عذاب خبر دی گئی۔ تو آپ نے فرمایا: ”انھما لیعذبان وما یعذبان فی کبیر اما احدھما فکان یمشی بین الناس بالنمیمة وامالآخر فکان لایستتر من بولہ“(متفق علیہ) ”یقینا ان دونوں قبر والوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور ان میں سے ایک کا جرم یہ ہے کہ وہ چغلیاں کرتا پھرتا تھا اور دوسرا پیشاب کے قطروں سے نہیں بچا کرتا تھا۔(یعنی ناپاک رہتا تھا)“ تو معلوم ہوا کہ چغل خور کا انجام کار بہت ہی خطرناک ہے اور روز قیامت اسے سخت عذا سے دو چار کیا جائے گا۔ اس سب کے باوجود معاشرے میں آپ اکثر لوگوں کو اس گناہ میں مبتلا پائیں گے۔
خصوصاً عورتوں کی تو بڑی تعداد اس میں مبتلا ہے۔ الا ماشاءاللہ جب بھی کسی جگہ خواتین جمع ہوتی ہیں وہ کسی نہ کسی کاذکر چھیڑ کر اس کو خوب رگڑتی ہیں۔ اسی طرح بعض خواتین کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ جب کسی کے بارے میں کوئی بات جان لیں تو اس میں کئی چیزوں کا اضافہ کرکے شوہر کے کان بھرتی ہیں کیونکہ شوہر اپنی بیوی کی بات کا انکار نہیں کرسکتا یوں کئی خاندانوں میں معاملات میں تناﺅ آنا شروع ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ آپس میں دوری کی صورت میں نکلتا ہے ۔لہٰذا اللہ کی ان بندیوں کو خصوصاً اور مرد حضرات کو عموماً اس غلطی سے اپنے دامن کو پاک صاف رکھنا چاہیے۔جب ہم اس گناہ کے بارے میں جان چکے تو اب ہمیں اس سے اپنے دامن کو پاک صاف رکھنا ہے ،اللہ تعالیٰ ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
8939478@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top