Tuesday, October 27, 2020
Home اسلام فاروق اعظم ؓ کی مثالی حکمرانی (علامہ احمدلدھیانوی)

فاروق اعظم ؓ کی مثالی حکمرانی (علامہ احمدلدھیانوی)

farooqدنیا بھر میں انقلاب انقلاب کے چرچے آپ سن رہے ہیں لیکن اگر حقیقی انقلابی شخصیات کو دیکھنا ہو تو وہ آپ کو اسلام کے دامن میں ملیں گی۔ اسلام کے گلستاں میں مہکتے پھولوں میں سے ایک انتہائی خوش قسمت نڈر اور بے باک انسان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہیں جن کے بارے میں رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتا(ترمذی) حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ خداوندی میں جھولی پھیلا پھیلا کر جس شخصیت کو مانگا وہ عظیم انسان بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہی ہیں اسی وجہ سے آپ کو مراد رسول صل اللہ علیہ وسلم بھی کہا جاتا ہے ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تائید میں اور ان کی رائے کے مطابق 27بار قرآنی آیات نازل ہوئیں آپ رضی اللہ عنہ کی شان میں چالیس سے زیادہ احادیث نبوی صل اللہ علیہ وسلم موجود ہیں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اسلام لانے کا واقعہ مشہور ہے جب آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے لئے حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے چند قدم آگے بڑھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو گلے لگ لیا اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے سینے پر 3مرتبہ ہاتھ پھیر کر دعا دی کہ اے اللہ عمر کے سینے کو ایمان سے بھر دے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے سے صحابہ کرام ؓ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور صحابہ کرام ؓ نے خوشی سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے اسلام لانے سے کفر پر رعب پڑ گیا اور مسلمانوں نے پہلی اعلانیہ نماز بیت اللہ میں ادا کی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کا واقعہ بھی انتہائی ایمان افروز ہے کہ آپ نے ہجرت سے قبل بیت اللہ کا طواف کیا اور کفار کو مخاطب کر کے للکارا کہ میں اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ جارہا ہوں جس نے اپنی بیوی کو بیوہ کرانا ہو یا بچوں کو یتیم کرانا ہو وہ میرا راستہ روک لے۔ لیکن کفار میں سے کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔
رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عمر بن خطاب قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ شیطان جب تم کو کسی راستہ پر چلتا ہوا دیکھتا ہے تو اپنا راستہ بدل لیتا ہے (بخاری و مسلم)
حضور صل اللہ علیہ وسلم ایک روز احد پہاڑ پر تشریف لے گئے آپ صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو بکر ؓ، عمرؓ، عثمان ؓ بھی تھے احد پہاڑ حرکت کرنے لگا تو آپ صل اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاﺅں مبارک سے اشارہ کیا، اے احد ٹہرجا تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں(بخاری شریف)
سیدنافاروق اعظمؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد تمام غزوات میں شرکت کی اور کفا ر کے خلاف شجاعت و بہادری کے خوب جوہر دکھائے حضور اکرم ﷺ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ بنے سیدنا صدیق اکبر ؓ کو اپنے دور خلافت میں اس بات کا تجربہ ہو چکا تھا کہ ان کے بعد مسند خلافت کے لئے حضرت عمر فاروق ؓ سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے حضرت عمر فاروق ؓ کے انتخاب کے لئے سیدنا صدیق اکبرؓ نے خفیہ رائے شماری کا طریقہ اختیار کیا صحابہ کرامؓ کی اعلیٰ مشاورتی کونسل اور جلیل القدر صحابہ کرام ؓ سے مشورے کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عمر فاروق ؓ کی جانشینی کا اعلان کیا۔ بعض مورخین کے مطابق رائے شمار ی کے وقت چند صحابہ کرام ؓ نے کہا کہ حضرت عمر فاروق ؓ کا مزاج سخت ہے اگر وہ سختی پر قابو نہ پاسکے تو بڑا سانحہ ہوگا حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ نے جواب دیا کہ عمر کی سختی میری نرمی کی وجہ سے ہے جب تنہا ان پر ذمہ داری عائد ہو گی تو یقننا جلال و جمال کا امتزاج قائم ہو جائے گا۔
سیدنافاروق اعظمؓنے خلیفہ بننے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ اے لوگو میری سختی اس وقت تک تھی جب تم لوگ حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی نرمیوں اور مہربانیوں سے فیض یاب تھے میری سختی ان کی نرمی کے ساتھ مل کر اعتدال کی کیفیت پیدا کردیتی ہے اب میری سختی صرف ظالموں اور بدکاروں پر ہوگی اس خطبے میں آپ نے سوال فرمایا کہ اے لوگو اگر میں سنت نبوی صل اللہ علیہ وسلم اور سیرت صدیقی کے خلاف حکم دوں تو تم کیا کرو گے لوگ خاموش رہے اور کچھ نہ بولے تو آپؓنے پھر وہی سوال دہرایا تو ایک نوجوان تلوار کھینچ کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اس تلوا سے سر کاٹ دیں گے اس جواب پر سیدنافاروق اعظمؓبہت خوش ہوئے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد سیدنافاروق اعظمؓمنبر پرتشریف لائے تو اس سیڑھی پر بیٹھ گئے جس سیڑھی پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ پاﺅں رکھتے تھے صحابہ کرام نے عرض کیا اوپر بیٹھ جائیں تو فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے کہ مجھے اس مقام پر جگہ مل جائے جہاں صدیق اکبرؓکے پاﺅں رہتے تھے زہدو تقوی کی حالت یہ تھی کہ بیت المال میں سے اپنا وظیفہ سب سے کم مقرر کیا جو آپ ؓ کی ضروریات کے لئے بہت کم تھا کئی مرتبہ بیت المال سے قرض لینے کی نوبت آجاتی تھی لباس کا یہ حال تھا کہ سال بھر میں بیت المال سے صرف دو جوڑے ہی لیتے تھے ۔حضرت زید بن ثابتؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنافاروق اعظم ؓ کے لباس میں سترہ پیوند شمار کئے اپنی رعایا کی خبر گیری کے لئے راتوں کو اٹھ اٹھ کر گشت کیا کرتے تھے جو صحابہ کرام ؓ جہاد پر گئے ہوتے ان کے گھروں کی ضروریات کا خیال کرتے اور ان کے لئے بازار سے سامان وغیرہ خود خریدتے اور ان کے گھروں میں پہنچاتے ۔
سیدنافاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں جب حضرت عمر وبن عاص ؓ نے بیت المقدس فتح کرنے کے لئے محاصرہ کیا تو یہود و نصاریٰ کے علماءنے کہا کہ تم لوگ بے فائدہ تکلیف اٹھا رہے ہو تم بیت المقدس فتح نہیں کر سکتے کیونکہ فاتح بیت المقدس کا حلیہ اور علامات ہماری آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں اگر تمھارے امام و خلیفہ میں وہ سب باتیں موجود ہیں تو پھر ہم بغیر لڑائی اور جنگ کے بیت المقدس ان کے حوالے کردیں گے اس واقعہ کی خبر جب سیدنافاروق اعظمؓکو دی گئی تو آپ ؓ بیت المقدس تشریف لے گئے اس سفر میں ایک اونٹ آپ ؓ کے پاس تھا جس پر آپ ؓ اور آپ ؓ کا غلام باری باری سوار ہوتے تھے آپ ؓ نے جو کرتا پہنا ہوا تھا اس میں بھی پیوند لگے ہوئے تھے جب کہ کھانے کے لئے صرف جو اور چھوہارے موجود تھے مسلمانوں کو جب علم ہوا کہ خلیفہ وقت تشریف لائے ہیں تو وہ ان کے استقبال کے لئے آگئے سیدنافاروق اعظمؓکو اس حال میں دیکھا تو سب نے اصرار کرکے آپؓ کو عمدہ لباس پہنایا اور اچھے گھوڑے پر سوار کردیا لیکن چند قدم چلنے کے بعد آپ ؓ نے فرمایا کہ میرے نفس پر اس کا برا اثر پڑتا ہے بھر وہی پیوند لگا کرتا پہن لیا اور گھوڑے کے بجائے اونٹ پر سوار ہو گئے جب شہر میں داخل ہوئے تو اس وقت باری کے مطابق غلام سوار تھا اور آپ نے پیوند لگاکرتا پہنا ہوا تھا اور اونٹ کی مہار آپؓ کے ہاتھ میں تھی یہودو نصاریٰ نے جب آپ ؓ کو اس حالت میں دیکھا تو ان کے علماءکہنے لگے کہ ہماری آسمانی کتابوں میں بھی یہی لکھا کہ اس حلیہ اور علامات کا شخص بیت المقدس فتح کرے گااور انہوں نے بغیر لڑائی کے بیت المقدس کی چابیاں حضرت فاروق اعظم ؓ کے سپرد کردی اور بیت المقدس ان کے حوالے کرکے بیت المقدس کے دروازے مسلمانوں کے لئے کھول دیئے۔
سیدنافاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں ان کے عدل و انصاف سے مسلم و غیر مسلم ہر کوئی نفع اٹھاتا تھا آپ ؓ کا سنہرا دور خلافت مسلمانوں کی فتوحات و ترقی اور عروج کا زمانہ تھا مسلمان اس قدر خوش حال ہو گئے تھے کہ لوگ زکوٰة لے کر نکلتے تھے ان کو آسانی کے ساتھ کوئی زکوٰة لینے والا نہیں ملتا تھا آپ ؓ کے دور خلافت میں مسلمانوں کو بے مثال فتوحات اور کامیابیاں حاصل ہوئی آپؓ نے قیصرو کسریٰ کو پیوند خاک کرکے اسلام کی عظمت کا پرچم لہرایا اس کے ساتھ ساتھ شام ، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان ، آذربائیجان ، فارس ، کرمان، خراسان اورمکران فتح کئے آپؓ کے دور خلافت کی چندنمایاں خصوصیات یہ بھی تھیں کہ آپ ؓ نے اپنے دور خلافت میں بیت المال یعنی خزانہ قائم کیا ، عدالتیں قائم کرکے قاضی مقرر کئے، امیرالمومنین کا لقب اختیار کیا ، فوجی دفتر ترتیب دیا ، دفتر مال قائم کیا، مردم شماری کرائی، نہریں کھودوائیں، پیمائش جاری کیں، شہر آباد کروائے، ممالک مفتوحہ کو صوبوں میں تقسیم کیا، پولیس کا محکمہ قائم کیا، جیل خانہ قائم کیا ، جابجا فوجی چھاﺅنیاں قائم کی، مسافروں کے لئے مکانات تعمیر کروائے مساجد میں امام اور موذن کی تنخواہیں مقرر کی، آپ ؓ نے اپنے دور خلافت میں چھتیس سو علاقے فتح کئے جن میں نو سو جامع مسجد اور چار ہزار عام مساجد تعمیر کروائیں ۔

سیدنافاروق اعظمؓ کی شان و شوکت اور فتوحات اسلامی سے باطل قوتیں پریشان تھیں 27 ذی الحجہ 23 ھجری کو آپ ؓ حسب معمول نماز فجر کے لئے مسجد میں تشریف لائے اور نماز شروع کرائی ابھی تکبیر تحریمہ ہی کہی تھی کہ ایک شخص ابولولو فیروز مجوسی ایرانی جو پہلے ہی سے زہر آلود خنجر لئے مسجد کے محراب میں چھپا ہوا تھا اس نے خنجر کے تین وار آپ کے پیٹ پر کئے جس سے آپ کو کافی گہرے زخم آئے آپ بے ہوش ہو کر گرے اس دوران قاتل کو پکڑنے کی کوشش میں مزید صحابہ کرامؓ زخمی ہو گئے قاتل نے پکڑنے جانے کے خوف سے فورا خود کشی کر لی سیدنافاروق اعظمؓکے زخم ٹھیک نہ ہوئے اور یکم محرم الحرام کو 63 سال کی عمر میں عمر ؓ نے جام شہادت نوش کیا آپؓ کا جنازہ حضرت صہیب ؓ نے پڑھایا اور روضہ رسول صل اللہ علیہ وسلم میںخلیفہ بلا فصل سیدنا صدیق اکبرؓ کے پہلو میں آپ ؓ کی تدفین ہوئی اور یوں دس سال چھ ماہ دس دن تک بائیس لاکھ مربع میل زمین پر نظام خلافت راشدہ کو جاری کرنے والے کا عہدساز دور اپنے اختتام کو پہنچایکم محرم الحرام ان کے یوم شہادت پر ان کی سیرت کو عام کر کے نوجوان نسل میں ایثار اور قربانی اور جرات و بہادری کا وہ جذبہ پھر سے پیدا کیا جاسکتا ہے جس کی بدولت مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرسکتے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گستاخانہ خاکے،سندھ اسمبلی میں مذمتی قرار داد جمع

کراچی، فرانس میں توہین رسالت پر مبنی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کےخلاف جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے صوبائی...

اے وی ایل سی کی کارروائی، موٹرسائیکلیں چھننے والے گروہ کے 5 کارندے گرفتار

کراچی:اینٹی وائلنس لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی) نے موٹرسائیکلیں چھیننے والے گروہ کے 5 ملزمان گرفتار کرلئے ، ذرائع اے وی...

گساخانہ خاکے، کراچی بار کی بدھ کو ہڑتال کا اعلان

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کامعاملہ کراچی بارایسوسی ایشن نے بروزبدھ عدالتوں میں ہڑتال کااعلان کردیا کل سٹی...

اختر کالونی، پسند کی شادی کرنےوالے نوجوان پر حملہ

کراچی، اختر کالونی میں پسند کی شادی کرنے نوجوان کا جرم بن گیا، نامعلوم افراد نے نور نامی نوجوان کو فائرنگ کرکے...