Wednesday, June 23, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب کو فون، لاہور دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو فون، لاہور دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، ترجمان...

دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز کی کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ہوائی جہاز انتونوو این 225 ماریہ نے ایک بار پھر کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی ہے، فلائٹ اے...

مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے، مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے...

نیشنل ہائی وے کے قریب سے ڈرگ ڈیلر ساتھی سمیت گرفتار

پولیس نے خفیہ اطلاع پر نیشنل ہائی وے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ڈرگ ڈیلر کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق ملزمان...

سب کا مطالبہ! لیکن عمل کب ہو گا (محمد نعیم )

protest against water shortage1پاکستان میں پولیس کو مظلوموں کا نہیں ظالموں کا ساتھی سمجھا جاتا ہے ۔ یہ میری رائے نہیں بلکہ آواز خلق ہے۔ اگر پولیس والے یہ سمجھتے ہیں کہ عوام ان کو مددگار اور محافظ کی نظر سے دیکھتی ہے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ لیکن شاید پاکستان میں تھانہ کلچر بدلنے والا ہے۔ اپریل کے آغاز میں میری نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جس نے مجھے حیران کر دیا۔ یقینا اگر یہ کام ہو جائے تو پاکستان بالخصوص کراچی کے کروڑوں لوگ پولیس کو دعائیں دیں گے۔ ….یہ کمپوزنگ کی غلطی نہیں ، نا ہی اس وقت میں مذاق کرنے کے موڈ میں ہوں۔لوگ بدعائیں نہیں پولیس کو دعائیں ہی دیں گے۔
کیا خیال ہے آپ شہر کے کسی بڑے تجارتی مرکز میں اپنا کوئی کاروبار کرتے ہیں۔پورا سال نہ کوئی ہڑتال ، نہ جلسہ نہ جلوس آپ کا کاروبار بند ہونے کا سبب بنے۔ آپ کے کاروبار کو خسارے کے بجائے نفع بخش بنانے میں معاونت کرنے والے کے لیے آپ کے دل سے دعا نکلے گی یا نہیں ؟
چلیں آپ کا کاروبار نہیں ہے۔ آپ کوروزانہ شہرقائد کی اہم شاہراہوں سے گزر نا ہوتا ہے۔آپ کو کوئی راستہ یا سڑک بلاک نہ ملے ، نہ کہیں آپ کی گاڑی پر پتھراو ہو ۔ نہ اس کو جلاو گھیراومیں کوئی نقصان پہنچے۔ نہ کوئی دھرنہ آپ کا منہ چڑا رہا تو ۔ ایسے پرسکون سفر کے مواقع مہیا کرنے والے کو بھی آپ اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔
roadیا آپ ایک خاتون خانہ ہیں اور آپ کو اپنے بچوں، خاوند ،والدین یا بہن بھائیوں کے باخیریت گھر لوٹنے کی فکر رہتی ہے۔یا آپ کسی تعلیمی ادارتے میں پڑھتے ہیں اور آئے روز غیر اعلانیہ چھٹیوں اور ہنگاموں کے باعث آپ کی تعلیم کا حرج ہو نے پر آپ پریشان ہیں۔ تو کسی کے اقدام آپ کا تعلیمی کیرئیر داو پر لگنے سے بچ جائیں تو اسے آپ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے۔
آپ کی یہ بھی خواہش ہو گی کہ اگر آپ نے ہنگامی بنیادوں پر کسی کو ہسپتال پہنچانا ہے یا کسی کی جان بچانے کے لیے جلد ہسپتال پہنچنا ہے تو آپ کی گاڑی تیز رفتاری کے ساتھ چلتی رہے۔نہ مریض کو راستے میں ایڑیاں رگڑنی پڑیں نہ ہسپتال میں۔تو ایسے سہولت کار کا احسان بھی آپ زندگی بھر فراموش نہیں کریں گے۔
اوپر میں نے بات کی تھی کہ لوگ پولیس کو دعائیں دیں گے پھر زندگی کے چند شعبہ جات کا ذکر کیا کہ جس سے منسلک افراد پولیس کے قصیدے پڑھیں گے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پورا شہر ، پورا ملک خوشی کا اظہار کرے گا۔
خبر یہ ہے کہ محکمہ پولیس نے حکومت کو ایک مراسلہ لکھا ہے۔ جس میں درخواست کی ہے کہ سیاسی، مذہبی و سماجی جماعتوں پر عوامی اجتماعات اور ریلیاں سڑکوں اور چوکوں چوراہوں پر کرنے کی اجازت دینے کے بجائے ان کے لیے باقاعدہ خصوصی مقامات مختص کئے جائیں۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے ریلیوں،جلسے جلوسوں کی وجہ سے عوام کی جان و مال خطرات کی زد میں آجاتے ہیں۔
کراچی اکثر جلسے جلوسوں سے متعلقہ اداروں کو لاعلم رکھنے کے باعث سیکورٹی رسک بڑھ جاتا ہے۔اہم تجارتی مراکز اور شاہراہیں بند ہونے کی وجہ سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ اب یہ ضرورت بن چکی ہے کہ تمام مذہبی و سیاسی پروگرامات کے لیے جگہیں مختص کر دی جائیں۔
مراسلے میں
pppjALSAمتعلقہ حکام چند مجوزہ جگہوں کو مختص کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے جن میں ڈسٹرکٹ ایسٹ کیلئے جناح گراونڈ، ملیر کیلئے اسٹار گراونڈ ، ڈسٹرکٹ سینٹرل کیلئے انو بھائی پارک، ڈسٹرکٹ ساوتھ کیلئے کے ایم سی گراونڈ، ڈسٹرکٹ ویسٹ کیلئے شیرپاوَ کالونی مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
جلسے، جلوسوں اور ریلیوں سمیت تمام احتجاجی مذہبی و سیاسی اجتماعات کے حوالے سے ماضی میں بھی اس طرح کی سفارشات سامنے آ چکی ہیں۔
عوام کی بھی یہی خواہش ہے اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے بھی یہی چاہیں گے کہ وہ اپنی صلاحیتیں اور سرکاری وسائل ان اجتماعات کی سیکورٹی پر خرچ کرنے کے بجائے عملی طور پر جرائم کے سدباب اور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی عملی اقدامات کر سکیں۔
اگر حکومت سندھ اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور ان اجتماعات کی صورت میں سارا سال جاری رہنے والے عذاب سے عوام کو چھٹکارا دلادیں تو یقینا کرڑوں لوگ ایڈیشنل آئی جی غلام قادر تھیبوجو اس بابت سنجیدگی سے عملی کوشش کر رہے ہیں۔ ان سمیت عوام پورے محکمے کو جھولیاں پھیلا پھیلا کر دعائیں دے گی۔
حکومت اگر اس حوالے سے عوامی رائے لینے کی بھی کوشش کرے گی تو سوفیصد رائے دہندگان اسی خواہش کا اظہار کریں گے کہتمام مذہبی و سیاسی اجتماعات عوامی مقامات سے ہٹ کر ہونے چاہیں۔
naeemtabssum@gmail.com