Monday, April 19, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

پانچویں سحری 4:49 افطار 6:56 پر ہوگی

پانچویں سحری 4:49 افطار 6:56 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

جنوبی افریقہ میں کامیابی کے بعدپاکستانی ٹیم زمبابوے پہنچ گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ سے سیریز مکمل کرنے کے بعد سیدھی زمبابوے پہنچ گئی، پاکستانی ٹیم زمبابوے کے دورے میں 3 ٹی ٹوئنٹی...

سندھ حکومت تنقید کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتی، اسد عمر

وفاقی وزیر اسد عمر سندھ حکومت پر برس پڑے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت خود کوئی...

نوری آباد میں بارش، شہرقائد میں امکان نہیں، محکمہ موسمیات

کراچی کے مضافات میں بارش، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی حیدرآباد موٹروے پرنوری آباد سے بارش ہورہی ہے ، موسمیات کا کہنا ہے کہ...

حجاب اور بے حجابی (سمیرا بابر)

ہمارے معاشرے کی بگاڑ کی سب سے بڑی وجہ بے حجابی ہیں خواتین کا حجاب کے بنا باہر نکلنا، گهومنا پهرنا اور بازاروں میں جانا ہیں۔  ہماری مشرقی روایت میں مغربی طرز طور اپنائے جارہے ہیں جو کافی حد تک بربادی کا باعث بن رہے ہیں۔ خواتین گهر میں تو بکهرے بال اور پسینے میں شرابور ہوتی ہیں اور گهر سے باہر خوب سج دهج کی تیاری کے ساته نکلتی ہیں یہ شرعی لحاظ سے غلط ہے۔ خواتین کو اپنے شوہروں کے لیے سجنا سنورنا چاہیئے اور انہی کو دکهانا چاہیے۔  مغربی طرز کی وجہ سے ہماری خواتین عمومآ لڑکیاں ننگے سر باہر نکلنے کو ترجیح دیتی ہیں اور حجاب کو چهوٹی سوچ کا نام دیتی ہیں۔  اکثریت کا کہنا ہیں کہ پردہ دل کا ہونا چاہیے۔ کیا ان لوگوں کے دل ہمارے پیارے نبی کی صاجزادیوں سے زیادہ پاک ہیں؟ اللہ نے ان پاک ہستیوں کو بهی پردے کا حکم فرمایا.” حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی سے فرمایا: اپ میرا جنازہ رات کے وقت اٹهائیے  گا تاکہ میرے جنازے پر کسی نامحرم کی نظر نہ پڑے۔”  کیا ہمیں ان ہستیوں سے سیکهنا نہیں چاہیے؟ آج ہم مشہور ایکٹروں کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں ان کے فیشن کو اپناتے ہیں ،کیا ہمارے لیے ان عظیم ہستیوں کی زندگی آئیڈیل نہیں ہونی چاہیے؟ جو ہمیں دوزخ سے بچاسکتی ہیں جو ہمیں ہر برائی اور فتنے سے دور رکه سکتی ہیں،  جو ہمیں شرم و حیا کا درس دیتی ہیں،  عورت کو پردے کا حکم دیا گیا اور بار بار دیا گیا ہے “اے آدم ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا ہے جو تمہارے قابل پردہ بدن کو چهپاتا ہے اور تقوی کا لباس سب سے بڑهہ کے ہے” (سورته اعرف 26: 7) آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں عورت مردوں کے شانہ بشانہ کام سر انجام دے رہی ہیں، اعلی تعلیم یافتہ خواتین جو عورتوں کے حقوق پر بے لاگ تبصرے کرتی نظر آتی ہیں پر افسوس کسی بهی خواتین کا عورتوں کے شرعی حجاب پر کوئی دهیان نہیں۔ بے حجابی کی سب سے بڑی تباہی بے حیائی اور فحاشی ہے  جو ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ ہم ان چیزوں سے تو اجتناب برتتے ہیں جن سے ہمیں کوئی نقصان درپیش ہو، لیکن ہم بے پردگی کے نقصان سے نہیں بچنا چاہتے۔
niqabis-300x169اسلام میں فحاشی اور بے حیائی حرام قرار دی گئی ہے۔ بے پردگی کی ایک اور بڑی تباہی زنا ہے، جو ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔  در حقیقت عورت کی عظمت پردے میں ہی ہے۔ اسکول و کالج اور یونیورسٹیوں میں دنیاوی تعلیم تو دی جارہی ہے،  مگر دینی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں ۔ مرد حضرات سے ٹیوشن پڑهنا آج کے دور کا فیشن بنا ہوا ہے  جس میں کثرت سے نوجوان مرد استاد حضرات ہیں۔ اس سے لڑکیوں کی نامحرم سے بات کرنے کی جهجک ختم ہورہی ہے  اور اس طرح استاد سے روز بروز ملنے سے تعلق استوار ہورہے ہیں ۔ ہمارے مذہب  میں محرم اور نا محرم میں  واضح فرق بیان کیا گیا ہے۔  اسلام میں پردہ چاہے آنکهوں کا ہو، آواز کا ہو یا چهرہ ڈهاپنے کا لیکن پردہ بہت ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں 45 فیصد خواتین پردے کو اہمیت دیتی نظر آتی ہیں اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں پردے کے فوائد سے فائدہ اٹهارہی ہیں۔  اسلام کا ڈنکا تو ہر کوئی بجارہا ہے پر اسلام کے اصولوں پر چلنا کسی کو بهی گوارا نہیں۔  ہماری روایت میں حجاب دور دور تک نظر نہیں آرہا. جہاں معمولی سے معمولی اشیاکے اشتہار میں خواتین کا بے باک انداز دکهانا لازمی ہو،  جہاں عورت بنا دوپٹے گهر سے نکلنے کو ترجیح دیتی ہو وہ ملک اسلامی ریاست کیسے کہلایا جاسکتا ہے۔  دور چاہے نیا ہو یا پرانا عورت کی عصمت کل بهی اہم تهی اور آج بهی اہم ہے”کل جسے چهو نہیں سکتی تهی فرشتوں کی نظر وہ آج رونق بازار نظر آتی ہیں “پردہ عورتوں کا اصل گہنا ہے  جو سابق دور کی جهلک دکهاتی پهررہی ہیں” ایک بزرگ کے پاس ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی کہ ان نوجوانوں کو سمجهائیے  کہ جب لڑکیاں گزرتی ہیں تو اپنی نظریں نیچی رکها کریں۔ شیخ نے فرمایا. بتایئے اگر آپ ہاته میں بغیر ڈهانپے گوشت لے کر جائے اور کتے بهونکے تو آپ کیا کرے گی. اس نے کہا کہ میں کتوں کو بهگائوں گی. شیخ نے کہا. نہیں بهاگے تو: اس نے کہا میں اپنی آخری کوشش لگادوگی .. شیخ نے کہا اس طرح تو آپ بڑی مشقت میں پڑ جائے گی اس کا آسان حل یہ ہے کہ اس گوشت کو کسی کپڑے سے ڈهانپ کر باہر نکلو پهر یہ کتے نہیں بهونکیں گے. اکثر لوگ آج کی عورت کی بے حجابی کا ذمہ دار والدین اور میڈیا کو ٹهہراتے ہیں۔  بات یہ بهی غلط  نہیں مگر یہاں سارا قصور کا بهی نہیں کیونکہ کئی لڑکیاں والدین کے گهر میں حجاب اوڑهتی ہیں مگر ان کے نام نہاد شوہر ان کا حجاب اتروا دیتے ہیں کیونکہ پردے سے ان کو شرم محسوس ہوتی ہے۔
imagesپردہ ان کو دور قدیم کی یادگار دکهائی دیتا ہے۔  نام نہاد سیکولر سوچ کے مالک ماڈرن لوگ جو پردے کو برائی اور دقیانوسی شے سمجهتے ہیں ان کو پتا ہونا چاہیئے آج کے نیم عریاں لباس زمانہ قدیم کے اس دور کی یاد دلاتے ہیں جب انسان برہنہ گهوما کرتا تها اس کو شعور آیا تو اس نے جسم ڈهانپا اور آج کے دور میں عریانیت ہی ماڈرن ہونے کی پہچان ہیں جانوروں سے بڑهہ کر کوئی ماڈرن نہیں۔ یہاں عورت کو پردہ کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری مرد پر عائد ہوتی ہے۔ عورت کی اصلاح کرنی ہے تو مرد کی اصلاح بهی ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کرے۔  عورت اگر فتنہ ہے تو اس کو فتنہ بنانے میں مردوں کا بهی برابر کا حصہ ہیں لہذا مرد اپنے آپ کو اس ذمہ داری سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے جس کی بیوی با حجاب ہوگی اس کی بیٹی بهی باحجآب ہوگی” اے نبی اپنی بیوی اور اپنی بیٹیوں کو اور مومنوں کی عورتوں کو فرمادیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں  یہ قریب تر ہے  کہ یہ پہچان لی جائیں  تو انہیں نہ ستایا جائے اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘ (سورت احزاب 59)۔  اسلام نے معاشرے کی اصلاح اور برائی و بے حیائی کی روک تهام کے لیے کیسا مکمل اور جامع نظام معاشرتی مسلمانوں کو دیا ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج اس نظام کی کوئی  جهلک نظر نہیں آرہی۔  دور جدید کی عورت ترقی اور آزادی کے نام پر اپنے حسن و زیبائش کی نمائش کرتی پهررہی ہیں اور اسے روکنے والا نام نہاد مسلمان اس کی حوصلا افزائی کررہا ہے۔ بے پردگی اور بے حیائی دور جاہلیت کی نشانیاں ہیں اور عورت کا بے پردہ ہونا نہ صرف معاشرتی تباہی کی وجہ بنتا ہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا بهی باعث بنتا ہے  اور اسی لئے مسلمان روز بروز اخلاقی اور معاشرتی پستی کا شکار ہو کر دنیا میں پریشان ہیں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو یہود و ہنود کے طریقوں سے بچاکر قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے معاشرے کی اصلاح اور اسلامی قوانین نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور مسلمان عورتوں کو پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ آنے والی نسلیں سب ان کی گود میں پروان چڑهے تو شرم وحیاجیسی خوبیاں پیدائشی طور پر ان میں موجود ہو۔