Saturday, July 31, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

اعظم خان سر پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے

قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈربیٹسمین اعظم خان سر پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے، تفصیلات کے مطابق اعظم خان گیانا میں ٹریننگ سیشن...

کراچی میں لاک ڈاؤن کا نفاذ، شہر کے مختلف مقامات پر پولیس کی ناکہ بندی

کراچی میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد پولیس نے مختلف سڑکوں پر ناکے لگادیے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے والوں...

سول اسپتال میں کتوں نے ڈاکٹر سمیت 3 افراد کو کاٹ لیا

سول اسپتال کراچی میں آوارہ کتوں نے لیڈی ڈاکٹر سمیت 3 افراد کو کاٹ لیا، اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعہ اسپتال کے اندر سرجیکل...

صوبے میں لاک ڈاؤن پر تاجروں کے تحفظات جائز ہیں، ناصر شاہ

وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن پر...

کرپشن بے نقاب کرنے پرناظم امتحانات عمران چشتی ملازمت سے فارغ

imran khan chishti inter board1کراچی،حکومت سندھ کے حکم پر انٹر بورڈ میں تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے ۔تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد میمن واحد نے گزشتہ دن بورڈ میں عمران چشتی ،اختر غوری سمیت دیگر افسران کے بیانات قلم بند کئے۔جبکہ دوسرے دن چیف سیکریٹری صدیق میمن نے بھی انٹر بورڈ کا دورہ کیا اور تحقیقاتی عمل کا جائزہ لیا۔ذرائع کے مطابق ناظم امتحانات کو فارغ کئے جانے کی بنیادی وجہ چیئر مین انٹربورڈ پر الزامات ہیں جو انہوں نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں صحافیوں کو چیئر مین اختر غوری کے خلاف کرپشن کے ثبوت پیش کئے ۔یہ بات عام و خاص کی زبان پر ہے کہ عمران چشتی کو سچ بولنا مہنگا پڑا گیا اگر وہ خاموشی اختیار کرلیتے اور مک مکائو کی پولیسی اختیار کرتے تو شاہد انہیں ملازمت سے فارغ نہیں کیا جاتا ۔انٹر بورڈ میں یہ تاثر عام ہے کہ عمران چشتی ایک نڈر ،دیانتدار اور علم دوست انسان ہیں ۔یہ بات واضح رہے کہ عمران چشتی ناظم امتحانات نے وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ سے درخواست کی ہے کہ تحقیقات تک انہیں ناظم امتحانات رہنے دیا جائے تاکہ شفاف تحقیقات ہوسیکیں۔عمران چشتی نے چیئر مین انٹر بورڈ پر الزام لگایا تھا کہ چیئر مین نے امتحانی نتائج تبدیل کرنے کیلئے ناظم امتحانات اور ڈپٹی ناظم امتحانات و دیگر افسران پر شدید دبائو ڈالا ۔جس کی ویڈیو بھی صحافیوں کو دکھائی گئی ۔ابھی تحقیقاتی عمل جاری ہے ۔امید ہے کہ ایک دو روز میں رپورٹ تیار ہوکر وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کی جائے گی۔