Wednesday, May 12, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

چاندرات کاروبار،تاجروں کی چیف جسٹس اور آرمی چیف سے اپیل

آل سٹی تاجراتحاد ایسوسی ایشن نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اپیل...

لیاری بہار کالونی میں دکانداروں کا رینجرز اہلکاروں پر تشدد

لیاری کے بہار کالونی کے دکاندار آپے سے باہر، کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کرانے کےلئے آنے والے رینجرز اہلکاروں پر تشدد، پولیس...

 معمولی سی خواہش (سیدہ ہاشمی)

اس کی خواہش تھی بڑی کوچ (بس) میں سفر کرنا اور جب سے اسے دین محمد عرف دینو نے بڑی کوچ میں نظر آنے...

لاکھوں روپے مالیت کے سامان کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام

کراچی ائیرپورٹ پر لاکھوں روپے مالیت کے الیکٹرونکس سامان کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام، ذرائع کے مطابق کسٹم حکام نے کراچی سے بیرون ملک...

ملک میں صدارتی نظام لانے کے لیے جدوجہد کی جائے، افتخار چوہدری کا خط

Pakistani suspended top judge Justice Ifکراچی: سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے متبادل نظام کے لیے اپنا سیاسی ایجنڈا قانون دانوں اور دانشوروں کے سامنے رکھتے ہوئے صدارتی نظام کے لیے جدوجہد کرنے پر زور دیا ہے۔ ملک بھر کی بارکونسلوں، بار ایسوسی ایشنز، سماجی کارکنوں اور اہل قلم کے نام خط میں ریٹائرڈ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری نے پارلیمانی طرزحکومت کو مسترد کرتے ہوئے صدارتی نظام کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ موجودہ پارلیمانی نظام کے نام پر عوام کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ اس نظام کی آڑ میں ایک ٹولہ عوام پرمسلط ہے، عدل کی راہ میں قانونی موشگافیاں ہیں، احتساب چونکہ اشرافیہ کو گوارا نہیں اس لیے اسے مذاق بنا دیا گیا۔ سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کتاب میں لکھے حروف کی صورت میں جگمگا تو رہا ہے مگر اہل اقتدار نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔ ہر دور میں یہی لوگ حکومت میں رہے ہیں، کبھی فوجی طالع آزما کا ساتھ دیکر توکبھی جمہوریت کے سائے میں بیٹھ کر، ان کے پیرہن بدلتے ہیں خو نہیں جاتی، نعرہ بدلتا ہے طریقہ واردات ایک ہے۔ پولیس کو ایک طاغوت کا روپ دے دیا گیا ہے اور اہل اقتدار نے ہمیشہ اس طاغوت کی سرپرستی کی ہے۔