Wednesday, June 23, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب کو فون، لاہور دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو فون، لاہور دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، ترجمان...

دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز کی کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ہوائی جہاز انتونوو این 225 ماریہ نے ایک بار پھر کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی ہے، فلائٹ اے...

مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے، مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے...

نیشنل ہائی وے کے قریب سے ڈرگ ڈیلر ساتھی سمیت گرفتار

پولیس نے خفیہ اطلاع پر نیشنل ہائی وے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ڈرگ ڈیلر کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق ملزمان...

امریکی ڈرون حملے ملکی خودمختاری کوچیلنج (حافظ عاکف سعید)

pakistanایک بار پھر امریکہ کی طرف سے ہمارے علاقے پر ڈرون حملہ ہوا ہے ۔ہمارے ایئر چیف صاحب نے بڑے طمطراق سے اعلان کیا تھا کہ اب اگرامریکہ کی طرف سے ڈرون حملہ کیا گیا توہم ڈرون گرادیں گے۔امریکہ نے خرم ایجنسی وزیرستان پر حملہ کیا اور دو افراد کو ہلاک کردیا۔ہم نے حسب معمول احتجاج کرنے پر اکتفا کیا ۔اب یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ حکومت نے ڈرون مار گرانے کی اجازت نہیں دی تھی یا یا فوج ہمت و جراءت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر رہی ۔اس اقدام کے راستے میں کیا شے رکاوٹ بنی ہے۔مجھے اس واقعے سے یاد آرہا ہے کہ جب نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکہ کو اجازت دی تھی تومتواتر ڈرون حملے ہوتے رہے کیونکہ ہم نے اس کی اس کو کھلی چھٹی دے رکھی تھی۔

 

عمران خان پانچ چھہ سات قبل بھارت گئے تھے۔راہول گاندھی سے وہاں ان کی ملاقات ہوئی ۔راہول گاندھی نے دو اعتبارات سے پاکستانی قوم کو دو تھپڑ رسید کئے تھے۔واپسی پر انہوں نے ایک بیان دیا تھا جس میںا نہوں نے کہا تھاکہ میرے پاس راہول گاندھی کے طعنوں کا سوائے شرمندگی کے اور کوئی جواب نہ تھا ۔ اس نے کہا تھا کہ آپ کے ملک کی سرحدوں پر ڈرون حملے ہوتے ہیں اور آپ انہیں برداشت کرلیتے ہیں ۔یہ ممکن نہیں کہ ہماری سرحدوں پر کوئی ڈرون حملہ آور اور وہ واپس چلاجائے۔دوسری بات اس نے یہ کہی تھی کہ ہمارے ہاں بھی کچھ علیحدگی پسند تحریکیں ہیں جن کی وجہ سے مسائل رہتے ہیں ۔ہم نے اپنی ایئر فورس کو ان علیحدگی پسند وں کے خلاف استعمال نہیں کیا ۔آپ لوگ اپنے ہی شہریوںکے خلاف ایئر فورس استعمال کرتے رہتے ہیں۔

 

ڈرون حملوں کے تو ہم عادی ہوچکے ہیں لیکن چونکہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ کوئی ڈرون حملہ ہوا تو ہم اسے گرالیں گے ۔لیکن اس کے باوجود ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں پہلے تھے۔لہٰذایہ بڑی پریشان کن بات ہے۔حالیہ حملوں کے بعد عوام کا اعتماد حکومت اور فوج پر بری طرف متزلزل ہوا ہے۔اس بات کا خدشہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اگر اپنے ٹوئٹ پر عمل کرتے ہوئے مزید پیش قدمی کرے تو کیا ہمارا رویہ پھر بھی معذرت خواہانہ ہی رہے گا۔یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

 

دوسرا ایشو جو ہمارے کافی عرصے سے چلا آرہا ہے وہ ماورائے عدالت قتل کا ہے۔ہماری پولیس پنجاب اور کراچی میں جو ماورائے عدالت قتل میں مصروف ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔یہ سلسلہ برس ہا برس سے جاری ہے۔کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو بھتہ نہ دینے پر قتل کردیا اور حسب معمول اسے ایک پولیس مقابلے کا نتیجہ قرار دے دیا ۔ماورائے عدالت قتل عدل و انصاف کا خون کرنے کے مترادف ہے۔اس کے نتیجے میںمعاشرے میں بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔ حالات نارمل نہیں رہتے ۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے دین نے عدل کو جو مقام اور عدلیہ کو جو نظام دیا تھااس سے انحراف کرکے ہم جس راستے پر گامزن ہیں اس پر دنیا میں بھی مذمت ہوتی ہے۔ اسلام میں ماورائے عدالت کی کوئی گنجائش نہیں۔ہم اگر یہاں اسلامی نظام نافذکریں تو اس کی برکات ہمیں نظر آئیں گی ۔علامہ اقبال کی نظم ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں ابلیس نے کہا تھا کہ اگر وہ نظام قائم ہوجائے جو محمد عربی ﷺلے کر آئے تھے اور اس کی برکات سامنے آجائیں تو کیا ہوگا ، اسے علامہ نے یوں بیان فرمایا تھا کہ

 

الحذر ! آئین پیغمبر سے سو بار الحذر  حافظ زن، مرد آزما ، مرد آفریں
موت کا پیغام ہر نوع غلامی کے لئے  نے کوئی فغفور و آقا ، نے گدائے رہ نشیں

 

جب اسلام کاعدالتی نافذ ہوگا جیسا کہ افغانستان میں ہوا جہاںفقہ حنفی کی بنیاد پر نظام نافذ کیا گیاتو وہاں کس قدر امن وامان لوگوں کو میسر آیاتھا ۔جرائم کا بالکل صفایا ہوگیا تھا۔وہاں مقدمات کے فیصلے چند دنوں کے اندر کرکے ان پر فور ی طور پر عملدرآمد کردیا جاتا تھا ۔وہاں ایک ایسا معاشرہ قائم ہوا تھا جو آج کی دنیا کے لئے ایک معجزے سے کم نہ تھا ۔اسی وجہ سے ساری دنیا افغانستان پر چڑھ دوڑی کہ اس نظام کو دنیا میں کہیں چلنے نہیں دینا کیونکہ اس نے ابلیسی نظام کا وہاں خاتمہ کردیا تھا۔ اسلام کے نام پر بننے والی ہماری مملکت میں اگر اللہ کا دین قائم ہوجائے تو یہ ساری دنیا کے لئے اسلامی ریاست کا نمونہ بن سکتی ہے لیکن ہم خود ہی اس کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں مسلمان بننے اور دین کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین یا رب العالمین۔