Wednesday, June 23, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب کو فون، لاہور دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو فون، لاہور دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، ترجمان...

دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز کی کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ہوائی جہاز انتونوو این 225 ماریہ نے ایک بار پھر کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی ہے، فلائٹ اے...

مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال سندھ حکومت پر برس پڑے، مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے...

نیشنل ہائی وے کے قریب سے ڈرگ ڈیلر ساتھی سمیت گرفتار

پولیس نے خفیہ اطلاع پر نیشنل ہائی وے کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ڈرگ ڈیلر کو ساتھی سمیت گرفتار کرلیا، پولیس کے مطابق ملزمان...

زندگی کو آسان بنائیں

ایک خوب صورت اور زندگی آسان بنانے والی رہ نما تحریرآج ہم نہیں پڑھیں گے….’’پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سارے طالب علم حیران و پریشان ایک دوسرے کامنہ تکنے لگے۔ آج آپ کے لیے چائے کافی میری طرف سے….اسی دوران لیکچر ہال میں کالج کا پیُون داخل ہوا اس کے ہاتھ میں کافی کے دو بڑے سے جگ تھے ۔ ساتھ ہی بہت سے کپ تھے، پورسلین کے کپ، پلاسٹک کے کپ، شیشے کے کپ، ان میں سے بعض سادہ سے کپ تھے اور بعض نہایت قیمتی، خوبصورت اور نفیس….پروفیسر نے تمام طالب علموں سے کہا کہ ‘‘سب اپنی مدد آپ کے تحت وہ گرما گرم چائے کافی آپ خودلے لیں۔’’جب تمام طالب علموں نے اپنے چائے اور کافی کے کپ ہاتھوں میں لے لیے تو پروفیسر صاحب گویا ہوئے ۔ ‘‘ آپ لوگ غور کریں …. تمام نفیس، قیمتی اور دیکھنے میں حسین کافی کپ اٹھا لیے گئے ہیں، جبکہ سادہ اور سستے کپوں کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا، وہ یوں ہی رکھے ہوئے ہیں۔’’‘‘اس کا کیا مطلب سر’’۔ ایک طالب علم نے پوچھا‘‘گو یہ عام سی بات ہے کہ آپ اپنے لیے سب سے بہترین کا انتخاب کرتے ہیں لیکن یہی سوچ آپ کے کئی مسائل اور ذہنی دباؤ کی جڑ بھی ہے۔’’سارے طالب علم چونک اٹھے، ‘‘ یہ کیا کہہ رہے ہیں سر اچھی چیز کا انتخاب تو اعلیٰ ذوق کی علامت ہے۔ یہ مسائل کی جڑ کیسے ….؟’’پروفیسر نے مسکراتے ہوئے کہا:‘‘آپ سب کو حقیقت میں جس چیز کی طلب تھی، وہ چائے یا کافی تھی…. نہ کہ کپ…. لیکن آپ سب نے دانستہ طور پر بہتر کپوں کے لیے ہاتھ بڑھایا اور سب ایک دوسرے کے کپوں کو چور نگاہوں سے دیکھتے رہے۔’’میرے بچو …. نوجوانو… یاد رکھو…. زندگی کا اصل حسن باطن سے پھوٹنے والی خوشیوں کی وجہ سے ہے۔ عالی شان بنگلہ، قیمتی گاڑی، دائیں بائیں ملازمین، دولت کی چمک دمک کی وجہ سے بننے والے دوست یہ سب قیمتی کپ کی طرح ہیں۔ اگر اس قیمتی کپ میں کافی یا چائے بدمزہ ہو تو کیا آپ اسے پئیں گے؟۔اصل اہمیت زندگی ، صحت اور آپ کے اعلیٰ کردار کی ہے۔ باقی سب کانچ کے بنے ہوئے نازک برتن ہیں، ذرا سی ٹھیس لگنے سے یہ برتن ٹوٹ جائیں گے یا ان میں کریک آجائے گا۔یاد رکھیے! دنیا کی ظاہری چمک دمک کی خاطر اپنے آپ کو مت گرائیے۔ بلکہ زندگی کے اصلی جوہر کو اُبھاریے۔تمام تر توجہ صرف کپ پر مرکوز کرنے سے ہم اس میں موجود کافی یعنی زندگی سے لطف اندوز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں۔لہٰذا کپوں کو اپنے ذہن کا بوجھ نہ بنائیں…. اس کی بجائے کافی سے لطف اندوز ہوں۔’’https://www.facebook.com/mntpk