Wednesday, August 4, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

شہر قائد میں لاک ڈاؤن کے باوجود 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات...

آرمی چیف کا پولیس کے شہداء کو بھرپور خراجِ عقیدت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم شہدائے پولیس کے موقع پر شہداء کو بھرپور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک...

کورونا موبائل ویکسی نیشن یونٹس نے کام شروع کردیا

کورونا موبائل ویکسی نیشن یونٹ نے کام شروع کردیا، 12 گاڑیوں پر مشتمل موبائل یونٹ شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کو ویکسین لگائے...

لاک ڈاون میں شادی مہنگی پڑگئی، مہمانوں کی بجائے پولیس پہنچ گئی

 لاک ڈاون میں شادی مہنگی پڑگئی مہمانوں کی بجائے پولیس پہنچ گئی، ذرائع کے مطابق نشتر روڈ پر لاک ڈاون میں شادی کی تقریب...

اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا کراچی میں بسنے والے بنگالی

کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں بسنے والے بنگالی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ یہ کون ہیں، پاکستانی، بنگلہ دیشی یا برمی۔

ایک رپورٹ کے مطابق قیام پاکستان کے بعد کراچی میں تین لاکھ بنگالی آباد تھے۔ وقت بدلا اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد یہ تعداد گھٹتی اور پھر بڑھتی رہی۔ اب ایک اندازے کے مطابق، کراچی کی 105مختلف کالونیوں میں تقریباً دو لاکھ تک بنگالی رہائش پذیر ہیں۔

ان میں سب سے مشہور بنگالی آبادیاں اورنگی ٹاؤن، ابراہیم حیدری، بلال کالونی (مچھر کالونی) ضیاالحق کالونی، موسیٰ کالونی اور لیاری کا بنگالی پاڑہ ہیں۔

مچھر کالونی اور شناخت کے منتظر بنگالی آبادی

مچھر کالونی کراچی کی قدیم اور اب سب سے بڑی کچی آبادی ہے۔ نہیں معلوم کہ ’مچھر کالونی‘ کا نام مچھروں کی بہتات سے پڑا، یا یہ مچھیرے کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ 30 کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل کالونی میں 60 فیصد سے زیادہ حصے پر بنگالی اور برمی آباد ہیں۔ کالونی میں آپ کا استقبال گندے پانی کی بو اور تعفن سے ہوتا ہے۔

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق 2017 کی مردم شماری کے مطابق یہاں سوا لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔ ساحلی پٹی سے جڑے ہونے کی وجہ سے آبادی کا زیادہ تر روزگار، ماہی گیری، کشتی بانی، مچھلی اور جھینگے کی صفائی سے جڑا ہوا ہے۔ جس کی باس ہی یہاں کی خصوصیت ہے۔

000_19613S.jpg

کراچی میں بنگالی تارکین وطن کے ایک محلے کی دکان۔ (اے ایف پی)

یہاں بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کا فقدان، روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کالونی کے داخلی دروازے کے ساتھ ماہی گیری کی صنعت سے جڑے کارخانے، کیچڑ، گندگی کے پہاڑ اور گندے پانی کے جوہڑ عام ہیں۔ یہاں آپ کو غربت، بیروزگاری اور نوجوانوں کے بے رونق اور بے یقین چہرے نظر آتے ہیں۔ بے لباس چھوٹے بچے گلی میں مٹی سے کھیل کر اپنا حال گزار رہے ہیں۔ بڑوں کا ماضی بھی کم و پیش ایسا ہی گزارا تھا۔ اور مستقبل کی کسے فکر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور بنیادی صحت کے حصول کے لیے ہر حوصلہ مند گھرانے کو کالونی سے باہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دواخانے یا ڈاکٹر تک رسائی آبادی کے بہت ہی کم حصے کو حاصل ہے۔ ایک نجی ادارے ’امکان‘ نے دو سال پہلے خواتین اور بچوں کے لیے صحت کی بنیادی سہولت پہچانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

اس کالونی کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بنیادی ضرورتوں سے بھی بڑا ’شناخت‘ کا مسئلہ ہے۔ یہاں کی اکثریت ’بے زمین اور بے وطن‘ تسلیم کی جاتی ہے۔ ابھی یہ مسئلہ حل ہونا باقی ہے کہ یہ ہیں کون، پاکستانی، بنگالی یا برمی؟