Wednesday, June 23, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

پی آئی اے کا کم ایندھن خرچ کروانے جہاز لیز پر لینے کا فیصلہ

پاکستان قومی ائیر لائن کا کم ایندھن خرچ کرنے والے مزید 4 جہاز لیز پر لینے کا فیصلہ، ترجمان پی آئی اے کے مطابق...

بیرون ملک جانے والوں کےلئے سندھ حکومت کا تحفہ

بیرون ملک جانے والوں کےلئے سندھ حکومت کا تحفہ، محکمہ صحت سندھ نے گیریز ویزا سروس سے ویکسی نیشن کےلئے معاہدہ کرلیا، معاہدے کے...

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب کو فون، لاہور دھماکے پر گہرے دکھ کا اظہار

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو فون، لاہور دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار، ترجمان...

دنیا کے سب سے بڑے کارگو جہاز کی کراچی ائیر پورٹ پر لینڈنگ

دنیا کے سب سے بڑے کارگو ہوائی جہاز انتونوو این 225 ماریہ نے ایک بار پھر کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ کی ہے، فلائٹ اے...

کراچی چڑیا گھر اور برگد کا درخت

برگد کا درخت متعدد خصوصیات کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ جہاں بھی اگتا ہے وہاں اپنا پورا خاندان تشکیل دیتا ہے۔
ایسا ہی ایک پھلتا پھولتا برگد کا درخت آپ کراچی میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔
جو دو صدیاں گزار کر کم و بیش ایک ہزار گز سے زائد رقبے پر پھیل چکا ہے۔
اس ایک درخت سے اب تک مزید نو درخت بن چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
یہ درخت کراچی کے گنجان آباد علاقے کے ایک نباتاتی باغ میں موجود ہے۔
جی ہاں!
عام طور پر اہل کراچی اس باغ کو ”گارڈن“ یا ”چڑیا گھر“ کے نام سے جانتے ہیں۔
یہ کراچی کی قدیم آبادی کے بیچ 43 ایکڑ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔
اگرچہ جانوروں کی موجودگی اب اس جگہ کی پہچان ہے۔
لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ تاریخی طور پر یہ جگہ ایک نباتاتی باغ کے لیے مخصوص تھی۔
اب بھی یہاں دو ہزار سے زائد تناور درختوں کا ذخیرہ موجود ہے۔
جو بدلتے موسموں سے لڑتے کراچی کے لیے کسی آکسیجن کے کارخانے سے کم نہیں۔
اس باغ کو قائم ہوئے 150 سال پورے ہوچکے ہیں۔
 وقت کے ساتھ ساتھ اس باغ کی شناخت بدلتی رہی۔
پہلے اسے سرکاری باغ کہا جاتا تھا۔
انگریز دور میں اسے وکٹوریہ کوئین گارڈن کا نام ملا۔
بعدآزاں یہ گاندھی گارڈن کے نام سے موسوم ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد اسے کراچی زو یا چڑیا گھر کا نام دیا گیا۔
اب اس کا پورا نام ”کراچی زولوجیکل اینڈ بوٹینیکل گارڈن“ ہے۔
درختوں کے متوالوں، نباتات کے طالب علموں، ماہرین ماحولیات اور محققین کے لیے آج بھی یہ باغ بطور ”بوٹینیکل گارڈن“ کشش کا باعث ہے