Friday, April 23, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

محکمہ ریلوے کا عید الفطر پر 3 خصوصی ٹرینیں چلانےکا فیصلہ

محکمہ ریلوے نے عید الفطر پر 3 خصوصی ٹرینیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے، خصوصی ٹرینوں کی ایڈوانس بکنگ آئندہ چند روز میں شروع...

کراچی میں تیزی سے کورونا کیسز بڑھنا پریشان کن ہے، مراد علی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں ڈاکٹر عذرا، سعید غنی، ناصر شاہ اور...

شہر قائد میں آج سے دو روز تک گرمی میں اضافے کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات کے ہیٹ ویو سینٹر نے آج سے اتوار تک شہر قائد میں گرمی کی شدت میں اضافے کی پیشگوئی کردی ہے۔ ہیٹ...

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

کراچی کی تاریخی لی مارکیٹ

لی مارکیٹ اہل کراچی کے لیے جانا پہچانا نام ہے۔
یہ شہر کی قدیم آبادی لیاری کے قریب واقع ہے۔
انگریز دور میں اس علاقے کو تاریخی تجارتی مرکز ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔
یہاں کراچی کی پہلی سبزی منڈی بھی واقع تھی۔
1930 میں کراچی میونسپلٹی نے اس علاقے کو نئی شکل دی۔
یہاں عالی شان مارکیٹ کی عمارت تعمیر کرائی اور ایک ٹاور بنایا گیا، جس پر گھڑیال نصب تھا۔
اس مارکیٹ کا نام ایک انگریزانجینئر مسٹر میشام لی کے نام پر”لی مارکیٹ“ رکھا گیا۔
 یہ مارکیٹ صدیق وہاب روڈ، نیپیئر روڈ، شیدی ویلیج روڈ اور ندی روڈ کے چوراہے پر واقع ہے۔
اس مارکیٹ کی عمارت اپنی مثال آپ تھی۔
 اردگرد تجاوزات اور کثیر المنزلہ عمارتیں نہ ہونے کے باعث اس کا گھڑیال دور سے نظر آتا تھا۔
ماضی میں لی مارکیٹ کے صحن میں سبزہ زاراور پارک ہوا کرتا تھا۔
 جس کے درمیان میں ایک خوبصورت فوارہ نصب کیا گیا تھا۔
 وقت کے ساتھ تجاوزات میں اضافہ ہوتا گیا اور پارک کا نام و نشان مٹ گیا۔
 اب اس پارک کی جگہ پر بھی دکانیں تعمیر کی گئی ہیں۔
جس نے اس علاقے کی اصل صورت کو دھندلا کر رکھ دیا ہے۔
ایک دور میں یہاں کا گھڑیال وقت بتایا کرتا تھا۔
لیکن اب ہمیں وقت کی قدر نہیں،
 اس لیے اس گھڑیال کی سوئیاں بھی ساقط ہوگئی ہیں۔
صدر کے علاقے میں ایمپریس مارکیٹ کی بھی کچھ ایسی ہی کہانی ہے۔
تاہم اب وہاں تجاوزات کا خاتمہ کرکے اسے اصل حالت میں بحال کیا جارہا ہے۔
کیا لی مارکیٹ کی بھی اپنی اصل شکل و صورت نکھر سکتی ہے؟