Monday, April 19, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

سپر ہائی وے، ٹرک نے موٹر سائیکل کو روند ڈالا، 3 افراد جاں بحق اور 4 زخمی

سپرہائی وے پر ٹرک نے موٹرسائیکل سواروں کو ٹکر مار دی، حادثے میں 3 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ ریسکیو ذرائع...

گلستان جوہر، مبینہ پولیس مقابلہ میں 2 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

گلستان جوہر میں پولیس نے مبینہ مقابلے کے بعد 2 ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق گلستان جوہر بلاک 6...

تاجر تنظیموں کا علمائے اکرام کی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان

کراچی سمیت دیگر شہروں کی تاجر تنظیموں نے علمائے اکرام کی جانب سے آج دی گئی پہیہ جام ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت...

پہلی تا آٹھویں جماعت تک کلاسیں معطل کرنے کا فیصلہ

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے باعث سندھ بھر میں پہلی تا آٹھویں جماعت تک...

ماہرینِ نفسیات نے’ محبت بھرا شکریہ‘ کہنے کا بہتر اور آسان طریقہ پیش کردیا

نفسیات داواشنگٹن: ہم روزمرہ زندگی میں اپنی شریکِ حیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن اب ماہرینِ نفسیات نے اس کا بہتر اور بہت آسان طریقہ پیش کیا ہے۔

نفسیات دانوں کے مطابق شکریئے کے الفاظ کو تھوڑی سی وسعت دے کر آپ بالخصوص اپنی شریکِ حیات کو زیادہ مسرور کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت آسان ہے کہ بس الفاظِ تشکر کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیجئے کہ انہوں نے ضرورت کے وقت کسطرح آپ کی مدد کی۔ مثلاً ’اگر آپ اپنی کار میں اس میٹنگ تک مجھے نہیں چھوڑتے تو میرا بہت نقصان ہوجاتا، آپ کا بہت شکریہ۔‘

اوپر کے جملے سے آپ اپنے شریکِ حیات کا وہ کردار بیان کررہے ہیں جو ان کے ایثار اور عملی قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔ نفسیات داں کے مطابق ایسے جملے سننے والے پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ اس احساسِ تشکر کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔  لیکن اگر آپ یہ جملہ کہدیں کہ ’ مجھے مصروفیت کے اوقات میں میرے دفتر چھوڑنا آپ کے لیے پریشان کن تھا ،‘ جیسے الفاظ ذیادہ پر اثر نہیں ہوتے۔

تو واضح ہوا کہ پہلے جملے میں دست تعاون کا ذکر ہے اور دوسرے جملے میں اس کی قربانی یا ایثار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس لیے اپنے دوست یا شریکِ حیات کی مدد اور کام کو تشکر کے ساتھ نمایاں کرنے کا زیادہ بہتر اثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق رومانوی تعلقات پر گزشتہ تحقیق سے بھی ثابت ہے کیونکہ ہم انسانوں کا ارتقا کچھ اس طرح ہوا ہے کہ ہماری فطرت قبائلی ہے اور ہم ایک دوسرے کی ضرورت کے تحت فوائد پہنچاتے ہیں اور مفاد سمیٹتے بھی ہیں۔  دوسری جانب شکرانے کا مثبت اظہار انسانوں کےباہمی بندھن کو زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ گویا ہم اس کے ذریعے تعلقات کو کھاد اور پانی دے کر مزید مضبوط بناتے ہیں۔

حالیہ سروے میں 111 شادی شدہ افراد کو بلایا گیا جن کی اوسط عمر 27 برس اور شادی کو ساڑھے چار برس ہوچکے تھے۔ ان سے بعض سوالات کئے گئے اور انہیں بتائے بغیر مختلف موضوعات پر تین تین منٹ بولنے دیا اور ان کی فلمبندی کی۔ اس کے بعد ان کے شریکِ حیات کو ویڈیو دکھائی گئیں اور ان سے سب سے متاثر کن جملے منتخب کرنے کوکہا گیا۔

اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ اگر جملوں میں کسی عملی کام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا جائے تو اس کا بہت دیرپا ہوتا ہے۔نوں کے مطابق شکریئے کے الفاظ کو تھوڑی سی وسعت دے کر آپ بالخصوص اپنی شریکِ حیات کو زیادہ مسرور کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت آسان ہے کہ بس الفاظِ تشکر کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیجئے کہ انہوں نے ضرورت کے وقت کسطرح آپ کی مدد کی۔ مثلاً ’اگر آپ اپنی کار میں اس میٹنگ تک مجھے نہیں چھوڑتے تو میرا بہت نقصان ہوجاتا، آپ کا بہت شکریہ۔‘

اوپر کے جملے سے آپ اپنے شریکِ حیات کا وہ کردار بیان کررہے ہیں جو ان کے ایثار اور عملی قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔ نفسیات داں کے مطابق ایسے جملے سننے والے پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ اس احساسِ تشکر کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔  لیکن اگر آپ یہ جملہ کہدیں کہ ’ مجھے مصروفیت کے اوقات میں میرے دفتر چھوڑنا آپ کے لیے پریشان کن تھا ،‘ جیسے الفاظ ذیادہ پر اثر نہیں ہوتے۔

تو واضح ہوا کہ پہلے جملے میں دست تعاون کا ذکر ہے اور دوسرے جملے میں اس کی قربانی یا ایثار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس لیے اپنے دوست یا شریکِ حیات کی مدد اور کام کو تشکر کے ساتھ نمایاں کرنے کا زیادہ بہتر اثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق رومانوی تعلقات پر گزشتہ تحقیق سے بھی ثابت ہے کیونکہ ہم انسانوں کا ارتقا کچھ اس طرح ہوا ہے کہ ہماری فطرت قبائلی ہے اور ہم ایک دوسرے کی ضرورت کے تحت فوائد پہنچاتے ہیں اور مفاد سمیٹتے بھی ہیں۔  دوسری جانب شکرانے کا مثبت اظہار انسانوں کےباہمی بندھن کو زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ گویا ہم اس کے ذریعے تعلقات کو کھاد اور پانی دے کر مزید مضبوط بناتے ہیں۔

حالیہ سروے میں 111 شادی شدہ افراد کو بلایا گیا جن کی اوسط عمر 27 برس اور شادی کو ساڑھے چار برس ہوچکے تھے۔ ان سے بعض سوالات کئے گئے اور انہیں بتائے بغیر مختلف موضوعات پر تین تین منٹ بولنے دیا اور ان کی فلمبندی کی۔ اس کے بعد ان کے شریکِ حیات کو ویڈیو دکھائی گئیں اور ان سے سب سے متاثر کن جملے منتخب کرنے کوکہا گیا۔

اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ اگر جملوں میں کسی عملی کام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا جائے تو اس کا بہت دیرپا ہوتا ہے۔