Sunday, June 20, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

ڈپٹی کمشنر ملیر کی ہدایت پر اتائی ڈاکٹروں کےخلاف آپریشن

ڈپٹی کمشنر ملیر کی ہدایت پر پپری ٹائون میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف آپریشن، متعدد کلینکس اور میڈیکل اسٹورز سیل کردیئے گئے، ذرائع کے...

سپریم کورٹ، اسٹیل ملز ملازمین کی ترقی کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ نے اسٹیل مل ملازمین کی ترقی سےمتعلق درخواست  مسترد کردی، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت  کے دوران چیف جسٹس...

مون سون بارشیں،نکاسی کے انتظامات مکمل ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی کا دعویٰ

مون سون بارشوں سے نمٹنے کےلئے انتظامات مکمل کرلئے ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا، ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد...

فیس بک کا نیا فیچر،ایڈمن کو پوسٹ میں تبدیلی کا اختیار مل گیا

 فیس بک نے نیا شاندار فیچرمتعارف کرادیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈمن اب آن لائن کمیونیٹیز کے کسی بھی ایسے ممبر پر پابندی لگاسکتے...

ماہرینِ نفسیات نے’ محبت بھرا شکریہ‘ کہنے کا بہتر اور آسان طریقہ پیش کردیا

نفسیات داواشنگٹن: ہم روزمرہ زندگی میں اپنی شریکِ حیات کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن اب ماہرینِ نفسیات نے اس کا بہتر اور بہت آسان طریقہ پیش کیا ہے۔

نفسیات دانوں کے مطابق شکریئے کے الفاظ کو تھوڑی سی وسعت دے کر آپ بالخصوص اپنی شریکِ حیات کو زیادہ مسرور کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت آسان ہے کہ بس الفاظِ تشکر کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیجئے کہ انہوں نے ضرورت کے وقت کسطرح آپ کی مدد کی۔ مثلاً ’اگر آپ اپنی کار میں اس میٹنگ تک مجھے نہیں چھوڑتے تو میرا بہت نقصان ہوجاتا، آپ کا بہت شکریہ۔‘

اوپر کے جملے سے آپ اپنے شریکِ حیات کا وہ کردار بیان کررہے ہیں جو ان کے ایثار اور عملی قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔ نفسیات داں کے مطابق ایسے جملے سننے والے پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ اس احساسِ تشکر کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔  لیکن اگر آپ یہ جملہ کہدیں کہ ’ مجھے مصروفیت کے اوقات میں میرے دفتر چھوڑنا آپ کے لیے پریشان کن تھا ،‘ جیسے الفاظ ذیادہ پر اثر نہیں ہوتے۔

تو واضح ہوا کہ پہلے جملے میں دست تعاون کا ذکر ہے اور دوسرے جملے میں اس کی قربانی یا ایثار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس لیے اپنے دوست یا شریکِ حیات کی مدد اور کام کو تشکر کے ساتھ نمایاں کرنے کا زیادہ بہتر اثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق رومانوی تعلقات پر گزشتہ تحقیق سے بھی ثابت ہے کیونکہ ہم انسانوں کا ارتقا کچھ اس طرح ہوا ہے کہ ہماری فطرت قبائلی ہے اور ہم ایک دوسرے کی ضرورت کے تحت فوائد پہنچاتے ہیں اور مفاد سمیٹتے بھی ہیں۔  دوسری جانب شکرانے کا مثبت اظہار انسانوں کےباہمی بندھن کو زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ گویا ہم اس کے ذریعے تعلقات کو کھاد اور پانی دے کر مزید مضبوط بناتے ہیں۔

حالیہ سروے میں 111 شادی شدہ افراد کو بلایا گیا جن کی اوسط عمر 27 برس اور شادی کو ساڑھے چار برس ہوچکے تھے۔ ان سے بعض سوالات کئے گئے اور انہیں بتائے بغیر مختلف موضوعات پر تین تین منٹ بولنے دیا اور ان کی فلمبندی کی۔ اس کے بعد ان کے شریکِ حیات کو ویڈیو دکھائی گئیں اور ان سے سب سے متاثر کن جملے منتخب کرنے کوکہا گیا۔

اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ اگر جملوں میں کسی عملی کام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا جائے تو اس کا بہت دیرپا ہوتا ہے۔نوں کے مطابق شکریئے کے الفاظ کو تھوڑی سی وسعت دے کر آپ بالخصوص اپنی شریکِ حیات کو زیادہ مسرور کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ بہت آسان ہے کہ بس الفاظِ تشکر کے ساتھ یہ بھی شامل کرلیجئے کہ انہوں نے ضرورت کے وقت کسطرح آپ کی مدد کی۔ مثلاً ’اگر آپ اپنی کار میں اس میٹنگ تک مجھے نہیں چھوڑتے تو میرا بہت نقصان ہوجاتا، آپ کا بہت شکریہ۔‘

اوپر کے جملے سے آپ اپنے شریکِ حیات کا وہ کردار بیان کررہے ہیں جو ان کے ایثار اور عملی قربانی کو ظاہر کرتا ہے۔ نفسیات داں کے مطابق ایسے جملے سننے والے پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ اس احساسِ تشکر کو زیادہ اہم سمجھتا ہے۔  لیکن اگر آپ یہ جملہ کہدیں کہ ’ مجھے مصروفیت کے اوقات میں میرے دفتر چھوڑنا آپ کے لیے پریشان کن تھا ،‘ جیسے الفاظ ذیادہ پر اثر نہیں ہوتے۔

تو واضح ہوا کہ پہلے جملے میں دست تعاون کا ذکر ہے اور دوسرے جملے میں اس کی قربانی یا ایثار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس لیے اپنے دوست یا شریکِ حیات کی مدد اور کام کو تشکر کے ساتھ نمایاں کرنے کا زیادہ بہتر اثر ہوتا ہے۔

یہ تحقیق رومانوی تعلقات پر گزشتہ تحقیق سے بھی ثابت ہے کیونکہ ہم انسانوں کا ارتقا کچھ اس طرح ہوا ہے کہ ہماری فطرت قبائلی ہے اور ہم ایک دوسرے کی ضرورت کے تحت فوائد پہنچاتے ہیں اور مفاد سمیٹتے بھی ہیں۔  دوسری جانب شکرانے کا مثبت اظہار انسانوں کےباہمی بندھن کو زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ گویا ہم اس کے ذریعے تعلقات کو کھاد اور پانی دے کر مزید مضبوط بناتے ہیں۔

حالیہ سروے میں 111 شادی شدہ افراد کو بلایا گیا جن کی اوسط عمر 27 برس اور شادی کو ساڑھے چار برس ہوچکے تھے۔ ان سے بعض سوالات کئے گئے اور انہیں بتائے بغیر مختلف موضوعات پر تین تین منٹ بولنے دیا اور ان کی فلمبندی کی۔ اس کے بعد ان کے شریکِ حیات کو ویڈیو دکھائی گئیں اور ان سے سب سے متاثر کن جملے منتخب کرنے کوکہا گیا۔

اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ اگر جملوں میں کسی عملی کام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا جائے تو اس کا بہت دیرپا ہوتا ہے۔