Saturday, June 19, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

ڈپٹی کمشنر ملیر کی ہدایت پر اتائی ڈاکٹروں کےخلاف آپریشن

ڈپٹی کمشنر ملیر کی ہدایت پر پپری ٹائون میں اتائی ڈاکٹروں کے خلاف آپریشن، متعدد کلینکس اور میڈیکل اسٹورز سیل کردیئے گئے، ذرائع کے...

سپریم کورٹ، اسٹیل ملز ملازمین کی ترقی کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ نے اسٹیل مل ملازمین کی ترقی سےمتعلق درخواست  مسترد کردی، سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت  کے دوران چیف جسٹس...

مون سون بارشیں،نکاسی کے انتظامات مکمل ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی کا دعویٰ

مون سون بارشوں سے نمٹنے کےلئے انتظامات مکمل کرلئے ہیں، ایڈمنسٹریٹر کراچی کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا، ذرائع کے مطابق ایڈمنسٹریٹر کراچی لیئق احمد...

فیس بک کا نیا فیچر،ایڈمن کو پوسٹ میں تبدیلی کا اختیار مل گیا

 فیس بک نے نیا شاندار فیچرمتعارف کرادیا، میڈیا رپورٹ کے مطابق ایڈمن اب آن لائن کمیونیٹیز کے کسی بھی ایسے ممبر پر پابندی لگاسکتے...

کراچی کے جدید چائے خانے

چائے کے ہوٹل یا ڈھابے شہر قائد کی پہچان بن چکے ہیں۔
کراچی میں ہر گلی محلے یا سڑک پر چائے خانہ ضرور ملتا ہے۔
زیادہ تر چائے کے ہوٹل کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے ہیں۔
روایتی انداز سے چلائے جانے والے ان ہوٹلوں میں وقت کے ساتھ جدت آگئی ہے۔
شہر قائد کے پوش یا متوسط علاقوں میں چائے کے بیشتر ہوٹل جدید طور طریقے اپنا چکے ہیں۔
ایک تبدیلی یہ بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ چائے خانوں کے نام انگریزی الفاظ کے بجائے اردو یا مقامی زبانوں میں رکھنے کا رجحان بڑا ہے۔
اس سے قبل زیادہ تر چائے خانے ”ریسٹورنٹ“ یا ”کیفے“ کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
تاہم چائے کے ان جدید ہوٹلوں نے ”ڈھابہ“، ”اوطاق“ اور ”بیٹھک“ جیسے الفاظ کو اپنالیا ہے۔
مزید برآں ان ہوٹلوں میں محض چائے ہی نہیں ملتی بلکہ یہاں پراٹھوں اور قہوے کے بھی نت نئے اقسام متعارف کرائے گئے ہیں۔
ان جدید چائے خانوں کی بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ یہ جوئے خانوں اور نشے کے اڈوں کا روپ دھار چکے ہیں۔
ابتدا میں ان چائے خانوں میں لڈو اور تاش جیسے ان ڈور گیم تفریح طبع کے لیے شامل کیے گئے۔
لیکن اب ان چائے خانوں میں لڈو اور تاش کے پتوں پر یومیہ لاکھوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے۔
اسی طرح یہاں ”آئس“ اور ”شیشہ“ جیسی مہلک نشہ آور اشیا بھی پیسوں کے عوض دستیاب ہوتی ہیں۔
ان گھناﺅنے افعال نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ایک وقت میں شہر کے چائے خانوں میں رات گئے تک شعرا، ادیبوں اور صحافیوں کی مجلسیں سجا کرتی تھیں۔
لیکن اب ان چائے خانوں کی ہیئت تبدیل ہونے کے ساتھ یہاں سجنے والی مجلسیں بھی بدل چکی ہیں۔
کراچی میں چائے کے ہوٹل اس شہر کی رونق بڑھانے کا ایک بڑا سبب سمجھے جاتے ہیں۔
رات گئے تک کھلے رہنے والے ہوٹلوں سے شہر کی روشنیاں ماند نہیں پڑتیں۔
یہ اہل کراچی کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان کی نوجوان نسل چائے خانوں میں بیٹھ کر جوئے اور نشے کی لت میں مبتلا ہو رہی ہے۔
کراچی کے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چائے خانوں کی آڑ میں ان گھناﺅنے افعال کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ورنہ کراچی کی ثقافتی پہچان رکھنے والے چائے خانے اس شہر کے لیے بدنما داغ بن کر رہ جائیں گے۔