Monday, April 19, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

پانچویں سحری 4:49 افطار 6:56 پر ہوگی

پانچویں سحری 4:49 افطار 6:56 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

جنوبی افریقہ میں کامیابی کے بعدپاکستانی ٹیم زمبابوے پہنچ گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ سے سیریز مکمل کرنے کے بعد سیدھی زمبابوے پہنچ گئی، پاکستانی ٹیم زمبابوے کے دورے میں 3 ٹی ٹوئنٹی...

سندھ حکومت تنقید کے علاوہ کوئی کام نہیں کرتی، اسد عمر

وفاقی وزیر اسد عمر سندھ حکومت پر برس پڑے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت خود کوئی...

نوری آباد میں بارش، شہرقائد میں امکان نہیں، محکمہ موسمیات

کراچی کے مضافات میں بارش، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی حیدرآباد موٹروے پرنوری آباد سے بارش ہورہی ہے ، موسمیات کا کہنا ہے کہ...

کراچی کے جدید چائے خانے

چائے کے ہوٹل یا ڈھابے شہر قائد کی پہچان بن چکے ہیں۔
کراچی میں ہر گلی محلے یا سڑک پر چائے خانہ ضرور ملتا ہے۔
زیادہ تر چائے کے ہوٹل کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے افراد چلا رہے ہیں۔
روایتی انداز سے چلائے جانے والے ان ہوٹلوں میں وقت کے ساتھ جدت آگئی ہے۔
شہر قائد کے پوش یا متوسط علاقوں میں چائے کے بیشتر ہوٹل جدید طور طریقے اپنا چکے ہیں۔
ایک تبدیلی یہ بھی دیکھنے کو ملی ہے کہ چائے خانوں کے نام انگریزی الفاظ کے بجائے اردو یا مقامی زبانوں میں رکھنے کا رجحان بڑا ہے۔
اس سے قبل زیادہ تر چائے خانے ”ریسٹورنٹ“ یا ”کیفے“ کے الفاظ استعمال کرتے تھے۔
تاہم چائے کے ان جدید ہوٹلوں نے ”ڈھابہ“، ”اوطاق“ اور ”بیٹھک“ جیسے الفاظ کو اپنالیا ہے۔
مزید برآں ان ہوٹلوں میں محض چائے ہی نہیں ملتی بلکہ یہاں پراٹھوں اور قہوے کے بھی نت نئے اقسام متعارف کرائے گئے ہیں۔
ان جدید چائے خانوں کی بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ یہ جوئے خانوں اور نشے کے اڈوں کا روپ دھار چکے ہیں۔
ابتدا میں ان چائے خانوں میں لڈو اور تاش جیسے ان ڈور گیم تفریح طبع کے لیے شامل کیے گئے۔
لیکن اب ان چائے خانوں میں لڈو اور تاش کے پتوں پر یومیہ لاکھوں روپے کا جوا کھیلا جاتا ہے۔
اسی طرح یہاں ”آئس“ اور ”شیشہ“ جیسی مہلک نشہ آور اشیا بھی پیسوں کے عوض دستیاب ہوتی ہیں۔
ان گھناﺅنے افعال نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
ایک وقت میں شہر کے چائے خانوں میں رات گئے تک شعرا، ادیبوں اور صحافیوں کی مجلسیں سجا کرتی تھیں۔
لیکن اب ان چائے خانوں کی ہیئت تبدیل ہونے کے ساتھ یہاں سجنے والی مجلسیں بھی بدل چکی ہیں۔
کراچی میں چائے کے ہوٹل اس شہر کی رونق بڑھانے کا ایک بڑا سبب سمجھے جاتے ہیں۔
رات گئے تک کھلے رہنے والے ہوٹلوں سے شہر کی روشنیاں ماند نہیں پڑتیں۔
یہ اہل کراچی کی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ان کی نوجوان نسل چائے خانوں میں بیٹھ کر جوئے اور نشے کی لت میں مبتلا ہو رہی ہے۔
کراچی کے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چائے خانوں کی آڑ میں ان گھناﺅنے افعال کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔
ورنہ کراچی کی ثقافتی پہچان رکھنے والے چائے خانے اس شہر کے لیے بدنما داغ بن کر رہ جائیں گے۔