Sunday, May 9, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

چھبیسویں سحری 4:27 افطار 7:08

پچیسویں سحری 4:27 افطار 7:08 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

کراچی سمیت سندھ بھر میں عید کی شاپنگ کے لئے دی گئی مہلت ختم

کراچی سمیت سندھ بھر میں شام کے 6 بجتے ہی شاپنگ کیلئے دی گئی مہلت ختم ہوگئی، آخری دن بازاروں میں خریداروں کا رش...

ملک بھر میں تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) نے کراچی سمیت ملک بھر میں تعلیمی ادارے 23 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کرلیا...

محکمہ ایکسائز نے ٹیکس دہندہ شہریوں کے لیے چالان کا حصول آسان بنادیا

محکمہ ایکسائز نے ٹیکس دہندہ شہریوں کے پراپرٹی ٹیکس کے بل یا چالان کے حصول کو سہل بناتے ہوئے یہ سہولت اب اپنی آفیشل...

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے حبیب اللہ

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ جب کسی پر برستی ہے تواس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تو بہت مہربان ہے کہ وہ سرکشوں کو بھی اپنی نعمتوں اور نوازشوں سے محروم نہیں رکھتا۔ بلکہ اکثر اوقات انہیں عام لوگوں سے بڑھ کر دنیاوی آسائشوں سے نوازتا ہے۔ اب جب وہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو غلط استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اپنی مرضی و من مانی کرنے لگتے ہیں۔ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ دنیا والوں پر اپنی چاہتوں کا نفاذ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ لوگو ں پر اپنا حکم لاگو کرنے میں لاٹھی سے کام لیتے ہیں۔ اب جو شخص ان کے سامنے چوں چرا کرے تو اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دیتے ہیں۔ انہیں نہ تو غریبوں کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے دل میں مسکینوں کے لیے جذبہ شفقت ہوتا ہے۔ انہیں چند اختیارات کیا ملتے ہیں وہ اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھتے ہیں۔
قرآن کا مطالعہ کیا جائے قارون و فرعون کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ قارون کو اللہ نے دنیا کی ہر قسم کی آسائشیں عطا فرمائی تھیں۔ اسے دنیا کے مال کا ایک بڑا حصہ عطا گیا تھا۔ اس کے خزانوں کی کثرت کا یہ حال تھاکہ ان خزانوں کی چابیاں اونٹوں کی ایک بڑی جماعت اٹھایا کرتی تھی۔ (القصص76:) مگر جب اس نے اپنے اختیارات کو بے جا غلط استعمال کیا اور راہ ہدایت سے روگردانی کر کے سرکشی کی راہ اختیار کی۔ یہ کہنے لگا: ”میرے پاس جو مال کے ڈھیر اور خزانے ہیں یہ تو میری عقل کا کما ل ہے۔ یہ اتنا زیادہ مال و دولت میں نے اپنے علم کی بدولت سے حاصل کیا ہے۔ جب اس نے اللہ کو بھلا دیا تو اس کا انجا م، نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ نے اسے اپنے محل سمیت دھنسا دیا۔ اسی طرح فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ تو اسے بھی اللہ نے سمندر برد کر دیا۔ اسی طرح ابو جہل و ابولہب جو کہ بیت اللہ میں داخل ہوتے رہتے تھے۔ جب اپنی سرداری کے جوش میں آ کر جنابِ محمدﷺکی راہ ہدایت پر گامزن کرنے والی شریعت کو ٹھکرا دیا۔ اور اپنا حکم نافذ کرنے کی سعی کی تو اللہ نے دونوں کو دنیا میں تباہ و برباد کر دیا اور آخرت میں بھی ان کا مقدر ذلت و رسوائی بنی۔
prophet-islam-sunnah
بعینہ وہ مشرف جس نے کل یہ کہا تھا: ”میں اگر امریکہ کو ڈرون کی اجازت اور اڈے نہ دیتا تو وہ ہمیں پتھروں میں دھکیل دیتا۔“ جس نے مکا لہراتے ہوئے مظلوم عوام پر اپنی طاقت کا اظہار یوں کیا: ”میں بگٹی کو وہاں سے ہٹ کروں گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔“ وہ ظالم جس نے لال مسجد میں خون کی ندیاں بہائیں اورمعصوم کلیوں کو اپنے ناپاک اور غلیظ ہاتھوں سے مسل ڈالا۔ جس کے جرائم کا شمار نہیں۔ جو کہ کرسی پر بیٹھ کر اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھا تھا۔ جس کے دور حکومت میں دین اسلا م اور اس دین کے پروانوں کو مجروح کیا گیا۔ شعارِ دین کی بے حرمتی کی گئی۔ ظلم وسفاکیت کی داستانیں رقم ہوئیں۔ ہزاروں بے گناہ شہری قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا ہوئے۔ ان گنت مظلوم اس خونی درندے کی بھینٹ چڑھے۔ اس کے لگائے ہوئے زخموں سے ابھی تک لہو رس رہا تھا کہ وہ مکار پھر پاکستا ن واپس آ گیا۔ وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ پاکستا نی عوام بے وقوف ہے۔ سب بھلا چکے ہوں گے۔ وہ یہ سوچ کر واپس پلٹا تھا کہ ایک بار پھر تخت و تاراج کا وارث بن کر زمام ِحکومت سنبھالے گا۔ ایک بار پھر مسندِ اقتدار پر براجمان ہو کر تمام اختیارات اور سفید و سیاہ کا وارث بنے گا۔ وہ اپنی من مانی کرے گا۔ مگر قدرت کی طرف سے بھی کیسے عجیب فیصلے ہوتے ہیں۔ اللہ جب کسی ظالم و جابر کو پکڑنے پر آتا ہے تو قرآن کی سورت الانعام کی آیت 44کے مصداق اسے مزید ڈھیل دے دیتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی مستی میں مزید مست ہو جائے اور اللہ اسے پکڑ لے۔
ہاں ہاں! عوام کو پریشانی میں مبتلا رکھنے والا آج خود پریشان ہے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ کیا کرے۔ آئے بھی کیوں؟ اس نے خود ہی اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود دی ہے۔ آج وہ اپنے دوستوں کی طرف امید کی نظریں لگائے بڑی ہی معصومیت سے دیکھ رہا ہے۔ مگر انہوں نے مدد دینا تو درکنار دیکھنا تک بھی گوارہ نہیں کیا۔ یہ سب کچھ اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوت
شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلا ہے
دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی شرارتوں کی بدولت
سچ ہے کہ برے کا انجام براہے
اے کاش آج بھی عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے والے حکمران ایسے انجام سے درس عبرت حاصل کرلیں۔ عوام کے خون پسینے کو چوسنے والے سنبھل جائیں۔ وہ ایسے حکمرانوں کا ذلت انگیز انجام دیکھ کر سیدھے ہو جائیں۔ مگر ایسا نظر نہیں آتاکیونکہ دولت کا نشہ اور کرسی انسان کو پاگل اور مجنون بنا دیتی ہے۔ مگر پھر بھی صاحبانِ کرسی سے التجا ءہے کہ خدارا سیدھے ہو جاﺅ۔ اللہ نے قرآن میں مسلم حکمرانوں کی جو صفات بیان کی ہیں ان پر عمل پیرا ہوجاﺅ۔ وہ کام یہ ہیں: ”اگر ہم انہیں زمین میں حکمرانی عطا کریں تو وہ نماز کو قائم کریں اور کروائیں، زکوٰة ادا کریں اور کروائیں، نیکی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔“(الحج:41)
اللہ کے لیے حکمرانی کے نشے میں مست ہو کر اپنے حقیقی مقصد کو پسِ پشت مت ڈالو۔ یہ دولت عارضی ہے اور بادشاہت چند دن کی ہے۔اللہ کے سامنے جوابدہی کے لیے بھی پیش ہونا ہے۔ اللہ سے وفاداری کریں۔ اللہ کے غضب کو جوش مت دلائیں۔ وگرنہ کہیں رسوائی مقدر نہ بن جائے۔