Friday, April 23, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

گلشن اقبال، تراویح کے بعد گھرجانےوالےنمازیوں سے لوٹ مار

 رمضان المبارک میں شیطان قید جبکہ اسٹریٹ کرمنل آزاد ہوگئے، ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 4 میں نماز تراویح پڑھ کر گھرجانے والے...

کورونا کیسز میں اضافہ، وفاق کی صوبوں کو سخت پابندیوں کی تجویز

کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے سخت پابندیوں پر مبنی دو مرحلوں کا شیڈول صوبائی حکومتوں کو بھیج...

عمران خان اورترین کی ملاقات بدترین این آر او ہے، ناصر شاہ

 این آر او، این آر او کی رٹ لگانے والے وزیراعظم اب جہانگیر ترین کو این آر او دینے والے ہیں، سماجی رابطے کی...

گمنام شہری (حفیظ خٹک)

پاکستان کو قیام سے اب تلک ختم کرنے کی پے درپے کاوشیں کی گئیں اور یہ کاوشیں تاحال بھی جاری ہیں ۔ ایک ملک نہیں متعدد ممالک نے مل کر اس ملک کا تیا پانچہ کرنے کی قولی اور عملی ، ظاہری و باطنی کوششیں کیں تاہم اللہ نے اپنے گمنام مجاہدوں سے اس ملک کی حفاظت کا کام لیا ۔ وطن عزیز کے گمنام مجاہدین کی گر فہرست بنانے بیٹھیں تو قلم کے ساتھ کاغذ بھی ختم ہوجائیں گے پر ان کے نام اورگمنام مجاہد پاکستانیوں کے اذکارختم نہیں ہونگے ۔ وطن عزیز کے انہی گمنام سپاہیوں میں اک نام سیٹھ عابد کابھی آتا ہے ۔ سیٹھ عابد کہ جنہیں ڈھونڈنے اور اپنے راستے سے ہٹانے کیلئے وطن عزیز کے دشمن ملکوں نے سرتوڑ کوششیں کیں تاہم انہیں کامیابی نہیں ہوئی ۔ اک اسمگلر اوروہ بھی سونے کے اسمگلر کے نام اور کام سے ان کی تشہیر کی گئی اس کے ساتھ انہیں بدنام کرنے کی بہت تگ و دو کی گئیں لیکن اللہ جسے عزت و شہرت دیتا ہے اسے کوئی کتنا بھی بے عزت اور بدنام کرنے کی کوشش کرے ، ناکامی ان ہی کا مقدربنتی ہے ۔

قیام پاکستان سے گیارہ برس قبل صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں پیدا ہونے والے عابد حسین نے اک خاموش اور گمنام مجاہد کی حیثیت سے اس ملک کیلئے وہ کچھ کیا جسے یہ ملک تو کیا امت مسلمہ بھی نہیں بھلا پائے گی ۔ رواں ماہ جنوری میں وفات پانے والے اس گمنام شہری کو دنیا کے وہ ممالک جو پاکستان سے ذرا بھی عداوت نہیں رکھنا چاہتے ہیں اور جن کی ایجنسیز نے ہر طرح سے اس گمنام شہری کو صفہ ہستی سے مٹانے کی کوششیں کیں تاہم انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ را ، موساد اور امریکی سی آئی اے سمیت متعدد ملالک نے سیٹھ عابد کو ڈھونڈنکالنے اور بعدازاں ختم کرنا چاہالیکن انہیں اسی طرح کی ناکامی کا سامنا کرناپڑا جس طرح روس کو اور اس کے بعد امریکہ کو افغانستان میں ناکامی کا سامناپڑرہا ہے اور تاحال شکست کے بعدکے اثرات انکے سامنے آرہے ہیں ۔

سقوط ڈھاکہ کے طویل مدت بعد جب ضیاء الحق نے وطن عزیز کی صدارت سنبھالی تو انہیں اس بات کا یقین تھا کہ بھارت و اسرائیل پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ پاکستان کو بچانے کیلئے مرحوم ضیاء الحق نے وطن عزیز کو ایٹمی قوت بنانے کا مصمم ارادہ کیا اور اس غرض کیلئے انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملاقات کی اور انہیں اس حوالے سے اپنے عزائم سے آگاہ کیا ۔ ڈاکٹر قدیر کے حامی بھرنے کے ساتھ ہی اس منصوبے پر کام کا آغاز ہوا ۔ ایٹم بم بنانے کیلئے جن اشیاء کی ضرورت تھی ان کا حصول ممکن بنانے کیلئے سیٹھ عابد کی خدمات حاصل کی گئیں ۔

سیٹھ عابد نے شہید صدر سے سمیت ڈاکٹر قدیر سے یہ کہہ دیا کہ ایٹم بم بنانے کیلئے جس چیز کی بھی ضرورت ہوگی وہ اس چیز کو دنیا کے کسی بھی حصے سے لاکر ان کی خدمت میں پیش کردے گا ۔ اس وقت امریکہ یہ جان چکا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بننا چاہتا ہے ، اس قوت سے روکنے کیلئے امریکہ نے دنیا کے ممالک کو پاکستان سے کسی بھی ایسی تجارت پر پابندی عائد کردی تھی کہ جو چیز ایٹم بم بنانے میں کام آسکتی ہو ۔ اس کے باوجود سیٹھ عابد نے بغیر کسی ثبوت کے وہ اشیاء ڈاکٹر قدیر تک پہنچائیں اور پاکستان کو اس صف میں لاکھڑا کردیا کہ جس کے بعد اب کسی ملک کو اس بات کی جراءت نہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف کھڑا ہو سکے ۔ برملا یہ اک کھلی حقیقت ہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اک خاموش ، گمنام مجاہد نے جو کردار ادا کیا اس کا نام سیٹھ عابد ہے اور اس کا چناءواللہ رب العزت نے کیا ۔

وطن عزیز کے دو مجاہد ایسے ہیں کہ جنہیں کفار نے قتل کرنا چاہاتاہم ناکام ہوئے ، اک نام حمید گل کا ہے جنہوں نے اپنی تمام زندگی کو پاکستان کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں گذاری اور طبعی موت کے ساتھ ہی ابدی زندگی کی جانب بڑھے اور دوسرا گمنام مجاہد سیٹھ عابد ہے جسے ایڑی چوتی کا زور لگانے کے باوجود با اثر ممالک کی ایجنسیز نہ پکڑ سکیں ۔ حمید گل اور سیٹھ عابد کیلئے ہر محب وطن کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں اور ہمیشہ نکلتی رہیں گی ۔

سیٹھ عابد کی زندگی میں گمنام رہنے والی خواہش پایہ تکمیل کے ساتھ انجام کو پہنچی ، اس نے لاہور میں معذوروں کے ہسپتال و وزیراعظم عمران خان کے کینسر ہسپتال کے بننے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا، یہ ہی نہیں اسی طرح کے متعدد گمنام کارنامے ایسے ہونگے جو انسانیت کیلئے مفید ثابت ہوئے جنہیں مرحوم نے مکمل کیا ۔ سیٹھ عابد اپنے تمام کارناموں کو سرانجام دینے کے بعد وہ اپنے پیروں تک کے نشانات کو مٹاکر آگے بڑھ جاتے رہے ، اور ایسا ہی کرتے کرتے وہ خاموشی سے اس دنیا سے بھی چلے گئے ۔

ہونا یہ چاہئے کہ ایسے گمنام شخصیات کے متعلق ہمارے ذراءع ابلاغ کچھ کہیں اور مثبت انداز میں ہی کہیں ، ایسی ہستیوں کے متعلق نئی نسل کو بتائیں تاکہ اس ملک کی نئی نسل ملک کیلئے بہتر سے بہترین انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے میدان عمل میں آئیں اور ملک کے بنائے جانے کے مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے تگ و دو کریں ، اس ملک کو اسلامی نظام کا ملک بنائیں تاکہ اس ملک کے شہداء کی روحوں سمیت علامہ اقبال و قائد اعظم کی روح کو بھی سکون حاصل ہو ۔ ان کے ساتھ ہی ساتھ ان زندہ گمنام مجاہدین کے بھی حوصلے بلند ہوں اور وہ بھی بھرپور انداز میں اپنی گمنام جدوجہدوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔

hafikht@gmail.com