Thursday, April 15, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

تحریک لیبک پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں، حافظ نعیم الرحمن

جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے تحریک لبیک پر پابندی کی مخالفت کردی، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ...

پیٹرول ایک روپے 79 پیسے فی لیٹر سستاکردیا گیا

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 79 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کردیا، ذرائع کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی...

تحریک لبیک پاکستان کالعدم قرار، نوٹی فکیشن جاری

 وفاقی کابینہ نے پنجاب حکومت کی سفارش پر تحریک لبیک پر پابندی عائد کردی، ذرائع کے مطابق ملک بھر میں تین روز سے جاری...

کراچی کے امیر رضی حسینی کا تحریک لبیک سے اعلان لا تعلقی

تحریک لبیک کراچی کے امیر علامہ رضی حسینی نے پرتشدد مظاہروں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا ، ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا...

آنسو (عرفان اقبال)

آنسولفظ ایسا ہے کہ سنتے یا لکھتے انسان کانپ جاتا ہے۔ اگر میں یہ کہہ دوں کہ لکھتے ہوئے یہ لفظ بھیگ جاتا ہے تو بھی غلط نہیں ہوگا۔ انسانی فطرت میں خوشی اور غم کا وجود ازل سے ابد تک رہے گا لہٰذا کسی بھی حالت میں انسان ان سے باہر نہیں نکل سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ خوشی کی نسبت غم اور پریشانی کا وجود خوشی سے دوگنا ہوتا ہے لیکن میں رب تعالیٰ کے نظام پر حیران ہوں کہ آنسووں کو کسی ایک حالت کے تحت پابند نہیں کیا بلکہ دونوں حالتوں میں چاہے خوشی ہو یا غم ان کا وجود برابر اہمیت اور پہچان رکھتا ہے۔ دکھ درد اور پریشانی میں آنسووں کا نکلنا گویا معمول ہے لیکن خوشی اور فرط جذبات میں بھی انسان ان کے ضبط میں بے اختیار ہو جاتا ہے۔ جس کی بدولت انسان اپنا کتھارسس (احساس اور جذبات کا اظہار )کرتا ہے بقول شاعر

میں تو اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ پوچھ نہ لے
یہ اگر ضبط کا آنسو تھا تو ٹپکا کیوں

بچے کی پیدائش پر اس کے آنسووں کا تحفہ ایک ماں کے لیے پرمسرت موقع ہے۔ جس کا استقبال بھی بعض دفعہ ماں انہیں آنسووں سے کر رہی ہوتی ہے یعنی ایک طرف جہاں بچہ دنیا میں اپنے وجود پر رو رہا ہوتا ہے۔ تو بالکل اسی لمحے اس کی ماں ایک زندہ بچے کی ماں بننے پر خوشی سے رو رہی ہوتی ہے۔ قطع نظر اس بات سے۔ کہ بچے کے آنسو کا نکلنا اس بات کا استعارہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان نے آنسو بہانے ہیں۔
آنسووں کانکالنا ہر آنکھ کے بس کی بات نہیں۔ اور نہ ہی ان کے وجود کی گہرائی ہر آنکھ سمجھ سکتی ہے۔ یہ تو بس ایک فطری جذبات یا احساس ہیں۔ جو پہلے ایک آنکھ کو نم کرتے ہیں اور پھر بعد میں نہ صرف وہ دوسری آنکھ بلکہ عقل سلیم کوبھی اس پہلی آنکھ میں موجود درد کی گہرائی کو محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ آنسووں کی قدر ہمیشہ اسے ہوتی ہے جس نے آنسووں بہائے ہوں۔ میں سائنسی نقطہ نظر سے آنسووں کے نکلنے کے پراسیس کو بیان نہیں کر سکتی کہ کہاں سے شروع ہوتے ہیں اور کیسے نکلتے یا جزب ہوتے ہیں۔لیکن اتنا ضرور کہوں گی کہ جب انسان اچھے سے رولیتا ہے تو اس کا من ہلکا ضرور ہو جاتا ہے۔ وہ خود کو پہلے کی نسبت ریلیکس محسوس کرتا ہے۔ اس کا درد اور غم پریشانی مصیبت ختم تو نہیں ہوتے۔ لیکن آنسو نکالنے کے بعد اس پر پریشانی کا دباو کافی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔ آنسووں کے اسباب میں بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ان میں نمایاں مقام محبت کا ہے۔ چاہے وہ انسان سے ہو یا متاع زندگی کےساز و سامان سے انسان کو آنسووں پر مجبور کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت کو انسان کے آنسو بہت پسند ہیں۔ کیونکہ وہ چاہتا ہی یہی ہے کہ آنسو میری محبت یا میری رضا کی خاطر نکالے جائیں۔

زندگی میں ہر چیز کا کوئی نہ کوئی معیار اور قیمت ہوتی ہے۔ آنسووں ایسے نایاب ہوتے ہیں۔ کہ ان کے لیے نہ تو معیار کا مقام مقرر کیا جاسکتا ہے۔ اور نہ ہی ان کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا حقیقی مقام تو یہ ہے کہ یہ اللہ کی محبت اور چاہت میں بہائے جائیں۔ اور ان کی قیمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو قطرے ہیں جو جہنم کی آگ کو بجھا دیتے ہیں1 شہید کے خون کا قطرہ 2 آنسووئوں کاوہ قطرہ جو اللہ کی اللہ کی محبت اور اس کے خوف میں بہایا جائے۔ صرف یہی نہیں بلکہ آخرت کے دن یوم حساب میں روتی آنکھ کے لئے عرش کے نیچے سائے میں جگہ دینے کا بھی وعدہ فرمایا۔

کہا جاتا ہے کہ بزرگ اور بڑے بڑے اولیا گوشہ نشینی کرتے تھے اور وہاں جاکے تنہائی میں روتے تھے تاکہ دنیا کے مصائب و آلام کو ختم کر سکیں اور پھر بعد میں ان آنسووں کی وجہ سے نئی خوشیوں اور ہنسنے کی جگہ بن سکے۔ فطرت انسانی بھی عجیب مزاج کی حامل ہے۔ اگر سمجھنے پر آئے تو چہرے کے تیور سمجھ لیتی ہے۔ اور اگر نظر انداز کر نے پہ آئے تو آنسووں تک دکھائی نہیں دیتے۔ بقول شاعر کسی کے ایک آنسو سے ہزاروں دل تڑپتے ہیں۔

کسی کا عمر بھر رونا یونہی بیکار جاتا ہے

کسی بھی انسان کی بے بسی کے اظہار کے لیے الفاظ کی نہیں بلکہ آنسووں کی ضرورت ہوتی ہے۔ آنسووں محبت کے اظہار کی آخری نشانی ہیں۔ آج کل ہم اپنی زندگی میں لوگوں کے دو گروہ دیکھتے ہیں نمبر1رونے والے اور نمبر2 رلانے والے۔

میرے خیال میں دنیا کے بدبخت لوگ ہیں وہ جو کسی کے آنسو کی وجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ حقوق العباد ہے اور اس کے بارے میں ضرور اللہ تبارک و تعالی سوال کریں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آنسووں سے مزین دعائیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ البتہ ان کی قبولیت کے اوقات آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں انسان کو امید کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔

ایسے میں کم از کم انسان ہونے کا تو خیال کریں۔ کسی کو اگر خوشیاں نہیں دے سکتے تو کوئی بات نہیں لیکن کم از کم اتنا تو ضرور سوچیں کہ وہ انسان ہے۔ اس کے آنسووں کی وجہ آپ نہ بنیں۔ ایسے وقت میں انسان کی وہ حالت ہوتی ہے جس میں اسے موت زندگی سے آسان لگ رہی ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے زندگی اس پر بوجھ ہو۔ جبکہ زندگی خدا کی طرف سے ایک نعمت ہے تو خدارا لوگوں سے جیتے جی یہ نعمت نہ چھینیں۔

یاد رکھیں جس نے آپ کی وجہ سے آنسو بہائے حالات میں ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب آپ ان آنسووں کے بدلے میں نہ صرف آنسو بہائیں گے۔ بلکہ اس شخص کو کھونے کے ساتھ اپنے کیے گئے عمل کا ردعمل دیکھ کر خود اس وقت کو یاد کریں گے جس وقت آپ نے کسی کو رلایا تھا اور اپنے اس عمل پر ضرور پچھتائے گے کہ کاش اس وقت میں اگر یہ نہ کرتا تو آج میری بھی یہ حالت نہ ہوتی۔ یہ بات بھی عموماً ان لوگوں کو سمجھ آتی ہے جن کی حالات معاملات اور اپنے ماضی کے نشیب و فراز کے اوپر مکمل گرفت ہوتی ہے۔ آنسو ہمیشہ آنسو ہی رہتے ہیں چاہے وہ ماں باپ کے ہوں یا بہن بھائیوں کے بیوی بچوں کے ہوں یا دوست احباب کے۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہوتا۔ کہ کسی شخصیت کے بدلنے سے آنسووں کی قیمت یا اس کے معیارات میں اونچ نیچ آجائے۔ ہاں البتہ ان میں شدت اور کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ یعنی کہ کوئی شخص معمولی سی بات پر بہت زیادہ آبدیدہ ہو جائے گا۔ جبکہ کسی شخص کا صبر کا پیمانہ اتنا وسیع ہوتا ہے۔ کہ وہ بڑے بڑے مسائل کو فیس کر کے بھی اس کے آنسو نہیں نکلتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو آپ جب تک رلائیں نا آپ کو سکون نا آئے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب بھی کوئی شخص اس حال تک جائے کہ اس کے آنسو وہاں سے نکلنا شروع ہوں تو آپ خود کو سدھار لیں بقول شاعر

ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لا دوا
ایسا نہ ہو تو اس کا مداوا نہ کر سکو

لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوتا، میں رب سے دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین