Friday, April 23, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

گلشن اقبال، تراویح کے بعد گھرجانےوالےنمازیوں سے لوٹ مار

 رمضان المبارک میں شیطان قید جبکہ اسٹریٹ کرمنل آزاد ہوگئے، ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 4 میں نماز تراویح پڑھ کر گھرجانے والے...

کورونا کیسز میں اضافہ، وفاق کی صوبوں کو سخت پابندیوں کی تجویز

کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے سخت پابندیوں پر مبنی دو مرحلوں کا شیڈول صوبائی حکومتوں کو بھیج...

عمران خان اورترین کی ملاقات بدترین این آر او ہے، ناصر شاہ

 این آر او، این آر او کی رٹ لگانے والے وزیراعظم اب جہانگیر ترین کو این آر او دینے والے ہیں، سماجی رابطے کی...

نالوں کے اطراف گھر توڑنا بند کیے جائیں، کراچی بچائو تحریک

کراچی بچاؤ تحریک نے مطالبہ کیا کہ ہے کہ گجر نالہ و اورنگی نالہ کے اطراف بنے محنت کشوں کے گھروں کو توڑنے کا سلسلہ بند کیا جائے، حکومت اگر غریب کو کچھ دے نہیں سکتی تو ان سے چھت تو نہ چھینے۔

ہفتے کو متاثرین، عوامی ورکرز پارٹی، لیاری عوامی محاز، ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ، پروگریسو اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے ریگل چوک سے فوارہ چوک تک گھر بچاؤ مارچ کا انعقاد کیا۔ مارچ میں عورتوں اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اپنے جائز مکانات کی مسماری اور استعماری قوتوں کے مفادات کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کئے جانے والے اس محنت کش عوام دشمن منصوبے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لئے ورلڈ بینک سے پیسہ لیا گیا ہے اور ورلڈ بینک کی دستاویزات کے مطابق نہ صرف حکومت ایک ایک متاثرہ شخص اور ایک ایک نامی یا بے نامی متاثرہ ملکیت کا اندراج کر کے اس کے حساب سے معاوضہ و متبادل دینے کی پابند ہے بلکہ مساجد، چرچز، پارک، اسکول ماحولیات وغیرہ کے نقصان کا بھی اندراج کر کے اس سے پیدا ہونے والے سماجی اضطراب اور نقل مکانی کا بھی معاوضہ فراہم کرنے کی بھی پابند ہے مگر افسوس کہ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پارٹی کے اقتدار میں سندھ حکومت محنت کشوں کی چھت چھیننے کے لئے ورلڈ بینک کے منصوبے پر تو عمل در آمد کرتی ہے مگر اس کے تحت متبادل و معاوضے کے لئے ملنے والی رقم بھی ہمیں نہیں دیتی۔

انہوں نے کہا کہ گھر ہمارے اپنے ہیں اور لیزڈ شدہ جنہیں بغیر کسی متبادل و معاوضے کے توڑ دیا گیا ہے اور نہ جانے اس کے لئے ملنے والا پیسہ کس کی جیب میں گیا ہے۔

کراچی بچاؤ تحریک کے کنوینر اور عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری خرم علی نے کہا کہ کراچی کے شہریوں خاص کر محنت کش عوام کے ساتھ لاوارثوں جیسا سلوک رکھا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے اس شہر پر مہنگائی اور ٹیکس کی بھرمار ہے اور حقوق کا کچھ پتہ نہیں۔