Monday, August 2, 2021
- Advertisment -

مقبول ترین

وفاقی حکومت نے ملک بھر میں مارکیٹیں کھولنے کا اعلان کردیا

وفاقی حکومت نے کل بروز منگل سے ملک بھر میں کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے پریس کانفرنس...

فواد چوہدری کا 100 فیصد ویکسی نیشن والی صنعتیں کھولنے کا مطالبہ

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جن صنعتوں میں 100 فیصد ویکسی نیشن ہوگئی ہے انھیں فوری...

لاک ڈاؤن میں نرمی، ڈبل سواری پر عائد پابندی بھی ختم

سندھ حکومت نے کراچی میں نافذ لاک ڈاؤن میں نرمی کردی جس کا نیا ترمیم شدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ...

اعظم خان سر پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے

قومی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈربیٹسمین اعظم خان سر پر گیند لگنے سے زخمی ہوگئے، تفصیلات کے مطابق اعظم خان گیانا میں ٹریننگ سیشن...

ٹک ٹوک کا جنون (ثوبیہ اجمل)

آج کل سوشل میڈیا کے دور میں بہت ساری ایپس کا استعمال روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ہم ان ایپس سے بہت سا نالج بھی حاصل کر سکتے ہیں اور ان کا مثبت استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ مگر زیادہ تر لوگ اس پر اپنا وقت ہی برباد کرتے ہیں۔ ایسی کم ہی چیزیں شیئر کرتے ہیں جن سے ہمیں کوئی دینی یا دنیاوی معلومات مل سکے۔

یوں تو بہت ساری ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن بہت ہی کم عرصے میں جو ایپ سب سے مقبول ہوئی وہ ٹک ٹاک ہے۔ویسے تو میں ٹک ٹاک کے خلاف نہیں ہوں مگر جس طرح سے اس کااستعمال کیا جارہا یے وہ بہت ہی غلط ہے۔ کچھ لوگ لائیکس اور فالورز بڑھانے کے چکر میں حد سے ہی گزر جاتے ہیں اور ایسی نازیبا وڈیوز بناتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر بحیثیت مسلمان شرم محسوس ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بیس سیکنڈز کی وڈیو میں کوئی معلوماتی بات ہوتی مگر اس کے برعکس جھوٹ اور بے حیاءکو ہی فروغ دیا جا رہا ہے۔

کچھ لوگ منفرد وڈیوز بنانے کے چکر میں اپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہیں۔ ناچ گانا اور بے شرمی کا ایک طوفان ہے جو ہمیں ٹک ٹاک پر نظر آتا ہے۔ ٹک ٹاک کے ذریعے لوگ کوئی اپنا ٹیلنٹ بھی دیکھا سکتے تھے۔ لوگ بھی ان بے ہودہ وڈیوز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اوران کے فالورز کی تعداد برھتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی اچھی پوسٹ کرے تواس کے لائکس اور فالورز چند گنتی کے ہی ہوتے ہیں۔

ٹک ٹاک پر ہمیں کم ہی کوئی مثبت بات سننے کو ملتی ہے جبکہ بڑی بڑی آنٹیاں بے سروپا باتیں کرتی ضرور نظر آتی ہیں جن کی باتیں شاید گھر والے بھی سننا پسندنہ کرتے ہوں۔ ہماری خواتین جن کے لیے اسلام نے پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے آج بن سنور کر اور تنگ لباس پہن کر فحاشی اور بے حیاءکا سامان بنی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں ماں باپ کا اہم کردار ہے کے وہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں کہ وہ کیا کر رہیں۔ ہماری نوجوانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں اس کو نسل در نسل بھگتی رہیں گی۔