Friday, April 23, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی

دسویں سحری 4:43 افطار 6:58 پر ہوگی، رمضان المبارک برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ ہے اس میں تمام بھائی سحری و افطار کے دسترخوان...

گلشن اقبال، تراویح کے بعد گھرجانےوالےنمازیوں سے لوٹ مار

 رمضان المبارک میں شیطان قید جبکہ اسٹریٹ کرمنل آزاد ہوگئے، ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 4 میں نماز تراویح پڑھ کر گھرجانے والے...

کورونا کیسز میں اضافہ، وفاق کی صوبوں کو سخت پابندیوں کی تجویز

کورونا کیسز میں خطرناک حد تک اضافے کے بعد وفاقی حکومت نے سخت پابندیوں پر مبنی دو مرحلوں کا شیڈول صوبائی حکومتوں کو بھیج...

عمران خان اورترین کی ملاقات بدترین این آر او ہے، ناصر شاہ

 این آر او، این آر او کی رٹ لگانے والے وزیراعظم اب جہانگیر ترین کو این آر او دینے والے ہیں، سماجی رابطے کی...

ٹک ٹوک کا جنون (ثوبیہ اجمل)

آج کل سوشل میڈیا کے دور میں بہت ساری ایپس کا استعمال روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ہم ان ایپس سے بہت سا نالج بھی حاصل کر سکتے ہیں اور ان کا مثبت استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ مگر زیادہ تر لوگ اس پر اپنا وقت ہی برباد کرتے ہیں۔ ایسی کم ہی چیزیں شیئر کرتے ہیں جن سے ہمیں کوئی دینی یا دنیاوی معلومات مل سکے۔

یوں تو بہت ساری ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن بہت ہی کم عرصے میں جو ایپ سب سے مقبول ہوئی وہ ٹک ٹاک ہے۔ویسے تو میں ٹک ٹاک کے خلاف نہیں ہوں مگر جس طرح سے اس کااستعمال کیا جارہا یے وہ بہت ہی غلط ہے۔ کچھ لوگ لائیکس اور فالورز بڑھانے کے چکر میں حد سے ہی گزر جاتے ہیں اور ایسی نازیبا وڈیوز بناتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر بحیثیت مسلمان شرم محسوس ہوتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بیس سیکنڈز کی وڈیو میں کوئی معلوماتی بات ہوتی مگر اس کے برعکس جھوٹ اور بے حیاءکو ہی فروغ دیا جا رہا ہے۔

کچھ لوگ منفرد وڈیوز بنانے کے چکر میں اپنی جان تک گنوا بیٹھتے ہیں۔ ناچ گانا اور بے شرمی کا ایک طوفان ہے جو ہمیں ٹک ٹاک پر نظر آتا ہے۔ ٹک ٹاک کے ذریعے لوگ کوئی اپنا ٹیلنٹ بھی دیکھا سکتے تھے۔ لوگ بھی ان بے ہودہ وڈیوز کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اوران کے فالورز کی تعداد برھتی چلی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی اچھی پوسٹ کرے تواس کے لائکس اور فالورز چند گنتی کے ہی ہوتے ہیں۔

ٹک ٹاک پر ہمیں کم ہی کوئی مثبت بات سننے کو ملتی ہے جبکہ بڑی بڑی آنٹیاں بے سروپا باتیں کرتی ضرور نظر آتی ہیں جن کی باتیں شاید گھر والے بھی سننا پسندنہ کرتے ہوں۔ ہماری خواتین جن کے لیے اسلام نے پردے میں رہنے کا حکم دیا ہے آج بن سنور کر اور تنگ لباس پہن کر فحاشی اور بے حیاءکا سامان بنی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں ماں باپ کا اہم کردار ہے کے وہ اپنی اولاد پر نظر رکھیں کہ وہ کیا کر رہیں۔ ہماری نوجوانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں اس کو نسل در نسل بھگتی رہیں گی۔