دیکھ کعبے میں شکست رشتہ تسبیح شیخ (محمد سمیع)

islamشاعر نے تو کہا تھا کہ ”دیکھ کعبے میں شکست رشتہ  تسبیح شیخ اور مندر میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ“۔ ویسے میرا ذاتی خیال یہ ہے جس سے اختلاف ممکن ہے کہ شاعر کو اس شعر میں کعبے کی جگہ مسجد استعمال کرنا چاہئے تھا کیونکہ کعبہ ہمارے لئے ایک مقدس ہی نہیں قابل احترام مقام ہے جس کو دیکھنا بھی باعث ثواب ہے۔ ویسے غالب نے تو کہا تھا کہ ”کعبے کو اہل نظر قبلہ نما کہتے ہیں“۔ آج کل مسجد وں کی شناخت مکتبہ فکر کے حوالے سے ہورہی ہے کہ یہ دیوبندیوں کی مسجد اور یہ بریلویوں کی مسجد علیٰ ہذالقیاس۔ منبروں سے دین کی تبلیغ کی بجائے اپنے اپنے مسلکوں اور مکاتب فکر کی تبلیغ ہورہی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلام جیسے پرامن دین سے وابستہ لوگوں میں نفرتوں کو عروج ملا ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دین بیزار طبقے کو انتہا پسندی کا طعنہ دینے کا موقع بھی فراہم ہوا ہے۔ کعبے میں تو ہر نمازی اپنے اپنے طریقوں پر عبادت کرنے میں آزاد ہے ۔کوئی کسی پر تنقید نہیں کرتا مگر اس گنہگار نے نہ صرف یہ کہ ایک مسجد کے پیش امام کو مقتدی کو آمین بالجہر کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے سناہے کہ وہ کہہ رہے تھے کہ جناب یہ فلا ں مسلک کی مسجد ہے لہٰذا یہاں انہیں زور سے آمین نہیں کہنا چاہئے تھا ۔ایک موقع پر تو نماز کے دوران مسجد کے اندرونی حصے میں پیچھے سے تلاوت کی آواز سنی ۔بعد میں پتہ چلا کہ پیچھے ایک اور جماعت ہورہی تھی۔مسجدوں پر قبضوں کے واقعات کے نتیجے میں کیا فساد برپا ہوتا ہے اس کی خبریں تو آپ کواخبارات کے ذریعے ملتی ہی رہتی ہیں خیر یہ باتیں تو ضمناً آگئیں ہیں۔


 میں نے اس تحریر میں اس مصرعے کوجو موضوع بنایا ہے اس کا سبب جاننے کے لئے آپ کو ”اسلامی“ جمہوریہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں لے چلتا ہوں۔اس اجلاس میں پاکستان کو مدینے کے طرز کی ریاست بنانے کا عزم رکھنے والی جماعت کے اقلیتی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا ۔ان کی طرف سے دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ شراب پینے کی کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اس کے باوجود اقلیتوں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ان کا یہ کہنا بجا محسوس ہوتا ہے کہ شراب پینے والوں کی اکثریت مسلمان ہے کیونکہ پارلیمنٹ لاجز میں کئی مواقع پر شراب کی بوتلیں برآمد ہوئی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اگر کسی بھی مذہب کے نام پر شراب کا کاروبار پاکستان میں ہوتا ہے تو یہ سراسر غلط اور زیادتی ہے ۔ایک حیرت انگیز انکشاف انہوں نے یہ کیا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں بھی شراب کی خرید و فروخت جاری رہتی ہے۔یہ انتہائی شرم ناک بات ہوئی کہ اجلاس میں موجود ارکان کی اکثریت نے اس بل کو مسترد کردیا ۔واضح رہے کہ ارکان اسمبلی کی اکثریت مسلمانو ںپر مشتمل ہے۔اس صورتحال پر اس شعر کے طرز پر کہ گر ہمی مکتب و ہمی ملا کار طفلاں تمام خواہد شد اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ گر ہمی ایواں و ہمی وزرا عزم عمراں تمام خواہد شد۔
اصل بات یہ ہے کہ بلاامتیاز مذہب و ملت پارلیمنٹ کے ارکان اپنے آپ کو ایک برادری سمجھتے ہیں ۔آپ کو یاد ہوگا کہ ایک موقع پر کسی رکن اسمبلی کا اس لئے چالان ہوا تھا کہ اس کی گاڑی میں سیاہ شیشے لگے ہوئے تھے ۔اس پر پارلیمنٹ میں ایک تحریک استحقاق پیش ہوئی تھی کہ اس طرح ان کا استحقا ق مجروح ہوا ۔جس تحریک کی حمایت جملہ ارکان اسمبلی نے کی تھی اور ان حمایت کرنے والوں میں وہ ارکان اسمبلی بھی شامل تھے جو اسلامی نظام ملک میں نافذ کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نہ مغرب کے جمہوری نظام کو سو فیصد اختیار کرسکتے ہیں اور نہ اتنی جراءت رکھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست سے اسلام کو ملک بدر کردیں۔ہم قیام پاکستان سے اب تک مغرب کے جمہوری نظام کو مسلمان کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ہم نے قرارداد مقاصد کو منظور کرکے اللہ کے حاکم اعلیٰ ہونے کا اقرار بھی کرلیا اور اس شق کوبھی شامل کرلیا کہ ملک میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی لیکن عملی طور پر اس کے برعکس اقدامات کرتے چلے آرہے ہیں اور اس طرح اپنے دستور میں شامل دفعات اور ان کی شقوں کی مسلسل خلاف ورزی میں مصروف ہیں ۔شراب پر پابندی کا مطالبہ رد کرکے ہم یہ ثابت کررہے ہیں کہ ہم شریعت کے قانون کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔میں کہا کرتا ہوں کہ موجودہ نظام میں اسلامی شقیں شامل کرنا اس کے مترادف ہے کہ ٹاٹ پر مخملی پیوند لگاکر ہم یہ سمجھیں کہ ٹاٹ مخمل میں تبدیل ہوجائے گا تو اسے سوائے حماقت کے اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ پنج پیر کے مولانا طیب صاحب نے فرمایا تھا کہ جمہوری نظام کے ذریعہ اسلام کے نفاذ کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کیکڑ کے درخت سے انگور اگنے کی توقع رکھی جائے۔ڈاکٹر اسرار احمد ؒ یہ سمجھاتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ انتخابی سیاست کے ذریعے یہاں اسلام نافذ نہیں ہوسکتا لیکن ہمارے سیاسی بالخصوص مذہبی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنی خو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ایسے میں ایسے ہی واقعات ہوتے رہیں گے جن میں سے ایک کا ذکر سطور بالا میں آچکا ہے۔
منافقت ہمارا قومی کردار بن چکا ہے ۔ اب تو معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ چکا ہے۔ ہم اللہ سے بغاوت کے راستے پر چل پڑے ہیں۔ہم اس پر بضد ہیں کہ اس ملک میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی نہیں لگ سکتی۔پھر تو حاکمیت اللہ کی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ ہم اس ملک کو مدینے کی ریاست کے طرز پر بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔مدینے کے حاکم خلیفہ عمر فاروق ؓنے تو اپنے صاحبزادے پر شراب نوشی کے جرم پر حد جاری کردی تھی۔اور ہم۔۔۔۔؟ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر رمیش کمار نے یہ بل سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے کی تھی۔ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر قانون سازی سے کچھ نہیں ہوتا، جو پیتے ہیں وہ پیتے رہیں گے اور جو نہیں پیتے وہ اس بل کے پاس ہونے کے بعد بھی نہیں پئیں گے۔ یہ تو وفاقی شرعی عدالت کے اس جج والی بات ہوئی کہ جو سود نہیں لیتے وہ اچھا کرتے ہیں اور جو سود لیتے ہیں اللہ ان سے خود نمٹ لے گا۔اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین یا رب العالمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top