Sunday, October 25, 2020
Home کالم /فیچر شہدائے جموں اور ڈوگرا راج(پروفیسر حافظ محمد سعید)

شہدائے جموں اور ڈوگرا راج(پروفیسر حافظ محمد سعید)

hafiz-saeed_sb pic1947ءکے موقع پر ہندوستان کے وہ علاقے جہاں ہندو یا سکھ اکثریت میں تھے وہاں مسلمانوں کا بے دریغ قتل عام کیا گیا۔ ایسے ہی جموں میں بھی لاکھوں مسلمان بے رحمی و بے دردی سے شہید کئے گئے۔ بعض جگہ مسلمانوں نے ہندو اور سکھوں کا ڈٹ کر جم کر مقابلہ کیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ تاہم اکثر مقامات پر مسلمانوں کا قتل عام یک طرفہ تھا جس کی تیاری پہلے سے ہو چکی تھی البتہ جموں میں مسلمانوں کے قتل عام کا المیہ اور سانحہ سب سے الگ تھا۔ ہندوستان میں کانگریس بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے فارمولے اور مقولے پر عمل پیرا رہی لیکن جب جموں میں مسلمانوں کا قتل عام شروع ہوا تو ریاست کے مہاراجہ ہری سنگھ کی بغل میں بھی چھری تھی اور منہ میں بھی چھری تھی۔ ریاستوں اور مملکتوں میں جب فسادات ہوں تو حکمران اپنے ہم مذہبوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود ظاہری طور پر ہی سہی کچھ نہ کچھ غیر جانبداری کا تاثر ضرور قائم رکھتے ہیں۔ ہری سنگھ وہ حکمران تھا جس نے تمام رکھ رکھاﺅ اور ظاہری تکلفات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے قتل عام کی نہ صرف کھلم کھلا سرپرستی کی بلکہ کوٹ میرا تحصیل اکھنور میں خود اپنے ہاتھوں سے مسلمانوں پر گولی چلا کر قتل عام کا آغاز کیا۔ جموں میں مسلمانوں پر جو بیتی وہ المناک اور خون کے آنسو رلا دینے والا باب ہے۔ اس کی تفصیل جاننے سے پہلے مختصراً یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ڈوگرے کون تھے؟ وہ 80فیصد مسلمان آبادی والی ریاست کے حکمران کیسے بنے اور مسلمانوں کے ساتھ ان کے حد سے بڑھے ہوئے معاندانہ رویہ کی وجہ کیا تھی……..؟ان حقائق و معاملات کو سمجھنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کا جموںمیں مسلمانوں کے قتل عام سے گہرا تعلق ہے۔
ڈوگرا راج کا بانی گلاب سنگھ دو روپے ماہوار پر رنجیت سنگھ کی فوج میں بھرتی ہوا۔ یہ نہایت ہی سفاک اور دھوکے باز اور انتہا درجے کا خودغرض شخص تھا۔ اس کی بے رحمی کو دیکھتے ہوئے رنجیت سنگھ نے 1819ءمیں جموں جاگیر کا انتظام اس کے سپرد کر دیا۔ جب سکھوں اور انگریزوں کی باہم آویزش شروع ہوئی تو گلاب سنگھ درپردہ انگریزوں سے سازباز کر چکا تھا۔ سکھوں کو انگریزوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے بطور تاوان اپنے علاقے جن میں جموں کشمیر بھی شامل تھا انگریزوں کو پیش کر دیے۔ انگریزوں نے مارچ 1846ءمیں جموں کشمیر کا 84ہزار مربع میل کا علاقہ 75 لاکھ نانک شاہی (آج کے پچاس لاکھ کے برابر) کی معمولی رقم، چند بھیڑوں اور کمبلوں کے عوض گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ اس سودے بازی میں ریاست کی سرزمین 14پیسے فی ایکڑ اور باشندے سات روپے پچاس پیسے فی کس کے حساب سے فروخت ہوئے….، اس طرح 80 فیصد مسلمان آبادی والی ریاست میں ڈوگرا راج کی بنیاد پڑی۔ گلاب سنگھ کو چونکہ انگریزوں کی پشت پناہی حاصل تھی اس لئے اس نے اقتدار سنبھالتے ہی ریاست میں توسیع کی غرض سے قرب وجوار کی مسلمان جاگیروں مظفرآباد، راجوری، بھمبر، پونچھ اور دیگر علاقوں پر چڑھائی شروع کر دی۔ وہ جہاں فتح پاتا زندہ مسلمان راجوں کی کھالیں اتارنے کا حکم دیتا کھال اتارنے کا عمل پاﺅں سے شروع کیا جاتا اور کھال میں بھوسہ بھر کر اسے شاہراﺅں پر لٹکا دیا جاتا۔
ڈوگروں کا ریاست جموں کشمیر پر قبضے کا دورانیہ ایک سو سال پر محیط ہے اس عرصہ میں انہوں نے مسلمانوں پر جو مظالم روا رکھے زبان انہیں بیان کرنے اور قلم احاطہ تحریر میں لانے سے قاصر ہے۔ ڈوگرے مذہباً ہندو تھے، نسلی برتری کا شکار اور ذات پات کی تفریق کے سختی سے قائل تھے یہی وجہ تھی کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ان کا رویہ حاکم اور رعایا والا نہیں بلکہ ہندو اور مسلمان والا تھا۔
India_Kashmir_Martyrs_Day_Dاسلام اور مسلمان دشمن سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز جموں تھا اس لئے کہ یہ گلاب سنگھ کا جائے پیدائش اور ڈوگرا راج کی سیاسی و انتظامی طاقت کا مرکز تھا۔ لیکن جس طرح فرعون کے گھر موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ایسے ہی ڈوگرا دور میں اسلام کے تحفظ کی پہلی موثر آواز جموں سے ہی اٹھی۔ 29اپریل 1931ءکو جموں میں خطبہ عیدالاضحیٰ کی بندش، جموں پولیس لائنز میں ایک ہندو کانسٹیبل کے ہاتھوں توہین قرآن کے واقعات نے جموں کے مسلمانوں کے ایمان کو گرما اور تڑپا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد 13جولائی 1931ءکو سری نگر میں اذان مکمل کرتے 22کشمیری مسلمانوں کی مظلومانہ شہادت…. ایک سال میں یکے بعد دیگرے رونما ہونے والے یہ تین واقعات تحریک آزادی کشمیر کا نقطہ آغاز ثابت ہوئے۔ آزادی کی یہ تحریک سری نگر کی جامع مسجد کے مقدس ماحول اور منبر ومحراب میں پلی، بڑھی اور جوان ہوئی۔ گو کہ اس تحریک کی منزل…….. ڈوگرا استبداد سے آزادی تھی مگر اس کی بنیاد …….. کلمہ طیبہ پر تھی۔ جب قیام پاکستان کے قیام کی تحریک چلی تو اس کی بنیاد بھی کلمہ طیبہ پر تھی اس لئے دونوں تحریکوں کا یکجا ہونا فطری امر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہندوستان کے طول و عرض میں پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ گونجا تو اہل کشمیر نے بلاتامل اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر لیا۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الااللہ کا نعرہ نہ لگتا تو جموں اور کشمیر کے مسلمان اپنا مستقبل کبھی بھی پاکستان سے وابستہ نہ کرتے۔ اسی طرح اگر اہل کشمیر کے مسائل و معاملات اور مطالبات سماجی، انتظامی یا ذاتی نوعیت کے ہوتے توجموں کے مسلمانوں کو خون کے دریا سے نہ گزرنا پڑتا لیکن چونکہ وہ اپنا مستقبل پاکستان سے وابستہ کر چکے تھے اس لئے مہاراجہ ہری سنگھ، کانگریس اور انگریز کی طرف سے ان کو بہت ہی بھیانک اور المناک سزا دی گئی۔ بڑے منظم طریقے سے ان کے قتل عام کی منصوبہ بندی کی گئی۔ مہاراجہ کی 13بٹالین فوج میں ایک بٹالین مسلمانوں کی تھی اسے غیر مسلح کر دیا گیا۔ مسلمان پولیس افسروں اور سپاہیوں کو برطرف کر دیا گیا۔ جموں میں جن مسلمانوں کے پاس اسلحہ تھا وہ بحق سرکار ضبط کر لیا گیا۔
جموں میں قتل عام کے منصوبے کی نگرانی جموں کے گورنر چیت رام چوپڑا اور ہری سنگھ کی بیوی تارا دیوی نے خود کی۔ ریاست کا وزیراعظم مہر چند مہاجن بھی پیش پیش تھا۔ مہاجن نے آنکھوں میں آنسو بھرتے اور چہرے پر بظاہر دوستانہ مسکراہٹ سجاتے ہوئے جموں کے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اپنی جان ومال اور عزتوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔مہاجن نے یہ بھی کہا کہ آپ سب کے پاکستان جانے کا انتظام سرکاری سطح پر کیا جائے گا۔ چنانچہ جموں کے مسلمانوں کا قافلہ تقریباً 60بسوں میں پاکستان جانے کیلئے تیار ہو گیا۔ جب یہ قافلہ سانبہ سے چند میل کے فاصلے پر مہوا کے قریب پہنچا تو وہاں ڈوگرافوجی پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے پہلے اہل قافلہ سے نقدی اور قیمتی اشیاءچھینیں، پھر اندھا دھند قتل عام شروع کر دیا اس کے بعد نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر لیا گیا۔ اہل قافلہ میں سے بمشکل چند افراد ہی جانیں بچا کر بھاگ سکے تھے۔ ٹائمز آف لندن کے مطابق صرف جموں کے ڈھائی لاکھ مسلمان شہید کر دیئے گئے اور 5 لاکھ سے زائد افراد پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ میں نے ایک رات میں 24مسلمان دیہات کو شعلوں میں جلتے دیکھا۔ 123دیہات کو ملیا میٹ کر دیا گیا۔ ایسے بھی گاﺅں تھے جن کے تمام مردوں، بچوں اور بوڑھوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا۔
یہ ہے جموں کے مسلمانوں پر گزرنے والی قیامت صغریٰ کا مختصر تذکرہ لیکن اب یہ سب کچھ کس کو یاد ہے….؟ کون جانتا ہے کہ جموں کے مسلمانوں کی پاکستان سے محبت…….. کیسی آزمائش بن گئی اور ان کو اس آزمائش و محبت کی کتنی قیمت ادا کرنا پڑی….؟ مگر آفرین ہے ان اہل وفا پر کہ جان، مال، عزت، آبرو، عزیزواقارب، گھربار، کاروبار …. سب کچھ قربان کر کے بھی وہ پاکستان کے ساتھ محبت و تعلق میں ثابت قدم رہے۔ جموں کے مسلمانوں نے اپنا فرض پورا کر دیا اس کے بعد ضروری تھا کہ ہمارے حکمران اپنا فرض پورا کرتے، بھارت کے ساتھ تعلقات، معاملات، مذاکرات، روابط اور تجارت میں مسئلہ کشمیر سر فہرست رکھتے۔ UNکی قراردادوں پر عملدرآمد کی سنجیدہ و موثر اور نتیجہ خیز کوششیں کرتے۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل و مصائب کو اپنے مسائل سمجھتے۔ ان کی قربانیوں، محبتوں، شجاعتوں اور شہادتوں کی قدر کرتے۔ کشمیر کی آزادی کیلئے اسی طرح جان توڑ جدوجہد کرتے جس طرح اہل کشمیر نے قیام پاکستان کے لئے کی تھی۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ہمارے مسائل کی اصل وجہ جہاد سے اعراض اور مسئلہ کشمیر کے حل سے انحراف ہے۔ ہم کشمیری قوم سے کئے ہوئے اپنے قول، قرار اور عہد کو بھول گئے۔ 5لاکھ کشمیری شہدا کا خون ہم پر قرض ہے۔ اس قرض کو لوٹانا ہمارا فرض ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو شہ رگ پاکستان کہہ کر اس کی اہمیت و افادیت واضح کر دی تھی۔ اس کے بعد بانی پاکستان کی زندگی نے وفا نہ کی تو ہمارے حکمرانوں نے کشمیر سے وفا کرنا چھوڑ دی۔ اگر ہمارے حکمرانوں نے کشمیر کی حیثیت کو جانا ہوتا …. اس کی آزادی کو اپنی آزادی سمجھا جاتا تو کشمیر کب کا آزاد ہو چکا ہوتا۔ آج شہدا جموں کی قربانیوں میں ہمارے لئے یہ پیغام ہے کہ پاکستانی قوم کی تشکیل، تکمیل اور تعمیر کا راز قربانی اور جہاد میں مضمر ہے۔ اگر ہم اپنی آزادی و خودمختاری کو برقرار رکھنا، ملک کے دفاع کو مضبوط و مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں جہاد و استقامت کا راستہ اختیار کرنا ہو گا اور کشمیر کی آزادی کو اولین ترجیح دینا ہو گی۔
www.twitter.com/HafizSaeedJUD

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...