Monday, October 26, 2020
Home کالم /فیچر کرچی کرچی، کراچی (غازی صلاح الدین)

کرچی کرچی، کراچی (غازی صلاح الدین)

karachiگزشتہ چند ہفتوں سے کراچی کے باشعور شہریوں کواس بے چین شہر سے اپنا رشتہ قائم کرنے اور اس کے بارے میں سوچنے کے مواقع ملتے رہے ہیں ۔ یہ وہ شہری ہیںجن کی تعریف میں شاعر کے لفظوں میں یوں کرونگا کہ ’’ جنہیں حسن سے بھی لگائو ہے ، جنہیں زندگی بھی عزیز ہے ۔ ‘‘ فروری کے آغاز میں کراچی کے ادبی میلے نے دھوم مچائی ۔ اس کے بعد آرٹس کونسل میں نوجوانوں کا اور بچوں کا ادبی میلہ سجایا گیا ۔ ناپا میں کل پاکستان میوزک کانفرنس منعقد ہوئی ۔ اتوار کو ، عورتوں کے عالمی دن کی مطابقت سے شیما کرمانی کی تحریک نسواں نے طلسم میلے کی ایک ہفتہ کی تقریبات کا آغاز کیا ۔ ناپا میں بین الاقوامی تھیٹر فیسٹیول جاری ہے ۔ اسی عرصے میں پھولوں کی نمائشوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے کچھ وقت گزارا ۔ شہر کی معاشرتی زندگی کے بحال ہونے کے آثار دکھائی دئیے ۔ ان سرگرمیوں میں ’’ میں کراچی‘‘ یعنی ’’ آئی ایم کراچی ‘‘ تحریک نے نمایاں کردار ادا کیا ۔ میں اس کراچی کنسورشیمص کا ممبر ہوں جوسول سوسائٹی کی ایک ایسی تنظیم ہے جو کراچی میں امن اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے قائم کی گئی ہے ۔ آج کے کالم کے لئے یہ ایک اہم موضوع اس لئے بھی ہے کہ جمعرات کی صبح کراچی کنسور شیم کے ممبران نے کمشنر کراچی سے ایک باضابطہ ملاقات کی جس میں سول سوسائٹی اور شہر کی انتظامیہ کے درمیان تعاون کے کئی پہلوئوں پر غور کیاگیا ۔ ایک فیصلہ یہ ہوا کہ12اپریل کے دن ’ میں کراچی‘ کاجشن منایا جائے گا ۔ اس اجلاس میں کراچی کنسور شیم کے سرکردہ ممبران اور ڈپٹی کمشنر حضرات کے علاوہ انتظامیہ کے دوسرے ارکان بھی موجود تھے ۔
اب یہ دیکھئے کہ میں توان مصروفیات کواپنی آج کی تحریر میںسمیٹنے کی کوشش کرنا چاہتا تھا کہ بدھ کی صبح کراچی کا منظر نامہ ایک اور جہت میں بدلتا دکھائی دیا ۔ آپ سمجھ گئے ۔ میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کا ذکر کررہا ہوں ۔یہ ایک ایسی ڈرامائی کارروائی تھی کہ جس کی شاید کسی کو توقع نہ ہو ۔ جیسے ہی اس چھاپے کی خبریں صبح سویرے ٹیلی وژن پر آنا شروع ہوئیں ، پورے شہر پر خوف اور بے یقینی کی فضا طاری ہوگئی ۔ کراچی کے شہری اس کیفیت کے عادی ہوچکے ہیں ۔ ایک پوری نسل اسی ماحول میں پروان چڑھی ہے ۔ جو کچھ ہم نے بدھ کے دن شہر کے بند ہوجانے کے سبب برداشت کیا اس سے کہیں زیادہ وحشت ناک دن کراچی کے حافظے میں موجود ہیں۔ جمعرات کوبھی شہر پوری طرح کھل نہ سکا ۔ نائن زیرو پر چھاپے کی خبریں ، بیانات اور بدلتے ہوئے بیانات اس شہر کی دکھ بھری اور خون آلود داستان میں اگر کسی اہم موڑ کا اشارہ ہیں تواس کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا ۔ ہاں ، جو کچھ ہورہا ہے اس کی اہمیت واضح ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شہر بدل رہا ہے ۔ نئے خطرات اور نئے امکانات بھی پیدا ہورہے ہیں ۔ یوں بھی پورے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک مہم جاری ہے ۔ موت کی سزائوں پر عمل شروع ہوچکا ہے ۔ فوجی عدالتیں لگنے والی ہیں ۔ عسکری قیادت کے فیصلے اپنا اثر دکھا رہے ہیں ۔
اس سارے پس منظر میں نائن زیرو پر چھاپے کا معاملہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس کا زیادہ تعلق کراچی سے ہے گو ملک کی سیاست پر بھی اس کا سایہ پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ لیکن میں اس سیاسی دھماکے سے زیادہ کراچی کے سماجی اور تہذیبی حالات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ سچ ہے کہ کراچی کے شہریوں کی زندگی کا سیاست سے ایک گہرا رشتہ ہے اور نائن زیرو پر چھاپے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب شہرکی معاشی، معاشرتی اور ثقافتی فضا کیسے بدلے گی ، بدلے گی یانہیں ۔ واقعات کے موجودہ تیز بہائو میں یہ فیصلہ کرنامشکل ہے کہ ابھی کیا کچھ ہونا باقی ہے ۔ جہاں تک کراچی میں امن کی جدوجہد کا سوال ہے تو یہ تو ایک ایسی جنگ ہے جو جاری رہے گی ۔ـ ’ میں کراچی ‘ کے آئینے میں دیکھیں توجس راستے پر ہمیں چلنا ہے وہ دکھائی دے رہا ہے ۔ اتوار کے دن ، طلسم میلے کی افتتاحی تقریب میں ایک کھیل پیش کیاگیا جس کانام تھا ، ـ’’کرچی کرچی کراچی‘‘ ۔ کہانی ہم سب جانتے ہیں ۔ ایک پرامن شہر کیسے دہشت اور بدامنی کاشکار ہوگیا ۔ اسے پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اور یہ جنگ بنیادی طورپر کلچر اور تخلیق کے محاذ پر لڑی جائے گی ۔ جب کراچی ادبی میلے کا آغاز ہوا تو میں نے کراچی کنسور شیم کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کراچی بلکہ پاکستان کا بحران اتنا سیاسی اور معاشی نہیں جتنا وہ تہذیبی اور اخلاقی ہے ۔ ہمیں سوچنے ، بات کرنے اور بے خوف ہوکر اپنی تقریبات کرنے کی آزادی چاہئے ۔ دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح کراچی بھی مادی اور انسانی وسائل کا خزانہ ہے ۔ وہ لوگ جو خواب دیکھتے ہیں اور اپنے آپ کو منوانا چاہتے ہیں وہ ایسے شہروں میں اپنی قسمت آزماتے ہیں ۔ کراچی زخم خوردہ ہے ۔ ٹوٹا پھوٹا ہے ۔ بیمار ہے ۔ لیکن اس کے امکانات وہی ہیں جو ہر بڑے شہر کے ہوتے ہیں کہ جہاں ہر شعبے میں کمالات دکھانے کی گنجائش موجود ہوتی ہے ۔ کراچی کی نسلی ، لسانی ، معاشی اور تہذیبی ست رنگی اس کی اصل قوت ہے کیونکہ یہاں مختلف ہونے کے باوجود مل جل کر رہنے کا وہ تجربہ کیا جاسکتا ہے جو موجودہ عہد کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے ۔ ایک بڑا شہر کیسے زندہ رہتا ہے اس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ایک اہم ضرورت وہ شہری سہولتیں ہیں جن کی طرف ہمارے حکمرانوں نے کوئی توجہ نہیں دی علامت کے طور پر میں یہ تصویر پیش کرتا ہوں کہ کیسے کراچی میں بسوں کی چھتوں پر لوگ جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں ۔ ایک اور بات میں نے کئی بار کہی ہے کہ ہم دراصل خوف کی سلطنت میں رہتے ہیں ۔ آپ کو یاد ہوتو ایک کالم میں میں نے اس کھیل کا ذکر کیا تھا کہ کسی دعوت یا محفل میں حاضرین سے یہ پوچھیں کہ کتنی بار کسی نے انہیں بندوق دکھا کر لوٹا ہے ۔ سب سے زیادہ بار لٹنے والے کو کوئی انعام دیا جائے ۔ ایک زمانہ تھا جب نیو یارک جیسے شہروں میں پر تشدد جرائم کاکافی چرچا ہوتا تھا ۔ اب حقیقت یہ ہے کہ کئی مغربی ملکوں میں جرائم کی کمی نے ماہرین کوبھی حیران کردیا ہے ۔ اس کی ایک وجہ سائنسی تفتیش کے معجزے ہیں ۔ بہرحال ، گزشتہ نیو یارک شہر میں پورے بارہ دن ایسے گزرے کہ شہر میں پورے بارہ دن ایسے گزرے کہ شہر میں قتل کی کوئی واردات نہیں ہوئی ۔ دہشت گردی کے اس زمانے میں بھی جب ہر جگہ سیکورٹی کا انتظام لازمی ہوگیا ہے مغربی ملکوں میں آزادی اور تحفظ کا وہ احساس موجود ہے جس کا ہم کراچی میں تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ ہاں ، عقل یہ کہتی ہے کہ ہم سب مل کر امن قائم کرسکتے ہیں یعنی جو خواب چکنا چورہورہے ہیں انہیں جوڑا جاسکتا ہے ۔ کرچی کرچی کراچی ، نے فیض کی یاد دلادی ۔
’’ ہم کہ ہیں کب سے درامید کے دریوزہ گر
یہ گھڑی گزری توپھر دست طلب پھیلائیں گے
کوچہ وبازار سے پھر چن کے ریزہ ریزہ خواب
ہم یونہی پہلے کی صورت جوڑنے لگ جائیں گے‘‘
بشکریہ : جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال ، خطرناک ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

کراچی، گلشن اقبال پولیس کی بڑی کارروائی، درجنوں وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔ پولیس کے مطابق ملزک صدیق پولیس کو اسٹریٹ، قتل...

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، اور ان کا حل

تحریر: مریم صدیقی وہ تھکی ہاری شام کے 4 بجے آفس سے نکلی، 4:30 بجے گھر میں...

ولیکا آتشزدگی، واٹر بورڈ نے ایمرجنسی نافذ کردی

کراچی ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سائٹ ٹاؤن ولیکا اسپتال کے قریب فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد سخی ھسن ہائیڈرنٹس پر...

کراچی سمیت سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ

کراچی ،سندھ میں پھرفصلوں پرٹڈی دل کےحملےکاخدشہ محمکہ زراعت سندھ نےٹڈی دل کےحملےکانیاالرٹ جاری کردیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام کا...