Tuesday, October 27, 2020
Home خاص خبریں صحت، تعلیم، فلاحی ادارے کرپشن اور بدعنوانی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، ڈاکٹر...

کرپشن اور بدعنوانی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، ڈاکٹر طاہر مسعود

afaqکراچی(عبدالولی خان) نوجوانوں کی تربیت میں والدین ،معاشرے اور اساتذہ کا بڑا کردار ہے ، ہمارا نظام تعلیم علم نہیں پیٹ کو فوکس کر تا ہے، ایسوسی ایشن فار اکیڈمک کوالٹی (آفاق ،AFAQ)کے زیر اہتمام فاران  کلب میں ’پاکستان کا نظام تعلیم اور مطلوب نوجوان‘کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مزید کہاکہ طریقہ امتحانات صلاحیت نہیں بلکہ حافظے کو جانچتا ہے ، تقریب کی صدارت محمدعلی جناح یونی ورسٹی (ماجو )کے صدر، کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور آئی بی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالوہاب نے کی ۔
شرکاءکے سامنے اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالوہاب نے کہاکہ ہمارے ملک میں کوئی نظام تعلیم ہی موجود نہیںاور نہ ہی کوئی یہ جانتا ہے کہ کرنا کیا چاہیے ، انگریزی معیار تعلیم کا ایک مقصد سمجھ آتا ہے کہ فرفر انگریزی بولی جائے ، انہوںنے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں اہم ذمہ داری یہ عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کو ایسے لیڈر دیں جن کو مسائل کا ادراک ہو اور صرف ان کا رونا رونے کی بجائے موجودہ وسائل میں ان کا حل بھی ڈھونڈ سکیں۔ انہوںنے کہاکہ تعلیمی ادارے کو معاشرے کے لئے رول ماڈل ہوا کرتے ہیں لیکن اگر ان اداروں ہی میں وہ برائیاں موجود ہوں جو کہ معاشرے میں ہیں تو طلباءان برائیوں پر مزید ڈٹ جائیں گے ۔ان کا کہنا تھا کہ یقینا معاشرے میں برائیاں بہت ہیں لیکن اگر آپ کسی بھی برائی کو ٹھیک کرنے کا بیڑا اٹھا لیں تو پھر دیکھیں کتنی بڑی تعداد میں لوگ آپ کے ساتھ آئیں گے ۔نوجوان ایسا ہو جس میں امید ہی اور حوصلہ بھی ہو لیکن یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مسائل کے حل کے لئے دماغ استعمال کرنا ہو گا ۔

اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تعلیم جامعہ اردو ڈاکٹر معروف بن رئوف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ نوجوانوں کا رشتہ تاریخ سے ٹوٹ چکا ہے وہ 10فلمی ہیرو کے نام تو جانتے ہیں لیکن اسلامی تاریخ کے 10سپہ سالار یا تحریک پاکستان میں موجود قائدین کے ناموں سے آشنا نہیں ۔ہمارے ملک میں پیشے کا چناﺅ کمائی کو مد نظر رکھ کر کیا جاتا ہے ، ملک میںا یک محتاط اندازے کے مطابق 20لاکھ اساتذہ موجود ہیں اگر ان کو ادراک ہو جائے کہ ملک کو کیسے نوجوانوںکی ضرورت ہے تو یقینی طور پر صورتحال میں بہتری آسکتی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ میری رائے کہ مطابق نوجوان کے پاس قوت فیصلہ ہو، وہ معاشرے سے مطابقت رکھتا ہو ، اچھا مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہو ، ان باتوں کو سامنے رکھ کر حکمت عملی تیار کی جائے تو مثبت صورتحال سامنے آ سکتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میں نہیں چاہتا کہ ہمارے نوجوان کولہو کے بیل ، کنوئیں کے مینڈک اور رٹو طوطے کہلائیں ۔

کراچی یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر مسعود نے کہاکہ کرپشن اور بدعنوانی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ، اب ہمیں یہ اصول طے کر لینا چاہیے کہ اگر کوئی سیکولر شخص بھی صاحب کردار ہو تو اس کو سراہا جائے اور وہ معاملات کے حوالے سے یقینی طور پر بے عمل مسلمان سے بہتر ہے ۔نبی کریم ﷺ نے 40برس تک دنیا کے سامنے اپنا کردار رکھا اور اس کے بعد اسلام کی دعوت دی ، انہوںنے کہاکہ اگر ہم زبان سے اسلام اسلام کرتے رہیں گے تو وہ اسلام دل سے نکل جائے گا ۔ موجودہ تعلیمی نظام سے طلباءپید اہی نہیں ہو رہے ، آج کے طلباءکا رشتہ کتابوں سے ٹوٹ چکا ہے ، انہوںنے حالات کی بہتری کی تجویز دیتے ہوئے کاکہ تربیت دینے والوں یعنی ماں باب اور اساتذہ کو ٹھیک کردیا جائے سب ٹھیک ہو جائے گا ۔
معروف اسلامی اسکالر اور دی علم فاﺅنڈیشن کے ڈائریکٹر شجاع الدین شیخ نے کہا کہ معاشرے میں موجود ہر فرد یا تو مسئلہ کی وجہ ہے یا اس مسئلے کا حل ، اب ہم یوں ہی کڑھتے رہیں یا تنقید کرتے رہیں تو کوئی فائدہ نہیں اب تو ہمیں اپنے حصے کا چراغ جلانا ہو گا اور تعین کر لیا جائے منزل کیا ہے اگر اس میں کامیاب ہو گئے تو کام آسان ہو جائے گا ۔انہوںنے مزید کہاکہ عملی تبدیلی لانے سے پہلے فکری تبدیلی لانا ہو گی ، انہوںنے کہاکہ اگر ہزاروں اساتذہ کو قرآنی تعلیم دے دی جائے تو اس کے ثمرات معاشرے پر انتہائی مثبت اندا ز میں مرتب ہوں گے اور الحمد اللہ یہ کام کر رہے ہیں ۔انہوںنے ایک مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ ملالہ پر ہونے والے حملے کے بعد اس سے اظہار یکجہتی کے لئے شمع جلانے والوں کو غزہ کے اسکولوں میں شہید ہونے والے 8سو سے زائد بچے کیوں نظر نہیں آرہے ۔

چیئرمین ایشین فورم طارق شاداب نے کہاکہ ہمارا نظام تعلیم مختلف نظاموں میں جکڑا ہوا ہے اور مدارس میں پڑھنے والے بچے ، گلی محلے میں کھلے اسکولوں کے بچے ، سرکاری اسکولوں کے بچے اور او اور اے لیولز اسکولوں کے بچوں میں بہت زیادہ فرق ہے اور یہ مسلسل بڑھتا چلا جا رہا ہے اس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔سابق چیئرمین شعبہ عربی کراچی یونیورسٹی اسحق منصوری نے کہاکہ ہمارا نظام تعلیم حصول علم برائے پیٹ ہے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو تمام علوم کی مہارت تک پہنچانا ہے ۔نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے یوتھ پارلیمنٹ کے سابق وزیر اعظم احسن عمر نے کہاکہ نوجوانوں کو آگے آنے کے مزید مواقع دیئے جائیں اور یہ کام ٹیکنالوجی نے بہت آسان کر دیا ہے ۔ریجنل ہیڈ آفاق کراچی ایسٹ اطہر پاشا نے کہاکہ ہمارے تعلیمی نظام سے جو بچے نکل کا سسٹم میں آتے ہیں ان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے وہ برائی کو برا ہی نہیں سمجھتے، یا عام الفاظ میں کہا جائے کہ وہ دیانت دار نہیں ہوتے اس سلسلے میں ہم بچوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت بھی کر رہے ہیں کہ جن طلباءکو پڑھائیں وہ ذمہ دار شہری بنیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن اقبال ، خطرناک ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

کراچی، گلشن اقبال پولیس کی بڑی کارروائی، درجنوں وارداتوں میں مطلوب ملزم گرفتار۔ پولیس کے مطابق ملزک صدیق پولیس کو اسٹریٹ، قتل...

ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل، اور ان کا حل

تحریر: مریم صدیقی وہ تھکی ہاری شام کے 4 بجے آفس سے نکلی، 4:30 بجے گھر میں...

ولیکا آتشزدگی، واٹر بورڈ نے ایمرجنسی نافذ کردی

کراچی ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے سائٹ ٹاؤن ولیکا اسپتال کے قریب فیکٹری میں آتشزدگی کے بعد سخی ھسن ہائیڈرنٹس پر...

کراچی سمیت سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں کا خطرہ

کراچی ،سندھ میں پھرفصلوں پرٹڈی دل کےحملےکاخدشہ محمکہ زراعت سندھ نےٹڈی دل کےحملےکانیاالرٹ جاری کردیا ۔ محکمہ زراعت کے حکام کا...