Friday, October 23, 2020
Home خاص خبریں مذہبی و سیاسی جماعتیں امریکی نظام انصاف چراغ تلے اندھیرا ہے ، جسٹس وجیہہ

امریکی نظام انصاف چراغ تلے اندھیرا ہے ، جسٹس وجیہہ

aafiaسپریم کورٹ آف پاکستان کے (ر) وجیہہ الدین احمد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ اور امرےکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ ناانصافیوں نے امرےکی نظام انصاف کی قلعی کھول دی ہے ، یہ صورتحال چراغ تلے اندھیرا کے مترادف ہے ۔ میرٹ ہوٹل کراچی میں عالمی یوم انسانی حقوق کے موقع پر عافیت ٹرسٹ، ہیومن رائٹس نیٹ ورک اورایسوسی ایشن فار بزنس اینڈ ایگریکلچرر کے تحت مشترکہ سیمینار سے انتخاب عالم سوری ، مسز شمیم کاظمی ، ڈاکٹر ابوبکر شیخ، بیریسٹر نسیم باجوہ ، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اور پاسبان پاکستان کے صدر الطاف شکور نے بھی خطاب کیا ۔ تفصیلات کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) وجہیہ الدین احمد نے کہا ہے کہ فتح مکہ ، خطبہ حجتہ الوداع ، حضور اکرم کی نجی و اجتماعی زندگی ، صحابہ کرام ، خلفائے راشدین اور دور اسلام کی شاندار تاریخ حقوق انسانی کی پاسداری سے بھری پڑی ہے مغرب نے انسانی حقوق اسلام ہی سے مستعار لئے ہیں امریکا
میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ اور سیاہ فاموں کے ساتھ جو کچھ ناانصافیاں اور قتل و غارت گری کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔ انہوں نے امرےکی نظام انصاف کی قلعی کھول دی ہے ۔ یہ صورتحال چراغ تلے اندھیرا کے مترادف ہے کہ امرےکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق ، اپنی جمہوریت اور دنیا کے واحد سپر پاور ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن وہاں نچلی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل پر انتہائی بھاری بھرکم اخراجات آتے ہیں کہ کوئی اپنا دفاع ہی نہ کرسکے ۔ امرےکہ کے قول و فعل میں گہرا تضاد ہے ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنے بچوں ، بوڑھی والدہ اور فیملی سے نہ تو ملنے کی اور نہ بات کرنے کی اجازت ہے ۔ عافیہ فیملی کی آٹھ ماہ کی کوششوں کے بعد پاکستان ایمبیسی سے عافیہ سے ملنے کے لئے جیل جانے والی نمائندہ خاتون کو 3گھنٹے بٹھا یا جاتا ہے اور پھر دیوار کی طرف چادر اوڑھ کر کھڑی ہوئی عورت کو عافیہ کہہ دیا جاتا ہے جس کی نہ شناخت کرائی جاتی ہے اور جو بات بھی نہیں کرسکتی ۔ کیا اس طرز عمل کو ہی انسانی حقوق کی پاسداری کہتے ہیں ؟ آج مغرب کا حال بھی مشرق اورتھرڈ ورلڈ سے مختلف نہیں ۔ ہمارے ملک میں اقلیتوں کا حال پڑوسی ملک بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ نہ مناسب سلوک سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ سال میں ایک دن انسانی حقوق کے نام پر جمع ہونے ، لفاظی اور فوٹوسیشن کے بعد گھروں میں جاسونے سے انسانی حقوق کی صورتحال جوں کی توں رہے گی ۔ بہت کم انسانی حقوق تنظیمیں فعال ہیں ورنہ زیادہ تر کا مقصد پیسہ بٹورنا اور مغرب کا آلہ کار بن کر رہ جانا ہے ۔ کاسہ گدائی پھیلانے کے بجائے اپنی جیبوں سے انسانیت کی خدمت کی جائے ۔ ملک میں جاگیر دارانہ کلچر نے تعلیم کو عام نہیں ہونے دیا ۔ انسانی حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی ناک کے نیچے موجودمسائل کو نہیں بھولنا چاہیئے ۔ پاکستان نیوی کے (ر) افتخار احمد سروہی نے اپنے پیغام جو شرکاءسیمینار کو پڑھ کر سنایا گیا میں کہا ہے کہ پاکستان کو 1979سے ایسی جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ جس میں ہماری مرضی شامل نہیں تھی ۔ پاکستان نے اس جنگ میں ان گنت قربانیاں دی ہیں ۔ ایماندار اور فرض شناس لوگوں کو اٹھنا ہوگا اورتباہی کی طرف جاتی ہوئی دنیا کی مدد کرنا ہوگی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

حقوق کراچی ریفرنڈم، اختتامی گنتی کا عمل شروع

کراچی، جماعت اسلامی کا حقوق کراچی ریفرنڈم اختتامی مراحل میں داخل، 16 اکتوبر سے شروع ہونے والا حقوق کراچی ریفرنڈم 21 اکتوبر...

12 ربیع الاول، عبدالحق قادری کی احتجاج ملتوی کرنے کی اپیل

کراچی ، شاہ عبدالحق قادری نے ماہ ربیع الاول میں سیاسی جماعتوں سے احتجاجی پروگرام ملتوی کرنے کی درخواست کردی،...

ایف بی ایریا ،45 سالہ شخص نے خودکشی کرلی

کراچی : ایف بی ایریا, بلاک 13, 45 سالہ محمد انور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ...

ٹریفک پولیس کا یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ

کراچی ، ٹریفک پولیس کا ٹریفک کی روانی کےلئے یوٹیوب چینل لانچ کرنے کا فیصلہ، ڈی آئی جی ٹریفک جاوید مہرکا کراچی...