آج دو قومی نظریے کی ضرورت و اہمیت (محمد نعیم)

1آج کچھ لوگوں کی زبانوں پر سوالات ہیں کہ پاکستان کیوں بنایا گیا تھا؟ پاکستان اور ہندوستان میں کیا فرق ہے؟ دونوں پڑوسی ملک پاکستان اور ہندوستان دوبارہ مل کر ایک کیوں نہیں ہو جاتے؟ جنگ اور دشمنی سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا! بانیانِ پاکستان تو ایک سیکولر ملک کے خواہش مند تھے۔ آزادی کے 69 برس بعد ایسے سوالات منظم منصوبہ بندی کے بعد پیدا کیے جا رہے ہیں۔ یہ محض سوالات ہی نہیں ایک منظم سازش کا جال ہے۔ ہندوستان غیر محسوس انداز میں پاکستان کی نئی نسلوں کے اذہان کو بدل رہا ہے تاکہ قیام پاکستان کے بنیادی مقصد سے روگردانی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ایسے سوال کا جواب تقسیم ہند کے وقت لکھی گئی تاریخ میں تلاش کیا جائے۔ مسلمانوں نے پاکستان بنانے کا مطالبہ ویسے ہی بیٹھے بٹھائے نہیں کر دیا تھا۔ قیام پاکستان کے عوامل میں تو تاریخ سوز حالات، واقعات اور مظالم کی ایک طویل فہرست ہے جو برصغیر کے 10کروڑ مسلمانوں نے 80 برس تک جھیلے۔ ان مظالم میں ہندو اور انگریز ایک دوسرے کے شانہ بشانہ تھے۔ ان کا مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا اور ہندوستان پر مکمل غلبہ حاصل کرنا تھا۔ 23 مارچ کا دن آج سے 76برس قبل لاہور میں منعقد ایک عظیم الشان اجتماع کی یاد دلاتا ہے۔ حالات کے ستائے مسلمان ایک جگہ جمع ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے لیے ایک پرامن خطہ حاصل کر سکیں، جہاں ان کی جان۔۔۔ مال۔۔۔ عزت و آبرو ۔۔ان کا دین و ایمان محفوظ رہے۔ یہ اجتماع بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ہوا۔ اس میں برصغیر کے 10 کروڑ مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ ملک بنانے کی قرارمنظور کی گئی۔ عزم و حوصلے کی یہ عبارت ”قراد داد پاکستان“ کہلاتی ہے۔ اس تاریخی مقام کی یاد گار مینارِ پاکستان کے طور پر آج بھی موجود ہے۔ قرار داد پاکستان کے بعد سات برس تک کی گئی جدوجہد مسلسل سے وطن عزیز وجود میں آیا۔ آج اسی دن کیے گئے عزم کی تجدید کی جاتی ہے۔ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر اتنی قربانیوں کے بعد حاصل کیے گئے پاکستان کو اب جو لوگ ایک سیکولر ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ان کے لیے بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح کا 8 مارچ 1944ءکا خطاب ہی کافی ہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے خطاب میں قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا:
”پاکستان اسی دن وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلے ہندو نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمہ توحید ہے نہ کہ وطن اور نسل“ کئی صدیاں گزرنے کے بعد اب بھی ہندوﺅں کی تنگ نظری ختم نہیں ہوئی۔ مسلمانوں سے تعصب، اسلام سے دشمنی، پاکستان سے نفرت آج بھی ہندوﺅں کے رگ و پے میں شامل ہے۔ یہی وجہ کہ ہندوﺅں نے آج تک پاکستان کو نہیں مانا۔ پاکستان کو برباد کرنے لیے بھارت نے ہر وہ قدم اٹھایا جو وہ اٹھا سکتا تھا۔ بھارتی جارحیت کے نتیجے میںرونما ہونے والے سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد سونیا گاندھی کے وہ الفاظ سب کو یاد رکھنے چاہیے کہ ہم نے دو قومی نظریے کو بحر ہند میں غرق کر دیا ہے۔ یہ صرف بیان نہیں تھا بلکہ دو قومی نظریے کو ختم کرنے لیے بھارت ہر محاذ پر سرگرم ہے۔ ثقافتی، معاشی، سماجی، معاشرتی، علمی، ادبی غرض کوئی ایسا محاذ نہیں بچا، جس پر وہ نظریہ پاکستان کو مٹانے کی کوشش میں مگن نہ ہو۔ پاکستانی معاشرہ بھارتی فلموں کے زیر اثر، تقسیم برصغیر کے وقت پاکستان کو ملنے والے علاقے بھارت کے قبضے میں۔ دریاﺅں کی تقسیم اور پانی کے معاملے میں پاکستان کی حق تلفی، سرحدوں پر اشتعال انگیزی، کشمیر میں مظالم کی انتہا، دنیا میں پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ، پاکستان کے اندر تخریب کاری میں ہندوستانی ایجنسیوں کی شرارتیں، صرف پاکستان کی حد تک نہیں بلکہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کی زندگی بھی اجیرن کر دی گئی ہے۔
5
کوئی بھی میدان ایسا نہیں جہاں پر بھارت پاکستان کو نقصان نہ پہنچا رہا ہو۔ ان حالات میں پوری قوم کو دو قومی نظریے کی اہمیت و افادیت بتا نا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر ”لا الہ الا اللہ“ کے نعرہ توحید کو لے کر ملک کے کونے کونے میں قیام پاکستان کے اصل مقصد کا پرچار کر رہے ہیں۔لیکن یہ دو چار لوگوں یا جماعتوں کے کرنے کا کام نہیں ۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے۔ نئی نسلیں جو قیام پاکستان کی جدوجہد سے لا علم ہیںان کے سامنے پاکستان کا مقصد و اہمیت بیان کرنا ضروری ہے۔ نصاب تعلیم، تعلیمی اداروں، میڈیا ہر جگہ اس بات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا۔ کیا وجہ ہے کہ آج تک چار صوبوں کا ایک چھوٹا سا ملک دنیا کو ہضم نہیں ہو رہا۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ اسی پر عمل پیرا رہنے سے قائم رہے گا۔ ہم پاکستان کی عمارت کو مضبوط رکھنے کے لیے جتنی اس کی بنیاد کی آبیاری کریں گے اتنی ہی یہ عمارت مضبوط ہو گی، ان شاءاللہ۔ آئیے آج کے دن اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی پرخلوص کوششوں کا عزم کریں۔
naeemtabssum@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top