متحدہ پاکستان کے امیدوار علی رضا عابدی کا خصوصی انٹرویو

ali raza 1انٹرویو: عارف رمضان جتوئی
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے الیکشن میں بھرپور انداز میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو لندن سے بائیکاٹ کی آوازیں بھی سنائی دینی لگیں پھر کچھ کارکنان نے لندن تو کچھ نے پاکستان والوں کا ساتھ دیا۔ متحدہ پاکستان میںدو گروپ بنے مگر بہت جلد ایک بھی ہوگئے اور پھر امیدوار الیکشن کی مہم کو لے کر میدان میں اتر پڑے۔ حلقہ 243 سے متحدہ نے علی رضا عابدی کو نامزد کیا۔ یہ حلقہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں سے پیپلز پارٹی کی امیدوار سیدہ شہلارضا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیسے مضبوط امیدوار کھڑے ہیں۔ اس کے علاوہ اس حلقے سے ایم ایم اے کے امیدوار اسامہ رضی اور پھر ملی مسلم لیگ امیدوار مزمل اقبال ہاشمی بھی بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔
ان تمام حالات میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا یہ تو 25جولائی کے بعد ہی پتا چل جائے گا البتہ ابھی اس حلقے میں ان کی مہم کیسی ہے ؟مہاجر قوم ان سے ناراض ہے یا خوش ؟کون متحدہ کو تنگ کر رہا ہے اور کس لیے کر کررہا ہے؟ کس متحدہ اتحاد کرنے والی ہے اور کس سے نہیں؟ یہ جاننے کے لیے کراچی اپ ڈیٹس کی ٹیم نے کیا علی رضا عابدی کا خصوصی انٹرویو، جو کہ قارئین کی نذر کیا جارہا ہے، پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے گا۔
ali razaسوال:۔ الیکشن مہم کیسی رہی کیا مسائل اور کیا امیدیں ہیں؟
علی رضا عابدی:۔ الحمد اللہ میں پہلے پانچ سال ایم این اے رہا ہوں این اے 241 سے جس میں لائینزیا، پی ای سی ایچ ایس،محمودہ آباد کے علاقے آتے ہیں، اور مجھے اب جو علاقے ملے ہیں جن میں گلشن اقبال، بہادر آباد، شرفہ آباد، گلستان جوہر وغیرہ کے علاقے آتے ہیں، اور مجھے جو ٹیم ملی ہے ایک بہترین ٹیم ہیں۔ ہم ڈور ٹو ڈور کیمپنگ کررہے ہیں، ہم ہینڈز بل، کمرشل ایریا میں، رہائشی ایریا میں بانٹا رہے ہیں، کارنر میٹنگ کررہے ہیں، ریلیاں نکل رہے ہیںاور الحمد اللہ بہت اچھا فیڈ بیک مل رہے ہیں۔ میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ جو الیکشن ہو رہے ہیں یہ بلدیاتی الیکشن نہیں ہے یہ قومی الیکشن ہے، تو آپ جو ایم پی ایس، ایم این ایس منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجیں گے، وہ ایسے ہوں جو آپ میں سے ہو آپ کے مسائل کو سمجھتے ہوں، آرٹیکل 148 کا احترام کرتے ہوں تو ہی انکے مسائل حل ہو سکیں گے۔
سوال:۔ ایم کیو ایم کے آپس کے جو اختلافات ہیں وہ ختم ہو چکے ہیں یا ابھی ہیں؟
علی رضا عابدی:۔ یہ خواہشات ہیں کچھ میڈیا کی، کچھ صحافیوں کی کہ وہ ایم کیو ایم میں اختلافات پیدا کرسکیں، لیکن جب فاروق بھائی بہادر آباد چلے گئے، میں بھی فاروق بھائی کے ساتھ کھڑا تھا، 5 فروری سے، ہم نے یہ سوچا، سمجھا اور سیکھا کہ اپنے آپس کے اختلافات میں ہمارا اور ہماری قوم کا نقصان ہے، اس لیے ہم نے اپنی انا اور مصلحت کو بالا طاق رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے مسائل کو سنے گے اور باہمی فیصلوں سے حل کریں گے، اور یہی ہورہا ہے، خالد مقبول بھائی نے مجھے ٹکٹ دیا ہے جو بہادر آباد میں تھے۔ کچھ پارٹیاں اور میڈیا والے جو نہیں چاہتے کہ ہم ایک ہوجائیں وہ آج بھی دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن الحمد اللہ ہمارے کارکن، ہمارے سپورٹر سب ایک ہیں، ہم ایک ہیں۔
سوال: یہ بات تو درست ہے کہ آپ کے ووٹر آپ سے ناراض ہیں؟
علی رضا عابدی: جی بالکل کافی حدتک یہ بات درست ہے کہ ہمارے لوگ ہم سے ناراض ہیں اور اس کی وجہ ہم خود ہیں۔ ہم سے بہت سی ایسی غلطیاں ہوئیں جن سے مہاجرقوم ہم سے ناراض ہے، مگر ایسا نہیں کہ اب بھی وہ ہم سے ناراض ہیں،میں خود علاقے میں جارہا تو مل رہا ہوں، ان کے گلے شکوے سن رہا ہوں۔ ایک بات جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمارے اپنے ہیں، ناراض ہوں گے، روٹھیں گے مگر پھر کہاں جائیں گے واپس ہمارے پاس ہی آئیں گے۔ تو ہم سے نہ یہ ناراض رہ سکتے ہیں اور نہ ہم ان سے الگ ہوسکتے ہیں۔
سوال:۔ اے این پی کے ساتھ آپ کے اتحاد کی خبریں درست ہیں؟
علی رضا عابدی:۔ اے این پی کے ساتھ ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہی، یہ غلط افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، لوکل لیول پر اگر کسی کی بات ہوئی ہے تو الگ بات ہے، متحدہ نے جے ڈی ای سے اتحاد نہیں کیا، یہ افواہ بھی اڑائی جارہی ہے کہ ہم نے شہباز شریف کے مقابل اب تک اپنا کوئی امیدوار نہیں دیا یہ بھی غلط ہے، شہباز شریف کے مقابل اسلم آفریدی کھڑے ہیں تو ہم اپنے سے کم کسی سے بھی کوئی اتحاد نہیں کریں گے، البتہ کہیں ایک دو سیٹوں پر بات ہوگئی تو الگ بات ہے۔ ایم کیو ایم الیکشن تک کسی سے اتحاد نہیں کرے گی، الیکشن کے بعد کا بعد میں دیکھا جائے گا۔
سوال:۔ آپ کے مدمقابل مضبوط پارٹیاں ہیں، کیا لگتا ہے جیتیں گے؟
علی رضا عابدی:۔ 2015ءمیں جو بلدیاتی الیکشن ہوئے تھے اس میں متحدہ ہی جیتی تھی، 2013ءمیں ایک ووٹ بینک پی ٹی آئی کا بنا تھا لیکن وہ 2015ءمیں ختم ہوگیا کیونکہ 2013ءمیں جیتنے کے بعد پی ٹی آئی نے علاقے کا رخ تک نہیں کیاتھا، اس لے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان صاحب جو بنی گالہ میں رہتے ہوئے اسمبلی نہیں جاسکتے تو وہ کراچی کیا آئیں گے، اور کیا ہمارے مسائل حل کریں گے، شہلا رضا جو کہ سندھ اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر رہی ہیں، انہوں نے ہمیشہ شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کی ہے، انہوں نے ہی سب سے زیادہ کراچی کی آواز کو دبایا ہے ان کے برعکس سراج درانی صاحب نے ہمارے مسائل کو سنا ہے اور حل کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ شہلا رضا کو آج خیال آیا ہے کہ وہ کراچی کی بیٹی ہیں۔ لوگ ان کو اچھی طرح جانتے ہیں اورہمارا ووٹ بینک بہت مضبوط ہے اور رہی بات پی ایس پی کی، تو جو لوگ اپنی پارٹی، اپنی قیادت کے نہیں ہوسکے وہ عوام کے کیسے ہوسکتے ہیں؟
سوال:۔ فاروق بھائی کہہ رہے ہیں ہمیں الیکشن مہم چلانے نہیں دی جارہی، کیا ایسا ہے؟
علی رضا عابدی:۔ درست کہہ رہے ہیں، اگر آپ دیکھیں تو سڑکوں پر آپ کو ایم کیو ایم کے جھنڈے، بینرز اور پتنگ اتنی تعداد میں نظر نہیں آئی گی، جتنی تعداد میں پی ٹی آئی، پی ایس پی، اور پی پی پی کے نظر آئیں گے۔ اس کی وجہ ہے ایڈمنسٹریشن ہے، متحدہ کا میٹریل لگا ہوا ہے اس کو اتار رہے ہیں اور دوسری پارٹیوں کا چھوڑ رہے ہیں اور یہ دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ متحدہ ختم ہوگئی ہے اور دوسری پارٹیوں نے اس کی جگہ لے لی ہے۔اس طریقے کار پر عمل کر رہے ہیں لیکن خدا کا کرنا اس طرح کہ جب بھی انہوں نے بینرز یا پوسٹر اتارے تو ہمارے کسی کارکن، کسی ہمدرد نے کہیں نا کہیں سے کھڑے ہو کر ان کی ویڈیو بنائی اور اپنے علاقوں، اپنے احباب میں فاروڈ کی جس سے لوگوں کو احساس ہو گیا کہ متحدہ کو پھر سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کا ری ایکشن آپ 25تاریخ کو دیکھیں گے کہ لوگ ہمارا ساتھ دینے کے لئے نکلیں گے۔

 

سوال:۔ کراچی اپ ڈیٹس کے قارئین کے لئے آپ کا پیغام؟
علی رضا عابدی:۔ کراچی اپ ڈیٹس کے جو ذمہ دار ، ورکرز، رپورٹر اور جو بھی کام کرنے والے ہیں ان کے لئے میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اللہ آپ کو کامیابی، کامرانی، حوصلہ و ہمت دے۔ آپ ایسی طرح کراچی کی آواز کو اٹھاتے رہیں اور ان شاءاللہ ہم مل کر کراچی کے مسائل احل کریں گے، اور عوام کو یہی کہوں گا کہ ووٹ آپ کا حق ہے اس کو ضرور استعمال کریں۔
آخر میں کراچی اپ ڈیٹس کا بہت شکریہ کہ انہوںنے مجھے عوام تک بات پہنچانے کے لیے موقع دیا۔ آپ اچھا کام کررہے ہیں، صحافت کے بہترین اصولوں میں سے یہ بھی ایک اصول ہے کہ سب کو بلامتیاز موقع دیں اور ان کی بات سنیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top