Monday, October 26, 2020
Home خاص خبریں مذہبی و سیاسی جماعتیں کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس

کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے، آل پارٹیز کانفرنس

 NNI1470JPG320x180کراچی، مذہبی، سیاسی اورسماجی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے ۔متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی عائد کی جائے پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل نہ کرئے ۔سندھ کی بدترین دہشت گردی کے مقدمات 12 مئی ،9 اپریل ،نشتر پارک ، سانحہ بولٹن مارکیٹ کارساز ،ملیر بس حادثہ ،عباس ٹاﺅن ،ٹمبر مارکیٹ کے سانحات کی جے آئی ٹی رپورٹس بھی فوری طور پر منظر عام پر لائی جائے ،یہ مطالبات قومی عوامی تحریک اور جمعیت علماء پاکستان کے زیر اہتمام ہفتہ کو بیت الر رضوان کلفٹن میں آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاءنے کیا ۔آل پارٹیز کانفرنس کی صدارت اور شاہ محمد اویس نورانی اور ایاز لطیف پلیجو نے کی۔ جس میں تمام سیاسی، مذہبی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے رہنما ﺅ ں نے شرکت کی۔ جس میں پی ایم ایل این سندھ کے صدر اسماعیل راہو ، پاکستان مسلم لیگ (ف)کی ایم پی اے نصرت سحر عباسی، ظفر علی شاہ، پی ٹی آئی کی مرکزی رہنماءناز بلوچ، پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر تاج حیدر، نجمی عالم، عوامی مسلم لیگ سندھ کے صدر محفوظ یار خان، سندھ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین اعجاز سامٹیو، عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید، یونس بونیری، جے یو پی سندھ جنرل سیکریٹری شفیق احمد قادری، پاکستان مسلم لیگ( ق)کے رہنماءحلیم عادل شیخ، کچھی رابطہ کمیٹی کے رہنما صالح کچھی، رائٹر دستگیر بھٹی، اداکار گلاب چانڈیو، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے مرکزی نائب صدر سکندر خان یوسفزئی، سنی اتحاد کاﺅنسل کے چئرمین طارق محبوب، بشپ نذیر عالم، سسی فاﺅنڈیشن کے رہنما حاجی عبدالستار بلوچ، لیاری بزرگ کمیٹی کے رہنماءمولانا عبدالمجید سربازی، مجلس وحدت المسلمین کے مر کزی رہنماءعلا مہ امین شہیدی، سابق وزیر اعلیٰ سندھ غوث علی شاہ، سابق ا سپیکر قو می اسمبلی الہی بخش سومرو، ایس این پی کے رہنماءامیر بھنبھرو، ایم پی اے حاجی شفیع احمد جاموٹ، غلام مصطفیٰ خاصخیلی، جمعیت اعلماءاسلام کے رہنماءاسلم غوری، ادیب شیرین زنﺅر، انیس ہارون، مہاجر قومی موومنٹ کے چیئرمین آفاق احمد، قومی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری انور سومرو، مظہر راہوجو، نور احمد کاتیار،سندھیانی تحریک کی مرکزی رہنماءشہربانو راہوجو، زینت سموں، منان شیخ، ارشد بلوچ، عنایت کھوسو، پرھ سومرو، شانی سومرو، جے یو پی کے مرکزی نائب صدر میاں عبدالباقی، علامہ شفیق احمد قادری، محمدمستقیم نورانی اور دیگر نے شرکت کی ۔جمعیت علماءاسلام سندھ کے رہنماءاسلم غوری نے کانفرنس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کا بائیکاٹ کیا ۔ شاہ اویس نورانی نے کہا کہ دہشت گردی کے پیش نظر فوجی عدالتیں وقت کی ضرورت ہیں ،دہشت گردی کے واقعات میں ایک سیاسی جماعت ملوث ہے جس پر پابندی عائد کی جائے ،قومی عوامی تحریک کے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ کراچی میں سب سے زیادہ قتل اردو بولنے والوں کا ہورہا ہے ،سیاسی جماعتیں ہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنارہی ہیں ،سندھ حکومت دہشت گردی کے خلاف سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں، افسوس ہے سیاسی جماعت نے سندھ میں مارشل لاءکا مطالبہ کیا ،ریاست اگر منظم ہو تو دہشت گردی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ۔عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر شاہی سید کا کہنا تھا کہ،کسی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کاروائی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہاکہ دہشت گرد داڑھی والا ہو یا بغیر داڑھی والا اسکا خاتمہ ضروری ہے ،کراچی کی ایک سیاسی جماعت اور طالبان کا پیر ایک ہی ہے ۔جماعت اسلامی کے رہنما معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں جو کچھ سامنے آیا اس سے کہیں زیادہ حقائق ابھی منفی ہیں ،عدالتوں سے مجرموں کو سنائی گئی پھانسی کی سزاپر عملدرآمد ہونا چاہیے ،سانحہ بلدیہ کے لواحقین کو انصاف نہ ملا تو صوبائی حکومت کے ساتھ وفاق بھی ذمہ دار ہوگی ۔اس موقع پر مسلم لیگ ن سندھ کے صدر سید غوث علی شاہ نے کہا کہ فوجی عدالتیں وقت کی پکار ہیں انھیں دو سال میں اپنا کام مکمل کرنا ہوگا،پارلیمنٹ میں رو کر فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دینے والا شخص کو کریڈٹ ملنا چاہیے ،مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ 21ویں آئینی ترمیم ہمارے آئین کا حصہ بن گئی ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتوں کے مفادات آج بھی دہشت گردوں کے ساتھ ہیں ،،فوجی عدالتوں اور آپریشن سے ماضی کے آمروں کے گناہ نہیں دھل سکتے ۔دیگر رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا خاتمہ دہشت گردی سے نہیں کیا جاسکتا،امن دشمن قوتوں کے ساتھ مزید نہیںچل سکتے ،ملک کو اندرونی دہشت گردی سے زیادہ خطرہ ہے۔رہنماﺅں نے کہا کہ یہ اے پی سی کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہے ۔ اے پی سی کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے اعتراض اٹھا یا کہ کسی بھی جماعت کانام قرارداد میں شامل نہ کیا جائے جبکہ جمعیت علماءاسلام سندھ کے رہنماءاسلم غوری نے کانفرنس کا بائیکاٹ کردیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

علی عمران کی گمشدگی، وزیراعظم کی ہدایت پر کمیٹی قائم

کراچی، وزیراعظم عمران خان نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران سید کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ فیکٹ...

قائد اعظم ٹرافی ، 24 اکتوبر سے شروع ہوگی

کراچی، 24 اکتوبر سے قائد اعظم ٹرافی کا میلہ سجے گا۔ پی سی بی ذرائع کے مطابق قائد اعظم ٹرافی کی...

سندھ حکومت علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کرے، فواد چوہدری

کراچی، وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جیو نیوز کے رپورٹر علی عمران کے لاپتہ ہونے کی تحقیقات کےلئے سندھ...

جلد آٹا کی قیمت نیچے آجائیگی، کمشنر کراچی

کراچی، شہر کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے بہت کام شروع ہوجائے گا، ان خیالات اظہار کمشنر کراچی سہیل راجپوت نے میڈیا...