اللہ کا ولی کیسے بنیں؟(مفتی عبداللطیف)

اللہ رب العزت اپنی لاduaریب کتاب میں ارشاد فرماتے ہیں، ”آگاہ رہو اللہ کے ولی کو کوئی خوف ہے اور نہ غم“۔ اولیاءاللہ وہ ہیں جو ایمان لے آتے ہیں اور تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ دنیا میں ہر وہ شخص جو اللہ کا ولی بننا چاہتا ہے وہ بن سکتا ہے، اس کے لیے کوئی مخصوص چلے کاٹے جائیں اور دنیا سے علیحدگی اختیار کی جائے، ایسا کچھ نہیں ہے۔ اللہ کی محبت حاصل کرنے کے لیے ایمان و تقویٰ ضروری ہے ۔ جب انسان ایمان میں پختہ ہوجاتا ہے تو اللہ کی طرف سے ضمانت ہے کہ ان پر آئندہ کی زندگی میں کوئی غم ہوگا اور نہ خوف ہوگا۔
صحابہ کرام نے ایمان و تقویٰ پر ہی محنت کی ہے اور اسے بڑھانے کی کوشش کی، تاکہ اللہ کے ولی بن سکیں۔ صحابہ ایمان سیکھتے تھے، مومن بننے کی کوشش کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو مومن بندے کی نشانیاں بتلاتے تھے۔ اگر ہم دنیا کے جھنجھٹ سے اور غم و خوف سے بچنا چاہتے ہیں تو تقویٰ اختیار کریں۔ اللہ ان دو چیزوں کی وجہ سے تمہیں دنیا میں ہر قسم کے پریشانیوں سے نجات دلائے گا اور غم ختم ہو جائیں گے۔ صحیح بخاری میں حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ”جس نے میرے ولی کے ساتھ دشمنی کی تو میں اس کے ساتھ اعلان جنگ کرتا ہوں“۔ ایمان لانے سے اللہ مالک المک کی مدد نازل ہوتی ہے، اللہ کی طرف سے بندے کا دفاع ہوتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اپنے بندے سے ولایت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مومن بن کر دکھاو، میں تمہارا دفاع کروں گا۔ مومن بن کے دکھاو، تمہاری مدد کروں گا۔ مومن بن کے دکھاو، تمہیں غلبہ دوں گا۔
جب انسان اللہ کے لیے تقویٰ اور ایمان اختیار کر لیتا ہے تو پھر دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں بھی اہل ایمان کو رسوا نہیں کر سکتیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ضمانت دی کہ قیامت آنے تک کوئی ان کی مخالفت کرکے دیکھ لے، ان مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ چھوٹی چھوٹی تکلیفیں تو آ سکتی ہیں، مگر بڑا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اپنے آپ کو اس طرح کا بنائیں کہ دنیا کے مظلوم اللہ سے دعائیں کرکے تمہیں مانگیں۔ یااللہ اپنا کوئی ولی بھیج، ہمارے لیے کوئی مددگار بھیج۔
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ، ”ایک بادشاہ نے ایک بچے کو اس وجہ سے منتخب کیا تھا کہ یہ بہت ذہین ہے، بڑا سمجھ دار ہے۔ اس کو میں اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے تیار کروں گا، میں اسے جادوگر بناﺅں گا، جس کی وجہ سے میں عوام کو ڈرا کر رکھتا ہوں“۔ حکومتوں کے پاس عوام کو ڈرانے کے لیے کچھ اوچھے ہتھکنڈے ہوتے ہیں۔ اس بادشاہ نے بھی وہ بچہ اس طرح استعمال کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ اس نوجوان کو وہ بادشاہ بوڑھے جادوگر کے پاس بھیجتا ہے، وہ داو پیچ سیکھتا ہے۔ روزانہ آتا جاتا رہا۔ ایک دن ایک بزرگ سامنے سے ملا، کہا: بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ فلاں فلاں جگہ پر جادو سیکھ رہا ہوں۔ اس بزرگ نے بتایا جو تو سیکھ رہا ہے یہ کفر ہے، اسلام میں بھی ممنوع ہے۔ اسلام نے جادوگر کی سزا مقرر کی ہوئی ہے کہ تلوار سے اس کی گردن اڑائی جائے گی۔ جادو کرنے اور کروانے والا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ، ”جو کسی کاہن کے پاس جاتا ہے اور اس سے غیب کی خبریں معلوم کرکے اس کی بات کو سچ سمجھ لیتا ہے، تو اس انسان نے اس چیز کا انکار کیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا۔ وہ دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر بیٹھتا ہے“۔
اس نوجوان سے بزرگ نے کہا کہ بیٹا جو آپ سیکھ رہے ہو یہ کفر ہے۔ انہوں نے ایمان کی دعوت بچے کو پیش کی، بچہ چلا گیا۔ اگلے روز سے وہ جادو بھی سیکھتا اور اس بزرگ سے ایمان کی دعوت بھی سیکھتا رہا۔ حتیٰ کہ ایک روز اسے جائزہ لینے کا موقع ملا کہ کسی جانور نے رستہ بلاک کیا ہوا ہے، اس نے سوچا آج میرا امتحان ہے۔ اس نے جادو کے ذریعے سے اس جانور کو قابو کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوا۔ پھر اس نے چھوٹا سا پتھر پکڑا اور اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ اگر وہ ایمان والا بندہ سچا ہے تو اس جانور کو دور کر دے، نوجوان نے پتھر مارا اور وہ جانور وہیں ڈھیر ہوگیا ۔ وہاں موجود لوگوں میں اس کا بڑا چرچا ہوا کہ یہ تو بڑا پہنچا ہوا ہے۔ بادشاہ کا وزیر اس کے پاس آ کر کہتا ہے، سنا ہے تو بہت پہنچا ہوا انسان ہے، تو مجھے آنکھیں دے دیں کیوں کہ میں نابینا ہوں۔ اس نے کہا یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ مالک الملک ٹھیک کرتا ہے میں صرف دعا کرتا ہوں۔ نوجوان نے کہا کہ مجھ سے وعدہ کر اگر تو ٹھیک ہوگیا تو مسلمان ہو جانا اور اس بادشاہ کو چھوڑ دینا۔
اللہ کو بڑی شرم آتی ہے کہ جب بندہ اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھا ئے اور اللہ ہاتھ خالی لوٹا دے۔ اب اس بچے نے اللہ کے سامنے ہاتھ اٹھایا کہ یا اللہ تو نے ’کن‘ کہنا ہے تو اس بندے کی آنکھیں ٹھیک ہو سکتی ہیں۔ اس بچے نے گڑگڑا کر دعائیں کی اور اس وزیر کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں۔ وہ جب بادشاہ کے پاس گیا، وہ حیرت زدہ ہوگیا کہ تیری آنکھیں کیسے ٹھیک ہوئیں؟ وزیر نے کہا کہ میرے رب نے ٹھیک کی ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا کیا میرے علاوہ بھی کوئی رب ہے؟ وزیر نے کہا وہ رب ہم سب کا رب ہے۔ بادشاہ نے جلاد کے ذریعے پٹائی کروائی، وزیر نے بتایا کہ یہ اس بچے نے مجھے تعلیم دی ہے، جسے تو جادوگر بنا رہا ہے۔ اس بچے کو پکڑ کر لے آئے اور خوب مارا پیٹا کہ بتاو بچے تجھے کس نے بتایا، بچے نے اس بزرگ کا نام بتایا، بادشاہ کے حواری اسے بھی اٹھا لائے۔ بادشاہ نے بزرگ سے کہا مجھے رب مان لے ورنہ آرے کے ساتھ دو ٹکڑے کر دوں گا۔ اب سوچیں بندے کے سر پر آرے کے دندان رکھے ہوئے ہیں، مگر اس بابے نے بادشاہ کو رب نہیں مانا اور اسے دوٹکڑے کر کے چیر دیا گیا۔
اب وزیر کو بھی کہا کہ مجھے دوبارہ رب مان لو مگر وہ نہ مانا، حتیٰ کہ اسے بھی دو ٹکڑے کر دیے۔ اب بچے کو بھی ڈرایا دھمکایا کہ تجھے بھی قتل کر دیں گے۔ بادشاہ نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اسے اونچی پہاڑی پر لے جاو اور اگر نہ مانے تو نیچے گرا دینا۔ بچے نے وہاں جا کر دعا کی اس کے فوجی اسے گرانے ہی والے تھے کہ زلزلہ آیا اور فوجی نیچے گر کر مرگئے اور بچہ بچ گیا۔ وہ بچہ بادشاہ کے دربار میں آ گیا اور کہا کہ تمہارے فوجیوں کو میرے اور تیرے رب نے مار دیا ہے اور مجھے بچا لیا گیا ہے۔ بادشاہ نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ اسے باندھو اور سمندر میں پھینک دو۔ اسے کشتی کے ساتھ باندھا گیا، اس نوجوان نے پھر گڑگڑا کر دعا کی، کشتی بھنور میں پھنسی اور سارے فوجی گرگئے اور مرگئے۔ بچہ پھر واپس بادشاہ کے دربار میں آیا اور کہا کہ میرے اور تیرے رب نے مجھے بچا لیا ہے اور تیرے فوجیوں کو مار دیا ہے۔
بچے نے کہا اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے تو ایک بڑا مجمع اکٹھا کر پھر میں تجھے بتاوں گا۔ اگلا دن ہوا عوام جمع ہو گئے۔ بچے نے کہا یہ تیر پکڑ اور میرے رب کا نام لے کر مجھے مار، بادشاہ نے تیر بچے کے سینے میں بچے کے رب کا نام لے کر مارا، خون بہنے لگا اور بچہ شہید ہو گیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ اس مجمعے میں سے ستر ہزار سے زیادہ افراد مسلمان ہوگئے۔ بادشاہ بہت پریشان ہوا کہ ہم تو ایک مسلمان مار رہے تھے، مگر یہاں تو ہزاروں کی تعدادمیں مسلمان ہوگئے۔ بلا شبہ اللہ کہتا ہے کہ ان کے ولیوں کے لیے دنیا و آخرت میں خوش خبریاں ہیں، شرط یہ ہے کہ ایمان والے بن کر دکھاو۔ خود کو اس طرح کا بناو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں بھی اس بچے کی طرح دعائیں قبول فرمائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top