Tuesday, October 20, 2020
Home Trending تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، آمنہ مسعود جنجوعہ

تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، آمنہ مسعود جنجوعہ

amna-masood-janjoaکراچی،         ڈیفنس آف ہیومن رائٹس پاکستان کی چیر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے لاپتہ افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، بحال کیا جائے اور معاوضہ دیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن پر دستخط کر کے نافذ کیا جائے۔ پاکستان دنیا کی وہ انوکھی مملکت ہے جس نے پچھلے تین سال میں جبری گمشدگی کو قانونی درجہ دینے اور مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے دو علیحدہ علیحدہ قانون بنائے ہیں۔ یہ قوانین صریحا اس بین الاقوامی ضمیر اور سوچ کے خلاف ہے جس کا اظہار جبری گمشدگی کے خلاف کنونشن میں کیا گیا ہے۔ڈی ایچ آر ابتک شکایت کنندہ خاندانوں کی رضا مندی سے جبری گمشدگی کے 2060 کیس درج کر کے حکام کو بھجوا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی حقیقی تعداد دس ہزار سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ ہمارے پاس بہت سے ایسے خاندان بھی شکایت لے کر پہنچتے ہیں جو نتایج کے خوف سے اپنی شکایت پولیس یا عدالت کے پاس لے جانے سے گھبراتے ہیں۔ ڈی ایچ آر کے پاس درج شدہ کیسوں کے علاوہ حکام اب تک 2500 سے زاید لاپتہ افراد کے نام عدالتوں کے سامنے لانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان ظاہر شدہ افراد کے حالات مکمل لاپتہ افراد سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں کیونکہ یہ لوگ عدالتوں اور سول انتظامیہ کی پہنچ سے دور قبایلی علاقوں میں قایم قلعوں میں قید ہیں۔ پچھلے کچھہ عرصہ میں بہت سے لاشیں ان قید خانوں سے ورثا تک پہنچی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام لوگوں کو ماورائے عدالت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے

۔ ڈی ایچ آر کے علم میں اب تک ایسی اموات کے 94 واقعات آ چکے ہیں۔ یہ ایمرجنسی کی صورت حال ہے اور پاکستانی اعلیٰ عدلیہ اور اندرون ملک اور بیرون ملک انسانی حقوق کے اداروں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ڈی ایچ آر لاپتہ افراد کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے پاکستان اعلیٰ عدلیہ کے کردار پہ اس کا بے حد شکر گزار ہے۔ جبکہ دوسری طرف یوں لگتا ہے کہ ریاست کا ہر ادارہ جبری گمشدگی کو ایک اہم ہتھیار کی شکل میں جاری رکھنا چاہتا ہے۔ فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری ڈھٹائی سے عدلیہ کی حکم عدولی میں جٹے ہوئے ہیں۔ اکثر سیاسی پارٹیاں دوغلا رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ سیاسی قایدین اگر حکومت سے باہر ہوں تو پوری قوت سے لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں مگر جیسے ہی ان کو اختیار ملتا ہے یہ لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے اس ملک میں ایک بھی شہری لاپتہ نہیں۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، امنیسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، جبری گمشدگی کے خلاف ایشین فیڈریشن اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ہمیشہ نہ صرف پاکستان بلکہ تمام دنیا سے جبری گمشدگی کے خاتمہ کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدر کی ضانت منظور

مزار قائد بے حرمی کیس میں اغو کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اب سٹی کورٹ ایک لاکھ روپے کت...

مصباح سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا ورک لوڈ کم کیا ہے:مانی

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پی ایس ایل اور پی سی بی تنازع کے...

چھاتی کا سرطان: کہیں آپ لاعلم تو نہیں؟

اینکرز کے کوٹ اور دوپٹوں پر لگی ’’پنک ربن‘‘ کا مقصد ناظرین کو ہر لمحہ ’’ ماہ اکتوبر: بریسٹ کینسر سے آگاہی...

کیپٹن (ر) صفدر گرفتار، سندھ حکومت نے لاتعلقی ظاہر کردی

اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا۔ مزار قائد کا تقدس پامال...