Sunday, January 24, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

ادارہ نورحق، سعید غنی کی سراج الحق سے ملاقات

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کی ادارہ نور حق آمد، امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات، ذرائع کے مطابق سعید غنی نے ملاقات میں...

سندھ حکومت کا شاپنگ مالز مالکان کےلئے بڑا فیصلہ

 سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، ہفتے بھر رات گئے تک تمام شاپنگ مالز کو کھلے رہنے کی اجازت، ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے...

مراد علی شاہ اور علی زیدی کے وزیراعظم کو خطوط

جمعہ کے روز کراچی انسفارمیشن پلان کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر علی زیدی کے مابین ہونےوالی تلخ کلامی...

شہر بھر میں 24 گھنٹے کےلئے سی این جی اسٹیشن کھل گئے

آٹھ دن کی بندش کے بعد سی این جی اسٹیشن اتوار کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک کھلے رہیں...

انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کلفٹن منتقلی ،عمارت میں بنیادی سہولتوں کا فقدان

courts-strikeکراچی،شہرقائد میں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو سکیورٹی خدشات کے باعث سندھ سیکریٹریٹ سے کلفٹن کے ایم سی ٹریننگ سینٹرز میں منتقل کردیا گیا ہے۔تاہم ان حساس عدالتوں کو منتقل تو کردیا گیا ہے لیکن اس عمارت میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ابتدائی طور پر کورٹ اسٹاف کے ساتھ سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا پبلک پراسیکوٹرز کو ہے جن کو تاحال کمرے فراہم نہیں کیے گئے ہیں اور تین دن تک وہ راہداری میںاپنے پیشہ وارانہ امور نمٹاتے رہے ۔تفصیلات کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث سندھ سیکرٹریٹ میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کو کلفٹن کے ایم سی ٹریننگ سینٹر میں منتقل کردیا گیا ہے ۔انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا قیام1997میں عمل لایا گیا تھا جس کا مقصد سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث مجرموں کا ٹرائل کرنا تھا ۔انسداد دہشت گردی کی یہ عدالتیں پورے ملک میں قائم کی گئیں اور دن بدن ان کے کردار میں اضافہ ہوتا گیا ۔سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث مجرموں کو لانے اور لے جانے میں سکیورٹی خدشات کے باعث ان عدالتوں کو جیل کے قریب رکھا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ آبادی سے بھی دور ہوں۔ کراچی کی انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو سیکیوریٹی وجوہات کی بنا پر منتقل تو کردیا گیا پر مسائل پہلے سے بھی بڑھ گئے ہیں۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا پبلک پراسیکیوٹرز کو ہے اور وہ ان عدالتوں کی منتقلی کے بعد 3دن تک راہداری میں اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے دورے کے بعد پراسیکوٹرز کو جگہ فراہم کی گئیں لیکن وہ مناسب نہیں ہیں جبکہ پانی اور دیگر بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان ہے۔اس ضمن میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ایڈوکیٹ شعاع النبی نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کو ملیر جیل اور سنٹرل جیل کے قریب ہونا چاہیے، جب یہ عدالتیں سندھ ہائی کورٹ کے قریب تھیں وکلاء کیلئے قریب ہونے کے باوجودہائی کورٹ کو دہشت گردی کا خطرہ لاحق رہتا تھا۔ انہوںنے کہا کہ اس طرح کی حساس عدالتوں کو آبادی سے دور رکھنا چاہیے۔ سینئر وکیل سندھ ہائی کورٹ ایڈوکیٹ ندیم شیخ نے کہا کہ ان عدالتوں کے باعث ان سے منسلک ہر فرد کو سکیورٹی مسائل درپیش ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل میں تجاویزبھی دی گئی ہیں۔ تاہم انسداد دہشتگردی کی عدالتوں موجود سٹاف ، وکلاء، اور ان عدالتوں کی قریب آبادی حکومت سے اپیل کر رہی ہے کہ جلد سے جلد سکیورٹی مسائل حل کیے جائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat