Thursday, October 22, 2020
Home کالم /فیچر ہم سے کوے بہتر (نورالہدیٰ شاہین)

ہم سے کوے بہتر (نورالہدیٰ شاہین)

716656-protests-1401748203-889-640x480کراچی کے صدربازارسے گزر رہا تھا۔میں نے دیکھا،بہت سارے لوگ کھڑے ایک اونچی بلڈنگ کی چھت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔گاڑیاں رکی ہوئی ہیں،ٹریفک مکمل جام ہے، جبکہ ٹریفک اہلکار بھی اپنی ڈیوٹی بھول کر ہجوم میں سب سے آگے کھڑا بلڈنگ کی چھت کی طرف دیکھ رہا ہے۔مجھے بھی بادل نخواستہ رکنا پڑا، موٹرسائیکل محفوظ جگہ کھڑی کر کہ آیا تو ہجوم بدستو رنگاہیں اس طرف جما کہ کھڑا تھا۔مجھے بھی تجسس ہوا کہ دیکھ لوں کیا تماشہ ہے۔اس وقت میں ہکا بکا رہ گیاجب میری نظر ایک کوے پر پڑی۔ جو چیختا چلاتا اپنی مخصوص زبان میں مدد کے لیے پکار رہا تھا۔سینکڑوں کی تعداد میں لوگ نیچے کھڑے کوے کی بے بسی پر قہقہے لگاتے رہے۔ سب اپنی اپنی جگہ کھڑے دیر تک اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ میں بھی ان بے حسوں میں شامل تھا جو نیچے کھڑے تماشہ دیکھ رہے تھے۔
قصہ یوں تھا کہ بلڈنگ کی چھت پر کسی سیاسی پارٹی کاجھنڈا لہرا رہا تھا۔پھٹا پرانا، کراچی کی نمکین ہوائیں لوہے کو بھی گلادیتی ہیں۔کچھ ایسا ہی حال اس جھنڈے کا تھا۔زمانے کی ستم ظریفی نے اس جھنڈے کو دھاگوں میں تبدیل کرکے جال بنایا دیا تھا۔ دھاگے ادھر ادھر لٹک رہے تھے۔ کوا کہیں سے اڑتا ہوا آکراس جال میں پھنس گیا۔کوشش کے با وجود وہ اپنے آپ کو اس جال سے چھڑا نہیں پایا تو اس نے چیخنا شروع کردیا۔ آس پاس کے کوے سارے اکھٹے ہوگئے۔ جھنڈے کو نوچنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ جھنڈا تار تارہوگیا،وہ کوے کو چھڑا کر اپنے ساتھ لے گئے۔

article-0-0F00D4EE00000578-102_468x312مجھ سمیت سب لوگ تماشہ دیکھ کر خوب لطف اندوز بھی ہوتے رہے اور اپنے قیمتی موبائل فون پر یہ منظر بھی محفوظ کرتے رہے۔ پھر ہنستے مسکراتے آہستہ آہستہ وہاں سے چل دیے۔جیسے کوئی سرکس دیکھ کر آرہے ہوں۔
کوے کے بعد انسان کی کہانی سنیے۔ میں بس میں بیٹھا دفتر جا رہاتھا،گرمی نہایت زوروں پر تھی۔ بس لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی، مجھ سے دو تیں سیٹ آگے کھڑا، ایک نوجوان اچانک بے ہوش ہوکر گرپڑا۔

کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ اس بیچارے کو اٹھا کر سیٹ پر بٹھاتے ، تھوڑا سا پانی پلاتے۔کافی دیر وہ اسی حالت میں پڑا رہا۔ آخر میں پیچھے سے اٹھ کر گیا۔ اس کو اٹھا کر اپنی سیٹ پرلاکر بٹھایا، آگے سٹاپ پر اس کو گاڑی سے اتار کرپانی پلایا، تب تک وہ مکمل طور پر ہوش میں آگیا تھا۔ اس کو وہاں چھوڑ کر دوسری بس میں جا بیٹھا۔

21562-bus_teeterx-1396888780-587-640x480قیوم آباد چورنگی پر اتر کر پیدل آگے بڑھ رہا تھا تو دیکھاایک عورت زمین پر لیٹی کروٹیں بدل رہی ہے۔بہت سارے لوگ کھڑے دیکھ رہے ہیں۔ پاس ہی رکشہ سٹینڈ بھی ہے۔ بڑی تعداد میں ڈرائیورحضرات بھی موجود ہیں۔ میں نے سوچا شاید کوئی بھکاری ، یا پھرکوئی کرتب دکھانے والی ہے۔مزید آگے بڑھ کر دیکھا تو کوئی سفید پوش عورت لگ رہی تھی۔ اپنے حلیے سے کم از کم بھکارن نہیں لگا رہی تھی۔ مجھ سے رہا نہ گیا، میں اس کے پاس گیا۔ میں نے قریب سے دیکھا ان کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا۔ارد گرد لوگ کھڑے دیکھ رہے تھے وہ بے چاری تڑپ رہی تھی، درد سے کراہ رہی تھی۔میں ان کے پاس بیٹھ گیا، پوچھا اماں کیا ہوا؟؟ ۔ بڑی مشکل سے وہ اتنا بول پائی کہ کار ٹکر مار کر چلی گئی ہے۔نہ کار والا رکا نہ ہی ارد گرد کھڑے لوگوں کو توفیق ہوئی کہ روڈ پر پڑی اماں کو اٹھا کر قریبی ہسپتال لے جاتے۔
حادثے سے بڑا سانحہ یہ ہوا        لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ کر
میں نے پاس ہی کھڑے رکشہ والے کو آواز دی، اماں کو اس میں بٹھا کر پاس ہی واقع سرسید ہسپتال لے گیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اماں کے موبائل سے ہی ان کے بیٹے کو فون کیا۔ چند لمحے بعد وہ پہنچ گئے۔ اماں کو ان کے حوالے کر کہ میں دفتر کی طرف چل پڑا۔
ظاہر ہے کافی دیر ہوگئی تھی۔باس کی خدمت میں پیش ہونا پڑا۔ ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کی غرض سے شروع سے آخر تک پوری کہانی سنا دی۔پھر کیا تھا،تدبیر الٹی ہوگئی، باس آگ بگولہ ہوگئے۔تم بڑے آئے انسانیت کی خدمت کے ٹھیکہ دار،نورالہدیٰ بن کر رہو، ایدھی بننے کے خواب دیکھنا چھوڑ دو۔ واپس اپنی نشست پرآبیٹھ کر دیر تک سوچتا رہاکہ ایک کوے کو مصیبت میں دیکھ کر سارے کوے بے چین ہوجاتے ہیں۔ دیوانہ وار مدد کے لئے کود جاتے ہیں، تو انسانوں کی مدد کا ٹھیکہ عبدالستار ایدھی، نعمت اللہ خان، رمضان چھیپا پا پھر سیلانی نے ہی کیوں اٹھا رکھا ہے۔اشرف المخلوقات کہلانے کے حقدار پھر صرف یہ چند لوگ ہی ٹھہر ے ؟؟؟ ۔ ہم اور آپ پھر کس کھاتے میں مجھے اس سوال کے جواب کی تلاش ہے۔ قارئین ! برائے مہربانی میری مدد کیجئے۔

nhshaheen26@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

صفدر کی گرفتاری، سندھ حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

کراچی، سندھ حکومت نے کیپٹن صفدر کی گرفتاری کی تحقیقات کرنے کے لئے سعید غنی کی سربراہی میں وزراء کی کمیٹی قائم...

آدھے گھنٹے میں فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق

کراچی، آدھے گھنٹے میں ٹارگٹ کلنگ کے تین واقعات میں تین افراد جاں بحق، شہر میں خوف وہراس پھیل گیا، ٹارگٹ...

گلشن اقبال 13 ڈی میں سلنڈر دھماکہ ، ایک شخص جاں بحق

کراچی، گلشن اقبال کے علاقے بلاک 13 ڈی میں ایک اور گیس سلنڈر دھماکہ ، ایک شخص جاں بحق ،ایک زخمی۔ ریسکیو...

مسکن دھماکہ، بینک انتظامیہ کےخلاف بھی مقدمہ

کراچی، مسکن چورنگی دھماکے کا دوسرا مقدمہ بینک انتظامیہ کےخلاف درج، مقدمے کے مدعی کے مطابق دھماکہ بینک انتظامیہ کی غفلت کے...