Thursday, October 29, 2020
Home خصوصی رپورٹس سانحہ بلدیہ اور انصاف (سید مطلوب حسین)

سانحہ بلدیہ اور انصاف (سید مطلوب حسین)

11pakistan-fireinkarachifactory_12-6-2014_167856_lستمبر 2012ءکو کراچی میِں قیامت صغری کا ایک اندوہناک واقعہ اس وقت پیش آیا، جب بلدیہ ٹاﺅن کی ایک فیکٹری میں پر اسرار طور پر آگ بھڑک اٹھی اور فیکٹری میں کام کرنے والے258افراد جل کر جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعہ کو قومی سانحہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ تاریخ کا بد ترین سانحہ تھا، جس کے دلخراش منظر آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔ ڈھائی سال بعد اس واقعہ کا ذکر ایک بار پھر ہوا تو لوگ یہ سن کر دنگ رہ گئے کہ 11ستمبر 2012 کو بلدیہ ٹاﺅن میں فیکٹری میں لگنے والی آگ کوئی حادثہ نہیں، بلکہ سنگین دہشت گردی کا واقعہ تھا۔ اس بات کا انکشاف سندھ ہائی کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کیس کی سماعت کے دوران کیا گےا۔ کیس کی سماعت سندھ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کی، جس میں رینجرز کے قانونی افسر نے ایک رپورٹ پیش کی،جس میں بتایا گیا کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران ملزم محمد رضوان قریشی نے جب یہ انکشاف کیا کہ فیکٹری کے مالک سے 20کروڑ روپے بھتہ طلب کیا گیا ، جسے نہ دینے پر اس نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔ رپورٹ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) نے مرتب کی تھی جسے ایک ایڈیشنل اٹارنی جج جنرل کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں اسسٹنٹ جج ایڈوکیٹ جنرل آف میجر اشفاق احمد کے بیان کے ساتھ جمع کرایا گیا۔
عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ نے ایک مرتبہ پھر واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کے زخموں کو تازہ کردیا ہے۔ اس رپورٹ سے معاشرے کے ہر طبقے میں سنسنی پھیل چکی ہے۔ کیا واقعہ میں ملوث ملزمان کو سزابھی مل پائے گی یا پھر اسے بھی سیاست کی نظر کردیا جائے گا۔ اس رپورٹ کے منظر عام پہ آنے کے بعد بہت سے سوالات ذہن میں جنم لے رہے ہیں، اگر ملزم 2013 میں ہی گرفتار ہوا اور اس نے تمام باتوں کا انکشاف کیا تھا تو 2 سال تک اسے کیوں دبایا گیا۔
Death Senctenceاب دیکھنا یہ ہوگا کہ تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے رپورٹ میں انکشاف ہونے والے واقعے میں شامل تمام کرداروں کو شامل تفتیش کرکے بے گناہ معصوم انسانوں کے خون کا حساب دیا جائے گا، ےا پھر ماضی کے دوسرے بڑے واقعات کے کیسوں کی طرح اس کیس کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے گا۔ اگر اس واقعے کو حادثہ بھی سمجھا جائے تو یہ اتنی آسان بات نہیں تھی جتنی آسانی کے ساتھ اسے نمٹا دیا گیا۔ اتنے بڑے حادثے میں کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرانا حکومت کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ایک ایسی فیکٹری جو بنیادوں اصولوں کے خلاف کام کر رہی تھی۔
آج بھی شہر میں جا بجا ایسی فیکٹریاں اور کارخانے قائم ہیں، جو فیکٹری ایکٹ کےخلاف چل رہے ہیں اور اگر کسی حادثے کے نتیجے میں ان فیکٹریوں میں سے کسی ایک فیکٹری میں خدانخواستہ دوبارہ آگ بھڑک اٹھی تو ایک مرتبہ پھر بلدیہ ٹاﺅن جیسا سانحہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ ان فیکٹریوں کے خلاف کاروائی کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ متعلقہ اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں ہزاروں ایسی فیکٹریاں اور کارخانے قائم ہیں، جہاں روزانہ لاکھوں مزدور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اور دیگر علاقوں میں فیکٹریاں بلندوبالا عمارتوں کے تہ خانوں میں قام ہیں یا پھر تنگ عمارتوں میں۔ اگر ان میں سے کسی ایک میں بھی کسی وجہ سے کوئی واقعہ رونما ہوجائے تو کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ ضروت اس امر کی ہے کہ کراچی سمیت ملک کے تمام چہروں میں قائم غیر محفوظ فیکٹریوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کیا جائے اور انہیں فوری طور پر سیل کرتے ہوئے محفوظ و متبادل فیکٹریاں قائم کروائی جائیں۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی جانے والی رپورت کا منطقی انجام کیا ہوگا۔ کیا 258 معصوم انسانوں کے خون کے ساتھ انصاف ہوگا ےا پھر۔۔۔۔۔؟
(بشکریہ جنگ)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

گلشن حدید فیز 2،گیس پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی

کراچی، گلشن حدید فیز 2 گیس کے پریشر میں کمی، تندور مافیا کی چاندی،اہل علاقہ کے مطابق تقریبا 10 روز سے...

گستاخانہ خاکے، کراچی بار کی سٹی کورٹ تا لائٹ ہائو س ریلی

کراچی ، فرانس میں گستاخانہ مواد کی اشاعت پرکراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے احتجاجی ریلی میں وکلاءکی بڑی تعداد نے...

لانڈھی پروسیسنگ زون میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا

کراچی:لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں فیکٹری میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا گیا، ریسکیو ذرائع کے مطابق ایکسپورٹ زون میں آگ...

کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک، دوسرا زخمی

کراچی:کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ، پولیس کے مطابق کورنگی کبڈی گراؤنڈ 2 ڈاکو اسلحہ کے زور پر لوٹ مارکررہے تھے ،ملزمان نے...