Monday, October 19, 2020
Home خاص خبریں مذہبی و سیاسی جماعتیں اسلامی نظریاتی کونسل کے کردارکووسعت دی جائے،مفتی محمدنعیم

اسلامی نظریاتی کونسل کے کردارکووسعت دی جائے،مفتی محمدنعیم

 Muhammad-Naeemجامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس شیخ الحدیث مفتی محمدنعیم نے اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے بیک وقت تین طلاقیں کوقابل سزاجرم قراردینے اوردیگرسفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح،گھریلوتنازعات کی روک تھام کےلئے مذکورہ سفارشات کوجلدازجلدقانون سازی ہونی چاہئے ، ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ملک سے فرقہ واریت کے خاتمے کےلئے ضروری ہے کہ جس طرح قانون سازی پارلیمنٹ کرتی ہے اسی طرح ملک وقوم سے وابستہ کسی بھی مسئلے کے شرعی نقطہ نظرکو بیان کرنے کی ذمہ داری اسلامی نظریاتی کونسل کوسونپی جائیںجس میںتمام مکاتب فکرکی یکساںنمائندگی ہو تاکہ تاکہ گلی گلی بیٹھے فرقہ واریت کوفروغ اور نام نہادمفتیوں کا سدباب ہوسکے۔
ان خیالات کااظہارانہوںنے پیرکوجامعہ بنوریہ عالمیہ میںسینئرصحافی مجاہدبریلوی ٹی وی انٹرویو کے دوران کیا۔مفتی محمدنعیم نے کہاکہ مدارس دینہ علوم نبویہ کی ترویج کے مراکز ہیں،مدارس کےخلاف پروپیگنڈہ اس لئے ہوتاہے کہ یہ مقدس ادارے ملک کے نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہے، اسلام کی ترویج سے خائف ہوکر کفریہ طاقتوں اوران کے ہمنواﺅوںنے ہر دور میں منفی پروپیگنڈوں سے مدارس کو نقصان پہچانے کی کوششیںکی ہیں اور اللہ نے مدارس کی حفاظت کی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاہے کہ گستاخانہ فلم کے خلاف دنیابھرمیںمظاہرے ہورہے ہیںلیکن اقوام متحدہ عالمی سطح پرتوہین مذاہب کے حوالے سے قانون سازی کی بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار ہے جومسلمانوںمیںاشتعال پھیلانے کاسبب بن ہیں۔ڈیڑھ ارب مسلمان اہل مغرب سے سوال کرتے ہیںکہ ایک غیرحقیقی واقعے ’ ’ہولو کوسٹ‘ ‘ پر سزااور اسلام ،شعائراسلام اورشان رسالتﷺ میںگستاخی پرخاموشی کیوںاختیارکرلی جاتی ہے ۔مفتی محمدنعیم نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حالیہ سفارشات کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ عرب ریاستوںکی مثالیں ہمارے سامنے ہے جہاںفرقہ واریت نام کی لڑائی کبھی سامنے نہیںکیونکہ وہاںکسی بھی ملکی وقومی ایشو حتی کہ افراد کے ذاتی مسائل کے شرعی حل اورشرعی نقطہ نظرریاست کی مقررکردہ کمیٹی جاری کرتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح پارلیمنٹ قانون سازی کرتی ہے اسی طرح ملک وقوم سے وابستہ کسی بھی مسئلے کے شرعی نقطہ نظرکو بیان کرنے کی ذمہ داری بھی ریاست کو ادا کر نی چاہئے جس کےلئے اسلامی نظیریاتی کونسل کے نام سے ادارہ توہے لیکن اس کا کام آج تک قوم کونظرنہیںآیا،اسلامی نظیریاتی کونسل کے اراکین مفت میںسرکار سے بھاری بھرکم مراعات لیتے ہیں اس لئے فتوی“ جاری کرنے کی ذمہ داری اس کونسل کے سپردکی جائے اوراس کےلئے باقاعدہ قانون سازی کی بھی جائے تاکہ نظریاتی کونسل کی سفارشات کوجلدازجلدقانونی شکل بھی دی جائے فتوی جاری کرنے کی ذمہ داری ریاست کوملی تواس سے یقینابہت سارے فروعی اختلافات ، لڑائی جھگڑوں اوردیگرمسائل کے ساتھ فرقہ واریت کے خاتمے میں مددگارومعاون ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular

کیپٹن صفدر کی ضانت منظور

مزار قائد بے حرمی کیس میں اغو کا مقدمہ درج ہونے کے بعد اب سٹی کورٹ ایک لاکھ روپے کت...

مصباح سے کوئی اختلاف نہیں، ان کا ورک لوڈ کم کیا ہے:مانی

جیو نیوز سے خصوصی گفتگو میں چئیرمین پی سی بی احسان مانی نے پی ایس ایل اور پی سی بی تنازع کے...

چھاتی کا سرطان: کہیں آپ لاعلم تو نہیں؟

اینکرز کے کوٹ اور دوپٹوں پر لگی ’’پنک ربن‘‘ کا مقصد ناظرین کو ہر لمحہ ’’ ماہ اکتوبر: بریسٹ کینسر سے آگاہی...

کیپٹن (ر) صفدر گرفتار، سندھ حکومت نے لاتعلقی ظاہر کردی

اکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو کراچی کے ہوٹل سے گرفتار کرلیا گیا۔ مزار قائد کا تقدس پامال...