برکت کیوں نہیں رہتی؟ (مفتی عبداللطیف)

islamرب تعالیٰ اپنے بندوں کو برکتوں سے نوازنا چاہتا ہے۔ ہر خیر والی چیز سے متعلق اسی لیے پروردگار نے واضح بتا دیا اور اس چیز سے بھی خبر دار کر دیا جو نقصان دہ ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی تعلیمات دی ہیں کہ وہ تھوڑا سامال جو انسان کے گزارے کے لیے کافی ہو، وہ بہتر ہے۔ بہ نسبت اس مال کے زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال کر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دے۔
وہ بندہ کامیاب ہو گیا جو مسلمان بن کر زندگی بسر کرتا ہے اور اس کو اتنا دے دیا گیا ،جس سے اس کا گزارا ہوتا ہے ، جو اللہ نے اسے عطا کیا، اللہ نے اس کو قناعت بھی نصیب فرما دی، یہ بندہ کامیاب ہے۔ جس بندے نے اپنے گھر میں امن کے ساتھ صبح کی، اللہ نے اس کو عافیت دی، یہ اس کے لیے بڑا خیر والا معاملہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے گھر میں ایک دن کا کھانا ہو،  وہ سمجھے کہ اللہ نے ساری دنیا اکٹھی کر کے اس کے گھر میں داخل کر دی“۔
وہ انسان جو دنیا میں مسکین بن کر زندگی بسر کرتا ہے ،لیکن وہ اپنی آخرت پر نظر رکھتا ہے۔ یہ انسان بابرکت ہے، جس گھر میں ہو، جس معاشرے میں ہو، جس ملک میں ہو، جس محلے میں ہو، اس بندے کی وجہ سے پورے محلے میں اللہ تعالیٰ برکتیں نازل کرتا ہے۔ یہ پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ضمانت دی ہے۔ فرمایا ”مجھے تلاش کرنا ہو تو مجھے کمزور لوگوں میں تلاش کرنا“، ایسے افراد کی معاشرے میں قدر و اہمیت نہیں ہوتی، جن کی کوئی بات نہیں سنتا، صاحب ثروت اس بات کو سمجھ لیں کہ جو انھیں رزق ملتا ہے ،انہی کمزور لوگوں کی وجہ سے  ملتا ہے۔ جن کو اللہ نے چار پیسے دے دیے ہیں، امن سے دکان میں بیٹھے ہیں ، امن سکون سے منڈیوں میں بیٹھ کر دولت کما رہے ہیں، اللہ ان کی مدد کر رہا ہے، ان کو شکریہ ادا کرنا چاہیے، ان نیک لوگوں کا جن کی وجہ سے اللہ رب العزت ان کی مدد کر رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد ان کی عبادات،  نیکیوں کی وجہ سے کرتا ہے۔ اللہ اس امت کی مدد کرتا ہے اس امت کے نیک لوگوں کی وجہ سے۔ کبھی کبھار اگر آپ کے پاس کوئی دین کے کسی کام کے لیے ،یا کسی فلاحی منصوبے یا صدقہ جاریہ کے کسی کام کے لئے تعاون کی اپیل لے کر آجائے تو اس کا شکریہ ادا کیا کرو، نیکی کی جانب ترغیب دینے والوں کی وجہ سے اللہ تمہاری مدد کر رہا ہے۔  جب ان مسکینوں سے کوئی منہ موڑ لیتا ہے تو برکت، رحمت اور خیر روٹھ جاتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کبھی کھانا نہیں کھاتے تھے ،جب تک ان کے ساتھ کسی مسکین کو کھانا کھانے کے لیے نہ بٹھایا جاتا۔ وہ مضطرب ہو جاتے تھے۔ ہم بھی جس دن کسی مسکین کی مدد نہ کر سکیں، مسکین کو دیکھیں ، اللہ کے دین کی نصرت کرنے والے کے ساتھ کھڑے نہ ہوں اورہم بے چین ہو جائیں، بے قرار ہو جائیں تو تب سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں خیر و برکت کا عنصر پیدا کر دیا ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ کے سرداروں کے ساتھ بیٹھے ہیں ، ایک مسکین سا بندہ آنکھوں سے نابینا ہے اور ایک مسئلہ پوچھنے آیا، پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا آنا ایسے وقت میں  اچھا نہ لگا، کہ میں سرداروں کے ساتھ بیٹھا ہوں اور اس نے اسی وقت آنا تھا، تو اللہ نے اپنے پیارے پیغمبر پر سورة نازل فرما کر تنبیہ کر دی، (وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔۔ ( صرف اس لئے ) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا، تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا۔ یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائدہ پہنچاتی۔ (سورة عبس)
یہ دیکھیں قرآن ہے پیارے پیغمبر کو اللہ نے تنبیہ کی ہے۔ آج میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوں کچھ ڈیل کر رہا ہوں، کاروباری میرے ساتھ آ کر بیٹھے ہیں اور اچانک کوئی مسکین جب کچھ مانگنے، اللہ کے دین کی مدد کے لیے کچھ لینے آ جاتا ہے تو اس وقت اپنے دل کی کیفیت دیکھا کرو، اگر تو آپ خوش ہوتے ہیں کہ اللہ نے وہ انسان بھیج دیا جس کی وجہ سے مدداور برکت ہوتی ہے۔ کاروبار بھی بہتر ہو جائے گا، اس سے ڈیل بھی بہتر ہو جائے گی، یہ بیٹھے بیوپاری مجھے کچھ دے کر اٹھیں گے۔ اگر دل میں یہ جذبہ ہے تویہ دلیل اس بات کی ہے کہ آپ نے خیر کو سمجھ لیا ہے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہے تو اپنے عمل کا محاسبہ کریں۔
اب ان باتوں کا ذکر کرتے ہیں جن سے خیر و برکت ختم ہوتی ہے وہ ہیں انسان کے گناہ، جہاں گناہ ہوتے ہیں وہاں سے خیر و برکت اٹھ جاتی ہے۔پہلی چیزہے انسان کی بداعمالی،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے ( بہت ) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں(سورة روم)
دوسری چیز ہے کاروبار میں دھوکہ دینا، بات کو چھپانا،گاڑی بیچنی ہو تو اصل بات نہیں بتاتے، کوئی سودا کیا جائے تو اکثر غلط بیانی کرتے ہیں، اس وجہ سے بھی برکت ختم ہو جاتی ہے، ایسی تجارت  سے اللہ تعالیٰ برکت چھین لیتا ہے۔ پیسے زیادہ بھی آ گئے تو برکت نہیں ہو گی اس میں۔
تیسری چیز جھوٹ بولنے کے ساتھ ساتھ جھوٹی قسم بھی کھا لینا۔ چوتھی چیز یہ ہے کہ انسان اپنا مکان یا پلاٹ بیچ دے اور اس سے اس جیسی چیز میں خرچ نہ کرے،مطلب کہ پلاٹ یا مکان پیچ کر مکان یا پلاٹ نہ خریدا اور کوئی کاروبار کر لیا تو اس سے بھی برکت نہیں ہو گی۔ یہ انسان اس لائق ہے کہ اس کے اس کاروبار میں برکت نہ ہو۔ اس پر مختلف لوگوں نے اپنی رائے دی ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ اللہ نے تمہارا گھر سکون کی ایک جگہ بنائی تھی ، جس میں امن اور سکون تھا تم محفوظ تھے، تم نے وہ چھوڑ کر ایک ایسے کام کی طرف چلے گئے جس میں سکون ہے نہ امن، اس لیے تمہیں برکت نہیں ہو گی، یہ حدیث ہے۔
اسی طرح انسان کسی بے کار چیز کا صدقہ کرتا ہے تو نہ اس بندے میں برکت ہے اور اس کے مال میں برکت ہے۔ آج ہم استعمال شدہ اور ناکارہ چیزوں کا صدقہ کرتے ہیں۔ کوئی چیز پرانی ہو جائے تو اس کا صدقہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو کسی کے پاس صدقہ لینے بھیجا تو اس نے ایک مریل سی اونٹنی صدقہ کر دی (حالانکہ مذہب اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ انسان کی کسی بہتر چیز پر ہاتھ نہ رکھو کہ یہ ہی لے کر جانا ہے کیوں کہ اسے اختیار ہے وہ اپنی مرضی سے جو بھی دے) جب وہ پیارے پیغمبر کے پاس لاغر سی صدقے کی اونٹنی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم افسردہ سے ہو گئے کہ اس بندے کے پاس اتنا مال ہے اور اس نے یہ کمزور سی اونٹنی دے دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے بدعا نکلی کہ یا اللہ اس بندے کو بھی برکت نہ دے اور اس کے اونٹوں میں بھی برکت نہ دے (حالانکہ بدعا بہت کم دیا کرتے تھے) اور محدثین نے لکھا ہے کہ یہ بدعا قیامت تک کے لوگوں کے لیے ہے جو کوئی بے کار چیز صدقہ کرے۔ آج ہم سوچتے ہیں کہ اتنا زیادہ کماتے ہیں مگر برکت کیوں نہیں ؟ جب اس بندے کو علم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے ہیں تو وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور معافی مانگی کہ غلطی ہو گئی ہے اور پھر بڑی خوبصورت اونٹنی لے کر آیا جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ اسی طرح بارش بھی اللہ کی طرف سے برکت ہے۔ لوگ جب اپنے مالوں کی زکوٰة دینا بندکر دیں گے تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے رحمتیں، برکتیں اور بارش نازل کرنا بند کر دیں گے۔
ناپ تول میں کمی کرنا،اس گناہ کے مرتکب افراد بھی برکت سے محروم رہتے ہیں۔ ترازو میں ڈنڈی ماری جائے گی تو کمانے میں پریشانی آ ئے گی۔ حکمرانوں کی سختی مسلط کر دی جائے گی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں جہاں شرک اور کفرموجود تھا وہاں وہ قوم ناپ تول میں کمی کی مرتکب ہو گئی تھی، جس وجہ سے وہ تباہ برباد ہو گئی۔ آج بھی معاشرے میں ناپ تول میں کمی کی جاتی ہے،  ناپ اور تول دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ آج دیکھیں پٹرول، دودھ اور عام خورد و نوش کی چیزیں کیا ہمیں پوری پورے وزن میں ملتی ہیں؟  رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پچھلے کا معاملہ پچھلے پر ہے تم وزن پورا کر کے فروخت کرو۔ اگر یہ سب کچھ نہیں کرو گے تو پھر قحط سالی ہو گی۔ مہنگائی، مشقت اور حکمرانوں کا ظلم تم پر عام ہو جائے گا۔
تقدیر پر راضی نہ ہونا بھی بے برکتی کے اسباب میں سے اہم ہے، اللہ تعالیٰ مال کے ذریعے اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ جو بندہ اللہ کے دیے ہوئے تھوڑے سے مال پر راضی ہو گیا، اللہ کی تقسیم پر خوش ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت پیدا کر دے گا۔ اس تھوڑے مال کو بھی زیادہ کر دے گا۔ اس مال میں وسعت پیدا کر دے گا۔ کشادگی پیدا کردیتا ہے۔ جو اللہ کی تقسیم پر راضی نہ ہوا اللہ اس کے مال میں برکت ہی نہیں ڈالتا۔ اسی لیے جو اللہ نے دے دیا اس پر راضی ہونا چاہیے۔ اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو بے برکتی ہو گی۔ ہمیں ان چیزوں پر غور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جان و مال میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ان تمام اعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی برکات سے دور کرنے والے ہوں، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top