اسلام میں گدا گری (ملک نذیر اعوان)

beggar1دوپہر کاوقت تھا کہ اچانک میرے گھر کے گیٹ پر کسی نے زور سے بیل دی تو جونہی میں نے گیٹ کا دروازہ کھولا تو پھٹے پرانے کپڑوں میں ا یک فقیر مختلف قسم کی آوازیں لگا رہا تھا کہ اللہ پاک آپ کو سلامت رکھے اور آپ کی مشکلیں آسان کر دے تو میں نے فقیر کو پانچ کا سکہ تھمادیا مگر فقیر نے میرے ساتھ ناراضگی کا اظہار کیا میں بے بس تھا اس وقت میرے پاس ایک ہزار روپے کی چینج نہیں تھی لیکن فقیر اسی طرح زور زور سے صدائیں لگا رہا تھا پھر میں اندر آیا اور اپنے بھائی سے دس کا نوٹ لے کر فقیر کو دیا اور فقیر نے دعائیں دینا شروع کر دیں اور میں آج کل گھر میں ہوتا ہوں سارا دن یہ سین لگے رہتے ہیں کبھی کوئی فقیر آرہا ہے اور بعض اوقات کوئی خواجہ سرائوں کا گروہ آرہا ہے۔
میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ میرے دروازے میں جو سائل آئے اس کو خالی ہاتھ واپس نہ کروں جو حسب توفیق ہو اس کو خوش کر دوں چونکہ اسلام میں بھیک ماگناسخت منع ہے مگر یہ لوگ اپنے ہاتھ سے ردزی کمانا عار محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے پیارے آقاﷺ کی احادیث مبارکہ ہے جس کا ترجمعہ یہ ہے کہ حلال رززی کمانے والا اللہ پاک کا دوست ہوتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا ”تم میں سے ایک شخص لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتا اور اسے بیچ کر گزارا کرتا ہے۔ یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے وہ اسے دے یا انکار کرے “۔ ایک اور موقعے پر ارشاد فرمایا ”آدمی ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پرکچھ گوشت نہ ہو گا (بحوالہ۔بخاری مسلم)

اسلام ہمیشہ محنت کی روزی پر زور دیتا ہے آپ لوگ روزانہ دیکھتے ہیں بازاروں میں،شارعوںاور خاص کر بزرگوں کے مزاروں کے باہربھکاری لوگوں نے ڈیرے جمائے ہوتے ہیں اورصحت مند،ہٹے کٹے جوان مرد اورعورتیں لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں اورانھوں نے اپنا ذریعہ معاش بنایا ہوا ہے۔ یہ معزور لوگوں کا بھی حق مارتے ہیں اکثر ان میں سے چند گروہ جاسوسی بھی کرتے ہیں اور روزانہ ہزاروں کے حساب سے یہ شہریوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ اگر آپ غلطی سے ان کی جھونپڑیوں یا محلوں میں چلے جائیں تو آپ کو ضروریات زندگی کی ہر چیز ملے گی۔ باقاعدہ ان کے بینک اکاﺅنٹس  ہیں اورہر روز یہ بھاری تعداد میں بینک میں رقم جمع کراتے  ہیں یہ لوگ ہاتھ سے روزی کمانا شرم محسوس کرتے ہیں۔

 

اسلام میں بلا ضرورت کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا سخت منع ہے۔ سرو ر کائنات رحمت دو عالمﷺ کا فرمان مبارک ہے ”جس نے محض مال جمع کرنے کی نیت سے لوگوں سے سوال کیا تو وہ انگارے جمع کررہا ہے “۔ اب چاہے وہ زیادہ جمع کرے یا کم کرے ۔ اسلام بنیادی طور پر کسب حلال کو ضروری قرار دیتا ہے۔ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے کار اور مست پڑے رہنے والوں سے بہت ناراضگی کا اظہار فرماتے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ فر ماتے تھے کہ ”کوئی شخص حلال روزی سے دور رہ کر گھر میں نہ بیٹھے اور اللہ سے دعا کرے کہ اللہ مجھے حلال طریقے سے روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے“۔

 

اسلام ہمیشہ محنت کی روزی پر زور دیتا ہے ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ ”اگر کوئی شخص پودا لگاتا ہے یا اپنی کھیتی میں بیج بوتا ہے اور پھر اس کا پھل کوئی انسان، پرندہ، چوپائیہ کھاتا ہے تو یہ بھی اس کا صدقہ خیرات ہے“۔ ایک اور حدیث میں ہے جو شخص شام کو مزدوری کر کے تھکا ہوا آتا ہے وہ اس حالت میں رات گزارتا ہے تو اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔ معاشرے سے اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر اجتماعی کوشش کرنی ہے اورجو لوگ حقیقی ضرورت مند ہیں ان کی مدد کرنی چاہیے اور ہمیشہ کے لیے اس کا معاشرے سے خاتمہ کرنا ہو گا تاکہ امت مسلمہ کی عزت و عظمت کا تحفظ برقرار رکھا جائے اور ہمیشہ کے لیے گداگری کا خاتمہ کیا جائے ۔ اللہ پاک پوری امت مسلمہ کو ہدایت نصیب فرمائے کہ وہ گداگری کی اس بری رسم کو درست اقدامات کے ذریعے سے نمٹا سکیں، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Top