Sunday, January 24, 2021
"]
- Advertisment -

مقبول ترین

ادارہ نورحق، سعید غنی کی سراج الحق سے ملاقات

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کی ادارہ نور حق آمد، امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات، ذرائع کے مطابق سعید غنی نے ملاقات میں...

سندھ حکومت کا شاپنگ مالز مالکان کےلئے بڑا فیصلہ

 سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، ہفتے بھر رات گئے تک تمام شاپنگ مالز کو کھلے رہنے کی اجازت، ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے...

مراد علی شاہ اور علی زیدی کے وزیراعظم کو خطوط

جمعہ کے روز کراچی انسفارمیشن پلان کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر علی زیدی کے مابین ہونےوالی تلخ کلامی...

شہر بھر میں 24 گھنٹے کےلئے سی این جی اسٹیشن کھل گئے

آٹھ دن کی بندش کے بعد سی این جی اسٹیشن اتوار کی صبح 8 بجے سے پیر کی صبح 8 بجے تک کھلے رہیں...

اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا کراچی میں بسنے والے بنگالی

کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں بسنے والے بنگالی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ ابھی فیصلہ نہیں ہو سکا کہ یہ کون ہیں، پاکستانی، بنگلہ دیشی یا برمی۔

ایک رپورٹ کے مطابق قیام پاکستان کے بعد کراچی میں تین لاکھ بنگالی آباد تھے۔ وقت بدلا اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد یہ تعداد گھٹتی اور پھر بڑھتی رہی۔ اب ایک اندازے کے مطابق، کراچی کی 105مختلف کالونیوں میں تقریباً دو لاکھ تک بنگالی رہائش پذیر ہیں۔

ان میں سب سے مشہور بنگالی آبادیاں اورنگی ٹاؤن، ابراہیم حیدری، بلال کالونی (مچھر کالونی) ضیاالحق کالونی، موسیٰ کالونی اور لیاری کا بنگالی پاڑہ ہیں۔

مچھر کالونی اور شناخت کے منتظر بنگالی آبادی

مچھر کالونی کراچی کی قدیم اور اب سب سے بڑی کچی آبادی ہے۔ نہیں معلوم کہ ’مچھر کالونی‘ کا نام مچھروں کی بہتات سے پڑا، یا یہ مچھیرے کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ 30 کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل کالونی میں 60 فیصد سے زیادہ حصے پر بنگالی اور برمی آباد ہیں۔ کالونی میں آپ کا استقبال گندے پانی کی بو اور تعفن سے ہوتا ہے۔

پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق 2017 کی مردم شماری کے مطابق یہاں سوا لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔ ساحلی پٹی سے جڑے ہونے کی وجہ سے آبادی کا زیادہ تر روزگار، ماہی گیری، کشتی بانی، مچھلی اور جھینگے کی صفائی سے جڑا ہوا ہے۔ جس کی باس ہی یہاں کی خصوصیت ہے۔

000_19613S.jpg

کراچی میں بنگالی تارکین وطن کے ایک محلے کی دکان۔ (اے ایف پی)

یہاں بجلی، گیس اور پانی جیسی بنیادی ضروریات کا فقدان، روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کالونی کے داخلی دروازے کے ساتھ ماہی گیری کی صنعت سے جڑے کارخانے، کیچڑ، گندگی کے پہاڑ اور گندے پانی کے جوہڑ عام ہیں۔ یہاں آپ کو غربت، بیروزگاری اور نوجوانوں کے بے رونق اور بے یقین چہرے نظر آتے ہیں۔ بے لباس چھوٹے بچے گلی میں مٹی سے کھیل کر اپنا حال گزار رہے ہیں۔ بڑوں کا ماضی بھی کم و پیش ایسا ہی گزارا تھا۔ اور مستقبل کی کسے فکر ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تعلیم اور بنیادی صحت کے حصول کے لیے ہر حوصلہ مند گھرانے کو کالونی سے باہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ دواخانے یا ڈاکٹر تک رسائی آبادی کے بہت ہی کم حصے کو حاصل ہے۔ ایک نجی ادارے ’امکان‘ نے دو سال پہلے خواتین اور بچوں کے لیے صحت کی بنیادی سہولت پہچانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

اس کالونی کا المیہ یہ ہے کہ یہاں بنیادی ضرورتوں سے بھی بڑا ’شناخت‘ کا مسئلہ ہے۔ یہاں کی اکثریت ’بے زمین اور بے وطن‘ تسلیم کی جاتی ہے۔ ابھی یہ مسئلہ حل ہونا باقی ہے کہ یہ ہیں کون، پاکستانی، بنگالی یا برمی؟

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Open chat